Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Tolu e Nao Ka Morcha

Tolu e Nao Ka Morcha

طلوعِ نو کا مورچہ

قیامِ پاکستان کی سحرِ خوں رنگ سے لے کر اکیسویں صدی کی تیسری دہائی تک، اس مملکتِ خداداد کے تعاقب میں رہنے والے حادثات، دل سوز سانحات اور بقا کے چیلنجز کی تاریخ اتنی طویل ہے کہ تاریخ داں اکثر حیرت کے سمندر میں غرق نظر آتے ہیں۔ دنیا کے سیاسی منظرنامے پر ایسے کئی جغرافیے ابھرے اور مٹ گئے، مگر یہ خطہ زمین اپنے زخموں کو تمغوں میں بدلنے کا ہنر جانتا ہے۔

آج جب دنیا مئی 2025ء کے اس چار گھنٹے کے ہولناک عسکری معرکے کو یاد کرتی ہے، جسے روایتی اور سامراجی پشت پناہی کی حامل دس گنا بڑی دفاعی قوت نے محض ایک ریہرسل سمجھ کر چھیڑا تھا، تو اس کے تادیبی اور تزویراتی (اسٹرٹیجک) نتائج نے نہ صرف ایشیائی چودھراہٹ کا خمار اتار دیا، بلکہ عالمی طاقتوں کے دفاعی نظریات کو ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس ایک فیصلہ کن جھٹکے نے جہاں ہندو توا کے فکری مغالطوں پر سکتہ طاری کیا، وہاں واشنگٹن کے فیصلہ ساز ایوانوں کو بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ جنوبی ایشیا کی تزویراتی لکیریں پاکستان کی مرضی کے بغیر نہیں کھینچی جا سکتیں۔ معاشی ڈیفالٹ کے دھانے پر کھڑے ایک ملک کا یوں اچانک دفاعی اور سفارتی محاذ پر ایک ناگزیر قوت بن کر ابھرنا، کسی معجزے سے کم نہیں۔

اس نئی تاریخ کی سب سے روشن اسکرین اس وقت سامنے آئی جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان سلگتی ہوئی جنگ کے شعلے پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے مچل رہے تھے۔ عالمی سامراج اور اسرائیل کی خفیہ و اعلانیہ منصوبہ بندی یہ تھی کہ اس خطے کو ایک ایسی ابدی تاریکی میں دھکیل دیا جائے جہاں سے تیسری عالمی جنگ کا راستہ نکلتا ہو۔ ایسے نازک ترین موڑ پر پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی عقابی نگاہ اور جرات مندانہ عزائم نے ایک ناقابلِ تسخیر بفر (سپر) کا کام کیا۔ انہوں نے جنگ کی اس ظلمت میں امن کا ایک ایسا فانوس روشن کیا جس نے سازشوں کے تانے بانے ادھیڑ کر رکھ دیے۔

یہ اسی بے باک اور متوازن حکمتِ عملی کا اعتراف ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سخت گیر رہنما بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے معترف دکھائی دیے۔ اس سفارتی شطرنج پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کردار ایک انتھک مسیحا جیسا رہا، جنہوں نے اپنی ستر سالہ عمر کی جسمانی حدود کو پسِ پشت ڈال کر دو ہفتے تک مسلسل عالمی دارالحکومتوں کی مسافتیں طے کیں۔ اسلام آباد میں سفارت کاروں سے ملاقات کے دوران ان کے پاؤں پھسلنے کے واقعے پر مقامی اور سرحد پار کے سطحی میڈیا نے تو واویلا مچایا، مگر سنجیدہ فکر حلقے جانتے تھے کہ یہ تھکن اس عظیم مقصد کی تھی جس نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کو پاٹ دیا۔

اس سفارتی مہم جوئی کا عروج اس وقت دیکھا گیا جب تہران کے جنگ زدہ اور بارود آلود ماحول میں، تمام تر سفارتی خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر فاتحانہ اسلوب کے ساتھ جہاز کی سیڑھیاں اترے۔ یہ منظر نامہ دراصل ان تمام عالمی حسرتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا جو اس خطے کو راکھ کا ڈھیر دیکھنا چاہتی تھیں۔ مارخور کی اس سٹرٹیجک چال نے واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو لرزہ براندام کر دیا۔ پاکستان کی اس کثیر الجہتی (ملٹی ڈائمنشنل) سفارت کاری نے ثابت کر دیا کہ معاشی طور پر نحیف نظر آنے والا ملک بھی اگر فکری اور دفاعی طور پر مضبوط ہو، تو وہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک معتبر ثالث کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی اور سٹرٹیجک معاہدہ اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے، جو مستقبل قریب میں پاکستان کو عالمِ اسلام کی سیاسی اور دفاعی قیادت کے منصب پر فائز کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

آج عالمی پریس کے معتبر ترین جرائد، جیسے نیویارک ٹائمز، فنانشل ٹائمز اور دی گارڈین، پاکستان کی اس غیر جانبدارانہ اور توازن پر مبنی پالیسی پر تعریفی مضامین اور گہرے تجزیے شائع کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹس اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے امریکی انتظامیہ، بالخصوص امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ بلاواسطہ اور انتہائی موثر روابط قائم کرکے واشنگٹن کا اعتماد بحال کیا ہے۔ دوسری طرف فنانشل ٹائمز کا یہ اعتراف کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مستحکم پل کا کردار ادا کیا ہے، اس امر کی دلیل ہے کہ اب پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات میں نظرانداز کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسے نئے پاکستان کا ظہور ہے جو معاشی مشکلات کے گرداب سے نکل کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی اخلاقی، سفارتی اور دفاعی سپر پاور کے طور پر اپنی شناخت کروا رہا ہے اور جس کا سورج اب طلوع ہونے کو ہے۔

Check Also

Falsafa e Karbala: Aik Amli Pegham

By Muhammad Azam