سرحدوں کے اُس پار، ذہنوں کے اِس پار

ریاستوں کی تاریخ کبھی صرف نقشوں پر کھینچی گئی سرحدوں کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی ذہن، اجتماعی شعور اور اقتدار کے باہمی تعلق کی ایسی طویل داستان ہوتی ہے جس میں ہر نسل اپنے عہد کی ایک نئی گرہ چھوڑ جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس وقت ایک ایسے قدیم قلعے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے جس کی بیرونی فصیلیں سفارتی اہمیت، ایٹمی قوت اور تزویراتی محلِ وقوع کی وجہ سے دنیا کی نگاہوں میں نمایاں ہیں، مگر اندرونی راہداریوں میں مختلف سمتوں سے آنے والی صداؤں کا ایسا ہجوم برپا ہے جو قومی یکسوئی کو مسلسل آزمائش میں ڈالے ہوئے ہے۔
گلگت بلتستان کی برف پوش وادیوں میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا، حکومتیں تشکیل پا رہی ہیں اور سیاسی بساط نئے مہروں سے سج رہی ہے، لیکن اصل سوال اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ اس سماجی مزاج کا ہے جو ابھی تک روایت اور جدید شعور کے درمیان معلق ہے۔ جہاں عورت کی سماجی شرکت محض نمائشی عنوان بن جائے اور تعلیم انسانی وقار کے بجائے محض سند تک محدود ہو جائے، وہاں انتخابی نتائج وقتی سکون تو پیدا کر سکتے ہیں مگر فکری استحکام نہیں۔ ریاستیں صرف ووٹوں سے نہیں بلکہ اس تہذیبی سرمایہ سے مضبوط ہوتی ہیں جو انسان کو انسان سمجھنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔
اسی اثنا میں سیاسی افق کا دوسرا منظر وادیٔ کشمیر کی سمت ابھرتا ہے، جہاں انتخابی ماحول اپنی مخصوص حساسیت کے ساتھ تشکیل پا رہا ہے اور مختلف سیاسی قوتیں اپنی اپنی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی مقامی حکومتوں کا تعطل، شہری نظم و نسق کی کمزوریاں، کراچی کے دائمی مسائل، پانی اور توانائی کی غیر متوازن تقسیم اور سیاسی کشیدگی ایک ایسے ناول کے منتشر ابواب معلوم ہوتے ہیں جن کا مرکزی کردار ابھی تک اپنی سمت تلاش کر رہا ہے۔ قومی سیاست اگر محض طاقت کی رسہ کشی میں الجھ جائے تو عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل روزگار، ہنر اور مستقبل کی تلاش میں سرحدوں سے باہر امیدیں ڈھونڈنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ اس کیفیت کا علاج محض سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایسا قومی عمرانی معاہدہ ہے جس میں تعلیم، مقامی خود اختیاری، خواتین کی مؤثر شمولیت، صنعتی پیداوار اور انسانی وسائل کی ترقی کو ریاستی ترجیحات کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک عالمی معیشت میں باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کی نوجوان آبادی کو مہارت، تحقیق اور اختراع کے ہتھیاروں سے مسلح نہ کیا جائے۔
عالمی منظرنامے پر بھی طاقت کی بساط خاموشی سے نئی ترتیب اختیار کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست، ایران اور امریکہ کے دیرینہ اختلافات، خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق نئی حکمتِ عملی اور معاشی خود انحصاری کی کوششیں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ اب عالمی نظام یک قطبی تصور سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں بیرونِ ملک پاکستانی محنت کشوں کا کردار صرف ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں بلکہ قومی معیشت کے استحکام کا اہم ستون بن چکا ہے، اس لیے ان کے مستقبل سے وابستہ ہر خبر پورے معاشرے کی دھڑکن کو متاثر کرتی ہے۔
اسی دوران چین کی علاقائی سفارت کاری اور افغانستان کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے روابط اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں خطے کی معاشی اور تزویراتی سمت مزید تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی علاقائی منصوبے کی پائیداری صرف شاہراہوں، راہداریوں یا سرمایہ کاری سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے داخلی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی یکساں عملداری بنیادی شرط ہیں۔ اگر معاشرے کے اندر خوف، انتہا پسندی اور صنفی امتیاز باقی رہیں تو بڑی سے بڑی اقتصادی راہداری بھی فکری بنجر پن کو زرخیز نہیں بنا سکتی۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قوموں کا مستقبل میدانِ جنگ سے زیادہ درس گاہوں، عدالتوں، پارلیمانوں اور گھروں میں لکھا جاتا ہے۔ نفرت خواہ کسی مذہبی نعرے کے پردے میں پروان چڑھے، کسی نسلی تعصب کی صورت اختیار کرے یا سیاسی انتقام کے لباس میں سامنے آئے، اس کا انجام ہمیشہ معاشرتی کمزوری، علمی جمود اور اقتصادی زوال کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ ذہنوں کی تعمیر کا معرکہ بھی جیتنا ہے۔ اگر ہماری سیاست برداشت کو، ہماری تعلیم تنقیدی فکر کو، ہماری معیشت پیداواری صلاحیت کو اور ہماری ریاست انسانی وقار کو اپنی بنیادی ترجیح بنا لے تو یہی منتشر ابواب ایک مضبوط قومی داستان میں ڈھل سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ہم نقشوں پر تو ایک مضبوط ریاست دکھائی دیتے رہیں گے، مگر اندرونی فصیلوں میں پھیلی دراڑیں ہر نئی نسل کو یہ احساس دلاتی رہیں گی کہ اصل جنگ سرحدوں پر نہیں، بلکہ ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے اور تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کے حق میں فیصلہ سناتی ہے جو بندوق سے پہلے شعور کی حفاظت کرنا سیکھ لیتی ہیں۔

