Friday, 27 February 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Taveel Umri, Burhapa Aur Khurak Ka Naya Scienci Zavia

Taveel Umri, Burhapa Aur Khurak Ka Naya Scienci Zavia

طویل عمری، بڑھاپا اور خوراک کا نیا سائنسی زاویہ

انسانی عمر، صحت اور خوراک کے باہمی تعلق پر صدیوں سے بحث جاری ہے، مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس موضوع کو محض قیاس آرائی سے نکال کر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سمجھنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ خاص طور پر بڑھاپے میں خوراک کی نوعیت، مقدار اور غذائی اجزا کی اہمیت اب ایک سنجیدہ طبی و سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ عمر کے ساتھ انسانی جسم میں جو فزیولوجیکل تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، وہ اس امر کی متقاضی ہیں کہ خوراک کو بھی عمر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، ورنہ طویل عمری محض ایک خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی آتی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی یا کیلوریز کی مجموعی طلب کم ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ کمی غذائی ضرورت میں کمی کے مترادف نہیں۔ درحقیقت بڑھاپے میں جسم کو کم خوراک میں زیادہ غذائیت درکار ہوتی ہے۔ پٹھوں کے زوال، ہڈیوں کی کمزوری، مدافعتی نظام کی ناتوانی اور اعصابی کمزوری جیسے مسائل اسی مرحلے میں شدت اختیار کرتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں خوراک کا معیار مقدار پر سبقت لے جاتا ہے۔

حالیہ سائنسی مطالعات نے اس بحث کو ایک نیا زاویہ دیا ہے کہ آیا گوشت کھانا طویل عمری میں کوئی کردار ادا کرتا ہے یا نہیں۔ خاص طور پر چین میں 80 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر کی جانے والی تحقیق اس حوالے سے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ایسے بزرگ افراد جو بالکل گوشت استعمال نہیں کرتے تھے، ان کے 100 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات نسبتاً کم پائے گئے۔ تاہم اس نتیجے کی سب سے اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ فرق تمام بزرگوں میں یکساں نہیں تھا بلکہ صرف ان افراد میں نمایاں ہوا جو کم وزن کا شکار تھے۔ جو بزرگ صحت مند وزن رکھتے تھے، خواہ وہ گوشت کھاتے ہوں یا نہ کھاتے ہوں، ان میں طویل عمری کے امکانات میں کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔

یہ نکتہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مسئلہ گوشت کھانے یا نہ کھانے سے زیادہ مجموعی غذائی کیفیت اور جسمانی حالت کا ہے۔ کم وزن بزرگ افراد میں پروٹین اور بعض ضروری غذائی اجزا کی کمی عموماً زیادہ پائی جاتی ہے اور یہی کمی جسم کو کمزور بنا کر عمر کو مختصر کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ گوشت چونکہ اعلیٰ معیار کے پروٹین، وٹامن B12، آئرن اور دیگر اہم مائیکرو نیوٹرینٹس کا بڑا ذریعہ ہے، اس لیے مکمل طور پر اس سے اجتناب بعض حالات میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً اس عمر میں جب جسم خود غذائی اجزا کو مؤثر انداز میں جذب کرنے کی صلاحیت کھوتا چلا جاتا ہے۔

پٹھوں کی صحت بڑھاپے میں سب سے بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ عمر رسیدہ افراد میں سارکوپینیا یعنی پٹھوں کے بتدریج زوال کا مسئلہ عام ہے، جس کے نتیجے میں چلنے پھرنے میں دشواری، گرنے کا خطرہ اور خود انحصاری میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت سے بچاؤ کے لیے پروٹین کا مناسب استعمال ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین غذائیت بزرگ افراد کو نسبتاً زیادہ پروٹین لینے کا مشورہ دیتے ہیں، خواہ ان کی کیلوریز کی مجموعی ضرورت کم کیوں نہ ہو۔ گوشت، مچھلی، انڈے اور دودھ سے حاصل ہونے والا پروٹین اس ضمن میں نہایت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح وٹامن B12 کی کمی بڑھاپے میں ایک خاموش مگر خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ وٹامن اعصابی نظام، خون کے سرخ خلیات اور دماغی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اور اس کا قدرتی ذریعہ زیادہ تر حیوانی غذائیں ہیں۔ مکمل سبزی خور بزرگ افراد میں B12 کی کمی نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے، جو یادداشت کی کمزوری، اعصابی درد اور کمزوری جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اگرچہ سپلیمنٹس اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد باقاعدگی اور درست مقدار میں سپلیمنٹ لینے کا اہتمام نہیں کر پاتا۔

ہڈیوں کی صحت بھی بڑھاپے میں خصوصی توجہ کی طالب ہوتی ہے۔ کیلشیم اور وٹامن D کی کمی ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گوشت خود کیلشیم کا بڑا ذریعہ نہیں، مگر متوازن غذا کا حصہ بن کر یہ دیگر غذائی اجزا کے بہتر جذب میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً جب خوراک میں دودھ، دہی اور مچھلی بھی شامل ہوں۔ وٹامن D کی کمی چونکہ بزرگوں میں عام ہے، اس لیے دھوپ، غذا اور ضرورت پڑنے پر سپلیمنٹ تینوں کو یکجا دیکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

چینی تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ نہیں کہ گوشت نہ کھانے والے لازماً کم عمر پاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ بڑھاپے میں کم وزن اور غذائی قلت سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر کوئی فرد گوشت نہیں کھاتا مگر اس کی مجموعی غذائی ضروریات متوازن سبزیوں، دالوں، دودھ، انڈوں یا مناسب متبادل ذرائع سے پوری ہو رہی ہیں اور اس کا وزن صحت مند حد میں ہے، تو طویل عمری کے امکانات متاثر نہیں ہوتے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں غذائی اجزا کی کمی، بھوک میں کمی اور جسمانی کمزوری ایک دوسرے کو تقویت دے کر ایک خطرناک دائرہ بنا لیتی ہیں۔

یوں بڑھاپے میں خوراک کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کھانا کم ہو مگر غذائیت سے بھرپور ہو۔ نہ تو اندھا دھند گوشت خوری طویل عمری کی ضمانت ہے اور نہ ہی ہر قسم کا گوشت ترک کرنا دانش مندی۔ اصل دانش اس توازن میں ہے جو عمر، وزن، جسمانی حالت اور طبی ضرورت کو سامنے رکھ کر قائم کیا جائے۔ جدید تحقیق ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کسی ایک غذا کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ ایک ہم آہنگ طرزِ زندگی، متوازن خوراک اور بروقت طبی شعور کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بڑھاپا اگر کمزوری نہیں بلکہ دانائی کا مرحلہ بنانا ہے تو خوراک کو بھی اسی دانائی کے ساتھ منتخب کرنا ہوگا۔

Check Also

Dil Ka Acha

By Ayesha Batool