Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Agle Hadaf Ki Bazgasht

Agle Hadaf Ki Bazgasht

اگلے ہدف کی بازگشت

کسی طرف سے حملہ نہ ہونے کے باوجود اسرائیل کئی دہائیوں سے حالتِ جنگ میں ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو ہمسایہ ممالک پر نہ صرف حملے کرتا ہے بلکہ دور دراز ممالک یمن اور قطر کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔ حملوں کی وجہ دفاعی طاقت، جوہری ہتھیار اور امریکی سرپرستی حاصل ہونا ہے۔ یہ دفاعی تحقیقات میں خود بھی منفرد اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اِس کے پاس دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ خطے میں خوف کی علامت ہے اسی خوف سے کئی ممالک نہ صرف اِسے تسلیم کرچکے بلکہ مزید بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہے ہیں۔ یہ ملک نہ صرف ہمسایہ ممالک مصر، اُردن، شام اور لبنان سے علاقے بزور چھین چکا ہے بلکہ اِس کی فضائیہ جب چاہے اِن پر بمباری کرنے لگتی ہے۔ یہ خطے کا بدمعاش ہے اسی لیے خطرہ بننے کے بے بنیاد جواز پر بھی حملہ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ایران پر حملے کا بھی ایسا ہی جواز پیش کیا گیا اور اب امریکی مدد سے ایران میں تباہی و بربادی کی جارہی ہے لیکن ایران نے بھی توقعات سے زیادہ سخت ردِ عمل دیا ہے جس سے یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ کہیں امریکی اور اسرائیلی حملے اُنھی کی ساکھ کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے؟ کیونکہ ماضی کی طرح ایران کے خلاف جارحیت پر عالمی تائید و حمایت حاصل نہیں ہوسکی اب تو ٹرمپ جیسا شخص بھی ایران کے خلاف کاروائی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے اور اہداف حاصل ہونے کے بعد جنگ کے خاتمے کی بات کرنے لگا ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے اقوامِ عالم کیسے تلملاتی ہیں آئندہ چند روز میں پتہ چلے گا۔

ایران کے بعد اگلے ہدف کے طور پر اِشارہ پاکستان کی طرف کیا جانے لگا ہے جس پر عالمی برادری فکرمند ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیل نے جس طرح نسل کشی کی اور اب ایران پر چڑھ دوڑا ہے ایسا کچھ پاکستان کے خلاف ہوتا ہے تو ساری دنیا کے لیے صورتحال مخدوش ہونے کا اندیشہ ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔ اِس کی کئی ایک وجوہات ہیں، سب سے بڑی وجہ تو ایک طاقتور اور تجربہ کار فوج کا ہونا ہے۔ دوسرا پاکستان ایک تسلیم شدہ جوہری طاقت ہے۔ مزید اہم پہلو یہ کہ پاکستان کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کا عالمی برادری سے کوئی معاہدہ نہیں اِن حالات میں جارحیت کی حماقت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ ابھی گزشتہ برس ہی تو پاکستان نے خود سے آٹھ گُنا بڑے ملک بھارت کو روایتی لڑائی میں دھول چٹائی ہے اِس کے باوجود اسرائیل حملہ کرتا ہے تو اُسے ایسا دندان شکن جواب مل سکتا ہے جس کے بعد شاید کسی ملک پر حملہ کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہونے کی بازگشت غیر حقیقی لگتی ہے۔ البتہ ایسی باتیں دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوسکتی ہیں۔

