Monday, 13 April 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. America, Iran Muahida Na Ho Saka

America, Iran Muahida Na Ho Saka

امریکہ، ایران: معاہدہ نہ ہو سکا

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ مذاکرات کا بغیر کسی ٹھوس معاہدے کے اختتام پذیر ہونا محض ایک سفارتی ناکامی نہیں بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ توازن، باہمی عدم اعتماد اور طاقت کی نفسیات کی ایک گہری عکاسی بھی ہے۔ بظاہر یہ مذاکرات ایک ممکنہ پیش رفت کی امید لیے ہوئے تھے، خصوصاً اس تناظر میں کہ خطہ پہلے ہی کشیدگی، پراکسی تنازعات اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے، تاہم نتیجہ وہی نکلا جو اکثر ایسے حساس اور مفادات سے بھرپور مذاکرات کا مقدر ہوتا ہے: تعطل، ابہام اور آئندہ کے لیے مزید سوالات۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کبھی بھی سادہ یا یک رخی نہیں رہے۔ ان کے مابین کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں نظریاتی اختلافات، جغرافیائی مفادات اور عالمی طاقت کی بساط پر اثر و رسوخ کی کشمکش شامل ہے۔ ایسے میں جب دونوں ممالک براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو یہ عمل بذاتِ خود ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھا جاتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ توقع بھی وابستہ ہوتی ہے کہ نتائج فوری اور قطعی نہیں ہوں گے۔

حالیہ مذاکرات کی ناکامی کو محض اختلافات کی شدت سے تعبیر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود نفسیاتی اور اسٹریٹیجک عوامل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ امریکہ، جو عالمی نظام میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی علاقائی سرگرمیوں کو اپنی سلامتی اور اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران خود کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو بیرونی دباؤ کو اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے نہیں دینا چاہتا۔ یہی بنیادی تضاد مذاکرات کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔

مزید برآں، ان مذاکرات کا ایک اہم پہلو "اعتماد کا فقدان" ہے، جو کسی بھی سفارتی عمل کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے ماضی کے رویوں، وعدوں اور اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ عدم اعتماد نہ صرف مذاکراتی عمل کو سست کرتا ہے بلکہ ہر پیش رفت کو عارضی اور غیر مستحکم بھی بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات طویل نشستوں اور بظاہر مثبت بیانات کے باوجود کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آتی۔

اس صورتحال کو خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نوعیت کا معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی توازن پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ تعطل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں استحکام کی راہ ابھی بھی کٹھن اور طویل ہے۔

یہاں یہ پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ سفارت کاری ہمیشہ فوری نتائج کا نام نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک تدریجی اور صبر آزما عمل ہے۔ بعض اوقات بظاہر ناکام نظر آنے والے مذاکرات بھی مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں حالیہ مذاکرات کو مکمل ناکامی کے بجائے ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں فریقین نے ایک دوسرے کے مؤقف کو مزید واضح طور پر سمجھا، اگرچہ کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ یہ ادراک آئندہ مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

عالمی سیاست میں "وقت" ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور اکثر فیصلے فوری حالات کے بجائے طویل المدتی حکمتِ عملیوں کے تحت کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں ہی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کسی بھی معاہدے کے اثرات محض موجودہ حالات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آئندہ کئی برسوں تک ان کے سیاسی، معاشی اور عسکری ڈھانچوں پر اثر انداز ہوں گے۔ اسی لیے ہر فریق اپنی پوزیشن کو زیادہ سے زیادہ مضبوط رکھنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کے لیے وقتی طور پر مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حالیہ صورتحال دراصل ایک "سفارتی وقفہ" ہے نہ کہ مکمل اختتام۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، بلکہ پسِ پردہ کوششیں جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایسے پیچیدہ تنازعات میں بسا اوقات غیر متوقع پیش رفت بھی سامنے آتی ہے، بشرطیکہ سیاسی ارادہ، لچک اور باہمی مفادات کا ادراک موجود ہو۔

بالآخر، اس تمام منظرنامے کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ عالمی امن اور استحکام کا حصول محض طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔ اگرچہ حالیہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بات چیت کا تسلسل ہی وہ واحد راستہ ہے جو دیرپا حل کی جانب لے جا سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین وقتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک وسیع تر تناظر میں سوچیں، جہاں تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ تعطل بظاہر مایوس کن ضرور ہے، مگر اس میں ایک پوشیدہ امکان بھی موجود ہے وہ امکان جو مستقبل میں کسی بڑی پیش رفت کی صورت اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے دانشمندی، تدبر اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے بروئے کار لایا جائے۔

Check Also

Pakistan Ki Muashi Tabahi Ka Zimmedar Kaun Aur Iska Hal Kya Hai?

By Peer Intizar Hussain Musawir