بے رحم فطرت

دنیا کے نقشہ پر ایک ریاست ایسی بھی ہے جس کا آبادی کے لحاظ سے93 نواں نمبر ہے، اس کا رقبہ ارض وطن کے جڑواں شہروں کے برابر ہے، ورلڈ اکانومی میں سودی نظام متعارف کروانے والی یہ پہلی ریاست مانی جاتی ہے، اس کو آباد کرنے کا سہر ا ان سامراجی طاقتوں کے سر جنہیں انیسویں صدی میں سپر پاور کا مرتبہ حاصل تھا، اس ریاست کے بارے میں تحقیق کرنے والے ڈاکٹر اسٹیفن کہتے ہیں، اس قوم کی مائیں بچوں کو جنم دینے سے پہلے انہیں ذہین اور فطین بنانے کی کاوش کرتی ہیں نسل نو کو بتایا جاتاہے کہ آپ نے دنیا پر حکومت کرنی ہے ان میں صلاحیت، قابلیت، اعتمادپیدا کرنے کے لئے تمام تر وسائل صرف کئے جاتے ہیں بالغ ہوتے ہی انہیں تیر اندازی سکھائی جاتی ہے، ان میں شطرنج کھیلنے کا شوق پیدا کیا جاتا ہے، ہایکنگ کا ذوق بھی پیدا کیا جاتا ہے۔
اس ریاست میں ڈگری صرف اُسی طالب علم یا طالبہ کو ملتی ہے جو دس ہزار ڈالر کے بزنس کا آئیڈیا لے کر آتا ہے، نسل نو میں ملازمت کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے انہیں اپنا کاروبار کرنیکی ترغیب دی جاتی ہے، دنیا کی اس ریاست میں لازم ہے کہ خواتین سرکاری سروس میں شریک ہوں، مردو خواتین کے لئے فوجی ٹریننگ لازمی ہے، دنیا کی بہترین جامعات اس ریاست میں موجود ہیں، تحقیق کے لئے اعلی ترین ادارے بھی یہاں پائے جاتے ہیں، جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا میں اس ملک کا تیسرا نمبر ہے۔
نوے فیصد سے زائد اناج یہ ریاست خود پیدا کرتی ہے، زراعت میں سب سے پہلے اس نے ڈریپ آبپاشی کا تصور دیا تھا، میڈیا اور بیکنگ کی دنیا میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے، سورج کی کرنوں سے مستفید ہونے والا یہ پہلا ملک تھاسب سے زیادہ فائدہ سولر انرجی سے اسی نے اٹھا یا ہے، مشرق وسطیٰ میں غیر اعلانیہ واحد ایٹمی ریاست ہے، دنیا کا تیسرا بڑا دفاعی نظام یہی ریاست رکھتی ہے، یک ایوانی پارلیمانی نظام اس میں موجود ہے، دنیا کی ہر دوسری کمپنی میں اس کی سرمایہ کاری ہے کہا جاتا ہے، اس ریاست میں سودی کاروبار نہیں ہوتا دنیا میں فحاشی پھیلانے کی ابتداء بھی یہاں سے ہوئی مگر مخلوط مذہبی عبادت انکے ہاں ممنوع ہے۔
مسلم دنیاسے اس ریاست کاتقابلی جائزہ لیا جائے تو یہود قوم ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر اس ریاست نے تمام ہمسایہ اسلامی ملکوں کے ناک میں دم رکھا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے امت مسلمہ کو تگنی کا ناچ یہ نچا رہی ہے تو بے جا نہ ہوگا، جن جن مسلم ریاستوں سے اس کو خطرہ تھا، آہستہ آہستہ اس نے انہیں معاشی اور دفاعی میدان میں صفر کر دیا۔ اس ناجائز ریاست کو اسرائیل کہا جاتا ہے، اس کے قیام میں اُس وقت کی سامراجی طاقتوں کا اگرکلیدی کردارتھا تو آج اسکی پشت پناہی بھی سپر پاور ہی کر رہی ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک چھوٹی سی ریاست نے دشمنوں کو کبھی ہلکا نہیں لیا، ہر میدان نے اپنی تیاری جاری رکھی، قریبی مسلم ریاست سے اسے کوئی خطرہ نہیں مگر ہر عرب ریاست اس سے خوف زدہ ہے، اپنے تحفظ کے احساس میں غلطاں عرب ممالک کے حکمرانوں نے Rent a state فلسفہ کے تحت انکل سام کو اپنے ممالک میں امریکی اڈے قائم کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے، اس کے بدلہ میں بھاری بھر سرمایہ امریکہ بہادر کو دیا جارہا ہے، عرب حکمران اس خوش فہمی میں ہیں کہ برا وقت آنے پر سپر پاور ان کا دفاع کریگی، حالیہ اسرائیل، ایران جنگ نے انکی غلط فہمی بھی دور کردی، عربوں کی سرزمین پر جب ایران نے مزائیل داغ دیئے، تحفظ کے نام پر قائم امریکی اڈے ان کے گلے کی ہڈی ثابت ہوئے۔
