Tuesday, 21 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Molana Fazal Ur Rehman: Ab Waqt e Retirement Hai?

Molana Fazal Ur Rehman: Ab Waqt e Retirement Hai?

مولانا فضل الرحمٰن: اب وقتِ ریٹائرمنٹ ہے؟

معذرت کے ساتھ، مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کچھ عرصے سے شدید تضادات کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حالیہ اندازِ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عوامی پذیرائی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے سہاروں کی تلاش میں ہیں۔

اگرچہ اس جمود کا آغاز پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے غیر مستحکم اتحاد اور نظریاتی لچک سے ہی ہوگیا تھا، تاہم انہوں نے ایک عرصے تک اپنے روایتی فنِ خطابت کے بل بوتے پر معاملہ سنبھالے رکھا۔ لیکن اب ان کے حالیہ عوامی اجتماعات کے خطابات، الفاظ کا انتخاب اور جذبات کا اظہار نہ صرف قومی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آ رہا ہے، بلکہ ان کی اپنی اندرونی سیاسی بے چینی اور اضطراب کو بھی واضح کر رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا اپنے مخصوص مکتبہ فکرکے واحد اور مضبوط ترین سیاسی سہارا ہیں، لیکن ماضی میں دیگر مکتبہ فکر اور آزاد حلقوں سے انہیں جو وسیع حمایت حاصل ہوتی تھی، وہ اب ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

مولانا کی ایک پہچان یہ بھی تھی کہ وہ ایک جمہوریت پسند عالمِ دین ہیں، مگر پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی مسلسل قربت، دوری، شدید تنقید اور پھر تذبذب نے ان کی سیاست کو جمہوری ہچکولوں کا شکار کر دیا ہے۔ اس غیر مستحکم رویے سے ان کا وہ ووٹ بینک ہل کر رہ گیا ہے جو خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر قائم تھا۔ پی ٹی آئی سے کچھ حاصل ہونے کے بجائے، اب صورتِ حال یہ نظر آتی ہے کہ وہ محض اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

پنجاب میں ان کی خالص مذہبی و نظریاتی ساکھ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہوں نے حکومت کی جانب سے ائمہ مساجد کے لیے مختص کیے گئے وظائف کی مخالفت کی۔ اس سے ان پر یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہیے تھی کہ مذہبی حلقوں کے لیے مادی وسائل محض ان کی اجارہ داری نہیں بلکہ سب کی ضرورت ہیں اور اس معاملے پر ردِعمل کھل کر سامنے آ چکا ہے۔

مولانا کم از کم عوامی نمائندگی کرتے ہوئے اس لیے بھی دکھائی نہیں دیتے کہ فوج کے شہداء کسی ایک گروہ کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہداء ہوتے ہیں، انہیں کسی بھی صورت سیاسی رنگ نہیں دیا جا سکتا۔ "میرے شہید اور تیرے شہید" کا تنازع کھڑا کرنے اور پاک فوج کی شہادتوں پر طعنہ زنی کرنے سے ان کا اپنا عوامی نمائندگی کا بیانیہ انہی کے الفاظ کے نیچے دب کر رہ گیا ہے۔

خود کو قرآن و سنت کا طالب علم کہنے والے رہنما کی جانب سے شہادتوں کو اپنی سیاست زندہ رکھنے کے لیے استعمال کرنا شدید بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس نے ان کی طویل سیاسی تاریخ اور قد کاٹھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بھی اب انہیں کوئی سیاسی فائدہ دینے سے قاصر ہو چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 2025 کے بعد پاک فوج کے کردار کو دنیا جس توقیر اور متاثر کن نظر سے دیکھ رہی ہے، اس کے سامنے مولانا کا کارگل جیسے حساس موضوعات کو چھیڑنا اور سابقہ اسٹیبلشمنٹ (جس سے وہ خود بھی ماضی میں سہولیات لیتے رہے ہیں) سے موازنہ کرنا ان کی سیاسی بصیرت پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کو صرف اور صرف شخصی و سیاسی مفادات کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، آج کے اور ماضی کے انتظامی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خواہ وہ جیلوں کی صورتِ حال ہو یا مریدکے کا آپریشن، یہ تمام واقعات گہرے اسباق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ نظام اب ماضی کی رعایتیں دینے کے موڈ میں نہیں۔

اگر مولانا اپنی کھوئی ہوئی پذیرائی واپس حاصل کرنے کے لیے یہ جارحانہ بیانیہ اپنا رہے ہیں، تو شاید انہیں عارضی فائدہ پہنچے، جیسا کہ عمران خان کو ہوا، لیکن اس کی سیاسی قیمت انتہائی بااثر اور مہنگی ہو سکتی ہے، جس کا نظارہ عمران خان کے موجودہ حالات سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، اگر مولانا کا خیال ہے کہ وہ اس بیانیے سے عمران خان کے مقبول ووٹ بینک میں نقب لگا لیں گے، تو یہ ممکن نہیں۔ اس کی ایک کوشش پچھلے عام انتخابات میں بلاول بھٹو بھی کر چکے ہیں لیکن بری طرح ناکام رہے۔ اس وقت پنجاب میں عوامی پذیرائی کو کارکردگی سے جوڑنے کا کام مریم نواز کر رہی ہیں، جہاں جذبات کے بجائے صنفِ نازک اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ اس عملی سیاست نے مذہبی و جذباتی بیانیوں کی گونج کو کافی حد تک سرد خانے میں دھکیل دیا ہے۔

دوسری جانب، پارلیمان میں وزیر اعظم کی طرف سے مولانا کی باتوں کو "راز رکھ کر قبر میں لے جانے" کے بیان اور احسان نے مولانا کے کاندھوں پر وہ بوجھ ڈال دیا ہے جسے اتارے بغیر آگے بڑھنا سنجیدہ حلقوں میں ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔

اگر مولانا کو واقعی عوامی نمائندہ ہونے کا دعویٰ ہے تو اب یہ ان کی اخلاقی و سیاسی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود اپنے ان رازوں سے عوام کو آگاہ کریں۔ مزید برآں، مولانا طاہر اشرفی کی جانب سے ان رازوں کو عام کرنے کے لیے مناظرے کے چیلنج نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور ان اشاروں کا جواب دینا اب ان کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔

مجموعی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو مولانا کی موجودہ حکمتِ عملی ان کے طویل سیاسی سفر کے اختتام کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اگر انہوں نے اپنے بیانیے اور رویے پر ازسرِ نو غور نہ کیا اور باوقار ریٹائرمنٹ کا راستہ نہ چنا، تو عوامی ردِعمل اور بدلتے سیاسی حالات انہیں زبردستی سیاست کے دھارے سے باہر کرنے پر مجبور کر دیں گے۔

Check Also

Main Ne Khuda Ko Dekha

By Fazal Tanha Gharshin