سیسی میں اصلاحات کی نئی شروعات

سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) ایک ایسا ادارہ ہے جس کی بنیاد مزدور طبقے کو معیاری طبی سہولیات اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے عظیم مقصد کے تحت رکھی گئی، ایک طویل عرصے سے اس ادارے میں انتظامی مستعدی، پالیسی کے تسلسل اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ لہذا حالیہ دنوں میں جو پیش رفت سامنے آئی ہے، وہ نہ صرف امید افزا ہے بلکہ اس امر کی غماز بھی ہے کہ اگر قیادت میں سنجیدگی، وژن اور عملدرآمد کی صلاحیت موجود ہو تو زوال پذیر ادارے بھی ازسرِنو فعال اور مؤثر بن سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انقلابی اصلاحات کے نئے اقدامات نے امید کی روشنی پیدا کر دی ہے۔
صوبائی وزیر محنت سعید غنی کی ہدایات اور وژن کے تحت کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو نے جس انداز میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے، وہ محض روایتی تبدیلیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ادارہ جاتی تبدیلی کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ ان اصلاحات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں محض اعلانات یا نمائشی اقدامات کے بجائے عملی اور قابلِ پیمائش تبدیلیوں کو ترجیح دی گئی ہے، جس کے اثرات بتدریج نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
ادارے میں سب سے نمایاں پیش رفت ادویات کی فراہمی کے نظام میں بہتری ہے۔ ماضی میں جہاں مریضوں کو بنیادی ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا، وہیں اب سینٹرل اسٹور کے قیام کے ذریعے ادویات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اقدام محض ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ صحت کے نظام میں شفافیت اور تسلسل پیدا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، کیونکہ ادویات کی عدم دستیابی کسی بھی طبی ادارے کی کارکردگی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
اسی طرح انسانی وسائل کی سطح پر بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سوشل سیکیورٹی اسپتالوں میں قابل، دیانتدار اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے ڈاکٹروں کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور چیف میڈیکل آفیسر جیسے کلیدی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تقرریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ انتظامیہ نے میرٹ اور اہلیت کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا انحصار اس کی قیادت پر ہوتا ہے اور جب قیادت اہل اور مخلص ہو تو اس کے مثبت اثرات پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔
اسپتالوں میں صفائی ستھرائی، علاج و معالجہ کے معیار اور عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ صحت کے شعبے میں صفائی محض ظاہری پہلو نہیں بلکہ یہ مریضوں کی حفاظت اور بیماریوں کی روک تھام کا بنیادی عنصر ہے۔ اسی طرح طبی عملے کی مسلسل تربیت انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جس کے بغیر معیاری علاج کی فراہمی ممکن نہیں۔
کنسلٹنٹس کی کمی، جو عرصہ دراز سے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی، اسے حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا فیصلہ بھی ایک اہم قدم ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی نہ صرف تشخیص اور علاج کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کے لیے تربیت کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ اقدام مستقبل میں ادارے کی پائیدار بہتری کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ بھی ان اصلاحات کا ایک اہم جزو ہے۔ طب کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجیز علاج کے طریقوں کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور کم تکلیف دہ بنا رہی ہیں۔ ایسے میں اگر سرکاری سطح پر بھی ان جدید سہولیات کو متعارف کرایا جائے تو یہ نہ صرف مریضوں کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ نجی شعبے پر انحصار کو بھی کم کرتا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال میں جنرل سرجری کے شعبے کی جانب سے پروکٹولوجی میں لیزر سرجری کی پہلی براہِ راست اور عملی ڈیمونسٹریشن کا کامیاب انعقاد ہے۔ یہ پیش رفت محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ادارے کی بدلتی ہوئی سمت کا واضح اظہار ہے۔ تین مریضوں پر لیزر ہیمرائیڈل سرجری کا کامیاب انعقاد اور آپریشن کے بعد کسی بھی قسم کی پیچیدگی کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر وسائل اور مہارت کو یکجا کر دیا جائے تو سرکاری اسپتال بھی اعلیٰ معیار کی طبی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کامیابی کے پیچھے نہ صرف طبی عملے کی پیشہ ورانہ مہارت شامل ہے بلکہ انتظامی سطح پر فراہم کی جانے والی مکمل سرپرستی بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاپولر لیزر سسٹم ٹیم کا تعاون، ٹیکنیکل ماہرین کی رہنمائی اور اسپتال کی انتظامیہ کی بھرپور حمایت نے اس اقدام کو ممکن بنایا۔ خاص طور پر اعلیٰ حکام کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی نے اس پورے عمل کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، جو مستقبل میں مزید پیش رفت کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس کامیابی میں ٹیم ورک نے مرکزی کردار ادا کیا۔ کنسلٹنٹس، اینستھیٹسٹس، آر ایم اوز، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز اور آپریشن تھیٹر کے عملے نے جس ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ کسی بھی کامیاب طبی اقدام کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب ادارے میں مثبت ماحول اور واضح سمت موجود ہو تو افراد اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سیسی میں جاری اصلاحات ایک نئی سوچ اور طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا عملی حل تلاش کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل اور دیانتداری کے ساتھ جاری رہا تو بعید نہیں کہ یہ ادارہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر لے بلکہ ملک کے دیگر سرکاری طبی اداروں کے لیے ایک مثالی نمونہ بھی بن جائے۔
تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ ضروری ہے کہ اصلاحات کو وقتی مہم کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ ادارہ جاتی بہتری ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے نگرانی، احتساب اور بہتری کے جذبے کو برقرار رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اگر ان اقدامات کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو سندھ کے مزدور طبقے کو وہ معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں گی جن کا وعدہ اس ادارے کے قیام کے وقت کیا گیا تھا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیسی میں شروع ہونے والی یہ اصلاحات ایک نئی صبح کی نوید ہیں ایسی صبح جس میں امید، بہتری اور پیشہ ورانہ دیانت کے رنگ نمایاں ہیں۔