اپنی ریاستوں کے دفاع کا دوسروں پر انحصار کرنے والے عربوں کی نسل نو نے نئے نئے مشاغل پال رکھے ہیں، انکی بڑی دلچسپی مہنگی گاڑیوں کی خرید میں ہے، انہیں شکار سے ہی فرصت نہیں، شاہانہ زندگی گزارنا اب انکی پہچان ہے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اسرائیل کا ہر مرد اور خاتون فوجی ٹریننگ لے رہا ہے، سب سے زیادہ کتابیں یہاں شائع ہوتی ہیں، آئرن ڈوم بڑا دفاعی نظام اسرائیل کی ملکیت ہے، اہل عرب کی آزادی کا انحصار اب اسرائیل مزائیل کے ایک کلک پر ہے۔
عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی مزائیلوں کی بھر مار کرنے کے اس قدم کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی جاسکتی، مگر عرب ممالک نے بھی تو حد کردی ہے اس سپر پاور کو ہوائی اڈے دیئے ہیں، جسکی آشیر آباد سے غزہ میں ظلم روا رکھا گیا۔
انقلاب ایران کے بعد ایرانی حکومت بھی اپنے دفاعی نظام میں جدت نہیں لا سکی ہے، کہا جاتا ہے کہ آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی بنی صدر ایران میں جدت پسندی کے حامی تھے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وساطت سے ترقی اور خوش حالی کے آرزومند تھے مگر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اسی سماج سے پاسداران انقلاب سے لے کر ارباب اختیار تک نے ایٹم بم بنانے اور استعمال کرنے تک کے فتوے دے کر اس کو خلاف اسلام قرار دیا، جدید ائر فورس کی عدم موجودگی میں اسرائیلی اور امریکی طیارے ایران کی فضا میں کھلے بندوں ایسے گھوم رہے تھے جیسے دشمن کے جاسوس انکی سرزمین پر تھے، دفاعی اور سیاسی قیادت کا شہادت کے رتبہ پر فائز ہونا ایرانی قیادت کے سامنے بڑا سوال ہے جو انکے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
اسرائیل میں موجود قریباً 72 لاکھ یہودیوں کے سامنے 56 اسلامی ممالک کے حکمران بے بس اس لئے بھی ہیں، ایک تو اقوام متحدہ کی لاچارگی، ویٹو پاور کا غلط استعمال اور دوسرا اسرائیل کا کاروباری دنیا کا سرخیل ہونا بھی ہے، ہر شعبہ زندگی میں اس نے بے پناہ ترقی کی ہے، مذہبی کتابوں کی روشنی میں گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پر گامزن ہے، بھاری بھر مالی، مادی، افرادی وسائل رکھنے والے مسلم ممالک جسے امت وسط کہا گیا وہ اپنے تحفظ کے لئے سپر پاورز کی چھتری تلے پناہ چاہتی ہے۔
قدرت مہربان مگر فطرت بے رحم ہوتی ہے، عزت وقار بھی اسی مقدر ہوتا ہے، تو حالات کے مطابق اپنا لوہا منواتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات جب امت مسلمہ نے نظر انداز کردیئے کہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تلک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لائے تو پھر اسرائیل کی مرضی ہے کہ غزہ کے بچوں کی لاشوں پر فارسفورس بم پھینکے یا ہماری بلند و بالاعمارتوں کو کھنڈر بنائے۔ بقول اقبالؒ۔۔
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