اسرائیل کے سفاک اور بے رحم وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے انٹرویو کا ایک حصہ آجکل سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں اُس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اولیں ترجیح یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے شدت پسند اسلامی حکومتوں کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے، اِس کے لیے وہ پہلی ایران اور دوسری پاکستان کی مثال دیتے ہیں جس سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ اُن کے خیال میں پاکستان ایک شدت پسند اسلامی ریاست ہے جس کے جوہری ہتھیار اسرائیل کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اسی انٹرویو سے ایسی بحث کو تقویت ملی کہ ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے مگر یہ کہنا بہت آسان ہے لیکن عملی طور پر ناممکن ہے۔ ابھی تو امریکہ اور اسرائیل دونوں مل کر ایران پر ہی قابو نہیں پا سکے جو پاکستان کو نشانہ بن سکیں۔ دونوں باوجود کوشش آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شروع نہیں کرا سکے کہ اسرائیل کی جنونی قیادت پاکستان کو للکارنے کی ہمت کرے اسی لیے بہتر یہی ہے کہ احتیاط کا پہلو تو ہر گز نہ چھوڑ اجائے البتہ گیدڑ بھبکیوں کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان اور اسرائیل میں تعلقات نہیں اور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی سے ہی ایسے خدشات جنم لیتے ہیں کہ اُس کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔ کینیڈین یونیورسٹی کنکورڈیا میں عالمی تعلقات کے پروفیسر جولین اسپنسر چرچل نے بھی ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری پاکستان کی ہو سکتی ہے۔ اُن کے خیال میں پاکستان کی جوہری طاقت ختم کرنے کی حکمتِ عملی بن چکی اِس حوالے سے امریکہ بھی بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے پاس ایک اندازے کے مطابق دو سو کے قریب جوہری ہتھیار ہیں جبکہ اسرائیلی جوہری ہتھیاروں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔

اپنے مضمون میں چرچل کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کی دوستی محض دکھاوا ہے کیونکہ گزشتہ برس مئی کی جنگ میں بھارت کی شکست نے امریکہ اور اسرائیل کو باور کرا دیا ہے کہ بھارت اکیلا پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا لہٰذا پاکستان کو جوہری طاقت سے محروم کرنا ہے تو اسرائیل اور امریکہ کو بھارت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ایسی ہی پیش بندی کے طور پر پاکستان کے دوست چین کے لیے مسئلہ تائیوان اور یوکرین میں روس کے لیے مشکلات بڑھائی جارہی ہیں تاکہ یہ دونوں ممالک بووقتِ ضرورت پاکستان کی مدد کے قابل نہ رہیں، مگر کیا یہ سب کچھ اِتنا آسان ہے؟ نہیں۔ یہ ناممکن ہے اور امریکہ جیسا ملک کسی ناممکن کام میں اسرائیل کا مددگار نہیں ہو سکتا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکہ میں تقریب سے خطاب میں کہنا کہ کوئی ایسی ویسی حرکت ہوئی تو آدھی دنیا کو ساتھ لیکر جائیں گے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی ایسی کسی مُہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کا انتباہ دے چکے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف بھی کچھ ایسے ہی خیالات ظاہر کر چکے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت عالمی سازشوں سے باخبر ہونے کے ساتھ چوکس ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری طاقت ہے اُسے لبنان، شام، عراق یاایران تصور کرنا صرف بے وقوفی ہو سکتی ہے۔ بظاہر تو امریکی صدر ٹرمپ بھی ایسی کسی مُہم جوئی کی تردید کر چکے لیکن اگر اسرائیلی مُہم جوؤں کے دماغ میں پھر بھی حملے کا کیڑا کلبلا رہا ہے تو یاد رکھیں کہ تل ابیب سمیت اسرائیل کا کوئی گوشہ پاکستانی ہتھیاروں کی پہنچ سے دور نہیں بلکہ چند منٹوں میں تباہ کُن جوابی وار ہوسکتا ہے۔

اب جبکہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے اِس حد تک مفید ہے کہ اِس معاہدے کی رو سے سعودیہ کو جوہری چھتری مل چکی اور پاکستان بھی اسرائیل کے قریب ہوگیا ہے اِس معاہدے سے کئی اسرائیلی منصوبے ختم ہو ئے ہیں اور وہ خطے سے باہر کسی مُہم جوئی کے قابل ہی نہیں رہا۔

پاکستان میں سکیورٹی ذرائع نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک مستند جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کا میزائل پروگرام اعلیٰ درجے کا ہے اور مئی 2025 کو پاکستان اپنی طاقت کے بہت چھوٹے اظہار سے بھارت کو شکست فاش دے چکا ہے اس لئے اسرائیل اور کوئی دوسرا ملک کسی غلط فہمی میں نہ رہے اگر پاکستان کو چھیڑا گیا تو ایسے ملکوں کے لئے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

Check Also

Mazdoor Marta Hai

By Asad Ur Rehman Aasi