عوام اور حالات کے درمیان جنگ بندی کب ہوگی

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی یا ممکنہ صلح کی خبروں نے دنیا بھر میں ایک اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی منڈیوں نے سکون کا سانس لیا، تیل کی قیمتوں میں بے یقینی کم ہوئی، سرمایہ کاروں کے خدشات گھٹے اور عام لوگوں نے یہ امید باندھی کہ شاید ایک اور تباہ کن جنگ ٹل گئی ہے۔ جنگ صرف بارود اور گولیوں کا نام نہیں ہوتی بلکہ یہ معیشتوں کو کھا جاتی ہے، خوابوں کو جلا دیتی ہے اور نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اسی لیے جب دو بڑے حریف ممالک کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں تو پوری دنیا اسے خوش آئند قرار دیتی ہے۔ لیکن اس عالمی سکون کے پس منظر میں پاکستان کے عوام کا ایک سوال مسلسل گونج رہا ہے کہ دنیا نے تو سکھ کا سانس لے لیا، پاکستان کے عوام کو سکھ کا سانس کب نصیب ہوگا؟
پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے گرد جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عام آدمی روزمرہ زندگی کی ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا کوئی واضح اختتام دکھائی نہیں دیتا۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل، کم ہوتی ہوئی آمدنی، تعلیم اور صحت کی گرتی ہوئی سہولتیں، سیاسی عدم استحکام اور سماجی بے یقینی نے عوام کو ذہنی اور معاشی دباؤ کے ایک ایسے حصار میں قید کر رکھا ہے جہاں سکون ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک کسان، ایک دکاندار، ایک سرکاری ملازم اور ایک نوجوان گریجویٹ سب اپنے اپنے انداز میں اسی سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں استحکام کب آئے گا۔
دنیا کی بڑی طاقتیں جب جنگ بندی کرتی ہیں تو وہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتی ہیں۔ پاکستان کو بھی اب اپنے اصل قومی مفاد کی طرف لوٹنا ہوگا اور وہ مفاد عوام کی فلاح ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اقتدار کی جنگ کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر متفق ہو جائیں، اگر ریاستی ادارے ترقی اور استحکام کے مشترکہ ایجنڈے پر یکسو ہو جائیں، اگر معیشت کو سیاسی مہم جوئیوں سے محفوظ کرکے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، اگر تعلیم، صحت اور روزگار کو ترجیح دی جائے تو پاکستان کے عوام بھی سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ قوموں کی خوشحالی صرف سرحدوں پر امن سے نہیں بلکہ گھروں کے اندر اطمینان سے پیدا ہوتی ہے۔
پاکستانی عوام کو کسی معجزے کا انتظار نہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا نظام چاہیے جو ان کی محنت کا صلہ دے، ان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے اور انہیں روزانہ یہ خوف نہ ہو کہ کل کی زندگی آج سے زیادہ مشکل ہوگی۔ ایران اور امریکہ کی صلح اگر دنیا کے لیے خوشخبری ہے تو پاکستان کے لیے یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ سب سے اہم جنگ وہ ہے جو غربت، ناانصافی، بدانتظامی اور مایوسی کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ جس دن پاکستان میں عوام کو معاشی تحفظ، سیاسی استحکام اور سماجی انصاف مل جائے گا، اسی دن وہ سکھ کا سانس لیں گے جس کی تلاش میں وہ برسوں سے ہیں۔ دنیا کی جنگیں ختم ہونے سے پہلے یا بعد میں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن عوام کی تکلیفوں کی جنگ تب تک جاری رہتی ہے جب تک حکمران اور ریاست اس کے خاتمے کو اپنی پہلی ترجیح نہ بنا لیں۔ آج پاکستان کے گلی کوچوں میں یہی سوال سنائی دیتا ہے کہ دنیا نے تو سکون پا لیا، اب ہمارے سکون کی باری کب آئے گی؟
غیر کا بھی مری حالت پہ جگر کٹتا ہے
میں اگر جسم بچاتا ہوں تو سر کٹتا ہے
خون بہتا ہوا میں دیکھ رہا ہوں ہر سُو
فصلِ بیسود کی مانند نگر کٹتا ہے
تہہ بہ تہہ کاٹتا جاتا ہے کی پرتوں کو
ایک لمحہ جو سرِ خوف و خطر کٹتا ہے
دیکھ کر سہمی ہوئی گلیاں سسکتے بازار
دل بہت صابر و شاکر ہے مگر کٹتا ہے
پاوں زنجیر کرو، راستے دیوار کرو
ارے نادان کبھی یوں بھی سفر کٹتا ہے
غور سے دیکھ مجھے، صبر کے اَسرار سمجھ
لالیِ چشم سے افسونِ شرر کٹتا ہے
اسطرح کاٹوں گا میں تیرے ارادوں کی رگیں
جسطرح خیر کی تلوار سے شر کٹتا ہے
تجھ کو مزدور کی طاقت کا نہیں اندازہ
شہر کٹ جاتا ہے جب دستِ ہنر کٹتا ہے
زخم کچھ ایسا لگا ہے کہ مسلسل فرحت
میرے اشکوں سے مرا دیدہء تر کٹتا ہے

