چین میں، سب چین سے نہیں ہے

لینن نے ایک بار کہا تھا کہ "کچھ دہائیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں کچھ نہیں ہوتا اور کچھ ہفتے ایسے ہوتے ہیں جن میں دہائیاں بیت جاتی ہیں"۔ بیجنگ سے آنے والی حالیہ خبریں کچھ اسی قسم کے ایک تاریخی موڑ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ بیجنگ کے آہنی پردوں کے پیچھے اس وقت ایک ایسا طوفان برپا ہے جس کی گونج پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کو ابھی تک اس کی اصل نوعیت کا اندازہ ہی نہیں۔
چین کے فوجی نظام کے سب سے طاقتور ستون، جنرل ژانگ یوشیا (Zhang Youxia) کو صدر شی جن پنگ نے اقتدار کی بساط سے ہٹا دیا ہے۔ سرکاری طور پر ان کے خلاف "سنگین تادیبی اور قانونی خلاف ورزیوں" کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی رازداری کا عالم یہ ہے کہ ماہرین صرف قیاس آرائیوں پر مجبور ہیں، افواہیں تو یہاں تک ہیں کہ شاید کوئی ناکام بغاوت ہوئی تھی یا پھر جنرل پر ایٹمی ہتھیاروں کا ڈیٹا سی آئی اے (CIA) کو فراہم کرنے کا الزام ہے، اگرچہ اس کی حقیقت ابھی پردہِ غیب میں ہے۔ لیکن قرینِ قیاس یہی ہے کہ جنرل ژانگ یا تو صدر شی کے اقتدار کے لیے خطرہ بن گئے تھے یا ان کے کسی بڑے عزائم کی راہ میں رکاوٹ تھے۔
ذرا اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگائیں، 2022 کی پارٹی کانگریس کے بعد سینٹرل ملٹری کمیشن کے لیے جن چھ عسکری اراکین کا انتخاب ہوا تھا، ان میں سے پانچ کو صدر شی نے یا تو برطرف کر دیا ہے، یا نکال دیا ہے، یا وہ تحقیقات کی زد میں ہیں۔ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ پارٹی کانگریس میں مقرر کردہ پوری کی پوری فوجی قیادت اپنی مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی اس طرح صفایا کر دی گئی ہو۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اب چینی فوج پر صدر شی کا براہِ راست اور بلا شرکتِ غیرے کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ اب صرف ایک سینئر رکن، ژانگ شینگمن باقی بچے ہیں جو درحقیقت صدر شی کی اس "اینٹی کرپشن" ایجنسی کے سربراہ ہیں جو ایک اندرونی جاسوسی نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہے۔
یہ محض ایک "فوجی صفائی" نہیں ہے، بلکہ یہ صدر شی کی مطلق العنانیت کی مہرِ تصدیق ہے۔ اس سے یہ یقینی ہوگیا ہے کہ 2027 کی 21 ویں پارٹی کانگریس میں وہ چوتھی بار بلامقابلہ لیڈر منتخب ہوں گے۔ لیکن اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ اب چینی فوج کے اندر صدر شی کے جارحانہ عزائم، بالخصوص 2050 تک تائیوان کے الحاق کے خواب کے خلاف مزاحمت کرنے والی کوئی آواز باقی نہیں رہی۔
یاد رکھیں، ولادیمیر پیوٹن کی یوکرین میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے وقت سے پہلے ان تمام افسران کو ہٹا دیا تھا جو ان کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے تھے۔ صدر شی اب دنیا کے طاقتور ترین مطلق العنان حکمران بن چکے ہیں جن پر کوئی قدغن نہیں اور نہ ہی ایوانوں میں کوئی ایسا بچا ہے جو انہیں بتا سکے کہ وہ کہاں غلط ہیں۔ جب ایک لیڈر کے پاس لامحدود طاقت ہو اور اس کے گرد صرف "یس مین" (Yes Men) ہوں، تو وہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے۔
جاگتے رہیے، کیونکہ بیجنگ کی خاموشی میں ایک ایسا طوفان چھپا ہے جو پوری دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے!

