Friday, 06 March 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Valika Hospital: Mazdooron Ki Sehat Aur Umeed Ki Kiran

Valika Hospital: Mazdooron Ki Sehat Aur Umeed Ki Kiran

ولیکا ہسپتال: مزدوروں کی صحت اور امید کی کرن

ریاستی نظم و نسق کی اصل روح اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب حکومتی اقدامات براہِ راست عوامی زندگی میں سہولت، اعتماد اور آسودگی کا احساس پیدا کریں۔ صحت کا شعبہ اس حوالے سے سب سے زیادہ حساس اور اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں فیصلوں کا تعلق صرف انتظامی کارکردگی سے نہیں بلکہ انسانی جانوں سے ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں حکومتِ سندھ کے سیکریٹری لیبر ساجد جمال ابڑو کا سندھ سوشل سیکیورٹی کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا ہسپتال کا تفصیلی دورہ اسی مثبت حکومتی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جس میں خدمتِ خلق کو اولین ترجیح بنایا جا رہا ہے۔ ان کے ہمراہ کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو اور میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر کامران اعوان کی شرکت اس امر کی غماز تھی کہ صحت کے نظام کو انتظامی، طبی اور پالیسی سطح پر یکجا انداز میں مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کسی بھی طبی ادارے کی اصل پہچان اس کی عمارت یا مشینری نہیں بلکہ وہاں کام کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ ولیکا ہسپتال کی سب سے نمایاں خوبی یہی محسوس ہوئی کہ یہاں طبی خدمت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور جذبہ بن چکی ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی قیادت میں ہسپتال انتظامیہ نے جس نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کے امتزاج کے ساتھ ادارے کو فعال رکھا ہوا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایک بڑے سرکاری ہسپتال کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنا، مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنا اور مریضوں کے اعتماد کو برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہوتا، مگر انتظامی قیادت نے اسے ایک خدمت کے مشن میں تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

صحت کا شعبہ دراصل اجتماعی کاوش کا نام ہے۔ ڈاکٹرز کی مہارت، نرسوں کی شفقت، پیرامیڈیکل اسٹاف کی مستعدی اور انتظامی عملے کی ذمہ داری ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے۔ ولیکا ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز نے محدود وسائل کے باوجود جس پیشہ ورانہ دیانت اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ مریض کے ساتھ ان کا رویہ، بروقت تشخیص اور علاج کے لیے سنجیدہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ طبی خدمت کو انسانی فریضہ سمجھ کر ادا کیا جا رہا ہے۔

خصوصاً نرسنگ اسٹاف کا کردار کسی بھی ہسپتال کی اصل قوت سمجھا جاتا ہے۔ مریض کے بستر کے قریب سب سے زیادہ وقت گزارنے والی یہی ٹیم ہوتی ہے جو درد اور خوف کے عالم میں مریض کو حوصلہ دیتی ہے۔ ولیکا ہسپتال کی نرسیں نہایت صبر، شفقت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتی دکھائی دیں۔ ان کا نرم لہجہ، مریضوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت معاونت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحت کی خدمت صرف علاج نہیں بلکہ انسان دوستی کا عملی اظہار ہے۔

اسی طرح پیرامیڈیکل اسٹاف، لیبارٹری ٹیکنیشنز، فارمیسی عملہ، صفائی کے ذمہ دار کارکنان اور دیگر معاون عملہ بھی اس ادارے کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک صاف ستھرا وارڈ، فعال آلات اور بروقت رپورٹ کی فراہمی دراصل انہی گمنام کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اکثر پس منظر میں رہ کر کام کرنے والے یہ افراد مریض کے علاج کے پورے نظام کو رواں رکھتے ہیں اور ان کی خدمات کسی بھی تعریف سے کم نہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے صنعتی مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کو چوبیس گھنٹے مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ جدید مشینری کے ذریعے تشخیص اور علاج کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے اقدامات مزدور طبقے کے لیے اعتماد کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی صحت کا خیال رکھنے والا ایک مضبوط نظام موجود ہے۔

پاکستان کے بڑے صنعتی مراکز خصوصاً کراچی جیسے شہر میں مزدوروں کو درپیش طبی مسائل پیچیدہ نوعیت رکھتے ہیں۔ فیکٹری حادثات، پیشہ ورانہ بیماریاں اور ماحولیاتی اثرات صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایسے حالات میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی قیادت میں ہسپتال انتظامیہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی مستقل موجودگی اور خدمات کا تسلسل ایک بڑی نعمت سے کم نہیں۔ ولیکا ہسپتال کی ٹیم نے جس ذمہ داری کے ساتھ اس چیلنج کو قبول کیا ہے وہ ادارہ جاتی عزم کی بہترین مثال ہے۔

دورے کے دوران ادویات کی دستیابی، صفائی کے انتظامات اور طبی آلات کی فعالیت پر خصوصی توجہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ہسپتال کا ہر شعبہ مریض کی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ سیکریٹری لیبر کی جانب سے بروقت علاج اور ادویات کی مسلسل فراہمی کی ہدایات بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں کہ مریض کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ ہدایات طبی عملے کی کوششوں کو مزید مضبوط سہارا فراہم کرتی ہیں۔

کمشنر سیسی کی جانب سے آپ گریڈیشن اور شکایات کے فوری ازالے کے نظام پر زور دینا بھی قابلِ تحسین اقدام ہے، کیونکہ جدید ادارے وہی کامیاب ہوتے ہیں جو مسلسل بہتری کے عمل کو اپناتے ہیں۔ ولیکا ہسپتال کی انتظامیہ نے اس سوچ کو مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دورے کے اختتام پر مریضوں کی عیادت ایک خوبصورت انسانی منظر پیش کر رہی تھی۔ اس موقع پر طبی عملے کی موجودگی اور مریضوں کے ساتھ ان کا خلوص واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ یہ وہ لمحے تھے جب ایک سرکاری ہسپتال محض ادارہ نہیں بلکہ انسان دوستی کی عملی تصویر بن جاتا ہے۔

صنعتی مزدوروں کی صحت دراصل معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ جب ایک مزدور مطمئن ہو کہ بیماری کی صورت میں اس کے لیے ایک قابلِ اعتماد ہسپتال موجود ہے تو اس کی کارکردگی اور اعتماد دونوں بہتر ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں ولیکا ہسپتال صرف علاج کی جگہ نہیں بلکہ سماجی تحفظ کا مضبوط ستون بن کر سامنے آ رہا ہے۔

اگر اسی جذبے، پیشہ ورانہ مہارت اور ٹیم ورک کے ساتھ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کی قیادت میں ڈاکٹرز، نرسوں اور تمام اسٹاف کی خدمات جاری رہیں تو یہ ادارہ یقیناً مستقبل میں ایک مثالی طبی مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ خدمتِ انسانیت کا یہ سفر مزید وسعت اختیار کرے گا اور ولیکا ہسپتال مزدور طبقے کے لیے صحت، احترام اور اعتماد کی علامت بنتا رہے گا۔

Check Also

Insan Toot-Ta Kese Hai?

By Amer Abbas