Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Jahanum Ke Kunday

Jahanum Ke Kunday

جہنم کے کُندے

اسلام آباد کے ڈاکٹر مظہر عباس رضوی نہ صرف ماہرِ امراضِ اطفال ہیں، بلکہ ماہرِ امراضِ اضمحلال بھی ہیں۔ ہائیں؟ یہ اضمحلال، کون سا نیا اُردو مرض دریافت ہوگیا ہے؟ ارے صاحب یہ مرض تو آج کی ترقی یافتہ دنیا کے انسانوں کا عام مرض ہے۔ اضمحلال کا مطلب ہے سُستی، پَژ مردگی، تھکن، کاہلی، اُداسی، کمزوری اور ناطاقتی وغیرہ۔ چچا غالبؔ کی ناطاقتی، کمزوری اور بڑھاپے کے وقت کا مشہور شعر ہے:

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

اوپر مرضِ اضمحلال کی جتنی کیفیات بیان کی گئی ہیں ڈاکٹر مظہر عباس رضوی اُن کے علاج کے لیے پُرمزاح شاعری کرتے ہیں۔ اب سے دو برس پہلے "دخل در ماکولات" کے عنوان سے اُن کا ایک مجموعۂ کلام منظرعام پر آیا تھا، جو شگفتہ دسترخوانی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس دسترخوان سے ایک کبابی شعر چکھ لیجے، جس کے دونوں مصرعوں میں کھانے کھلانے کا ذکر ہے، پھر آگے بڑھیے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مریضانِ مضمحل کے لیے یومِ عید کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ۔

نہ کھائیں اتنے بھی اب پیچ و تاب عید کے دن

کھلا دے زوجہ نہ چپلی کباب عید کے دن

آج سے چند روز قبل اِنھیں ڈاکٹر صاحب کا ایک مختصر پیغام اور ایک مختصر سوال موصول ہوا۔ اپنے پیغام میں اُنھوں نے کالم نگار کی توصیف (اپنی طبی زبان میں) کرتے ہوئے کہا:

"آپ کے کیے گئے الفاظ کے پوسٹ مارٹم ہم بہت شوق سے پڑھتے ہیں"۔

پھرایک غیر طبی سوال (گویاادبی زبان میں) کرتے ہوئے پوچھا:

"ایک محاورہ ہے جہنم کے کندے۔ اس میں کندے، کا کیا مطلب ہے؟"

سوال غیر طبی سہی، مگر ظاہر ہے کہ ایک ڈاکٹر کے لیے اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے، کیوں کہ آج کل جنت میں جانے والے ہوں یا جہنم میں جانے کے کوشاں، دونوں قسم کے مریضوں کو عبدالحمید عدمؔ کی روح سے معذرت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے وہاں جانا پڑتا ہے:

"اُن کے مطب" کی راہ سے ہو کر نکل گیا
ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

صاحب! یہ اُردو زبان کا حسن ہے کہ اُس نے ہر زبان سے الفاظ لیے اور اُن کو اپنی زبان کے مزاج میں ڈھال کر استعمال کیا۔ مثلاً عربی لفظ صاحب، سے حرفِ ندا بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو صاحبو! ، بنا لیا۔ فارسی مصدر تراشیدن، پسند آیا تو اس سے اُردو مصدر تراشنا، تراش لیا گیا۔ انگریزی لفظ، Boredom (بمعنی اُکتانا، بیزار ہونا یا دل اُچاٹ ہوجانا) قبول کیا تو بورڈَم، کا ڈَم، نکال کر اس کو بوریت، بنا لیا۔ بعینہٖ کُندہ، بھی فارسی لفظ ہے۔ مگر اُردو قاعدے کے موافق اس لفظ کی جمع کُندے، بنالی گئی ہے۔ کُندہ، کے معنی ہیں: کاٹھ۔ لکڑی کا لٹّھا۔ درخت کا تنا یا موٹی لکڑی کا سالم ٹکڑا۔ علاوہ ازیں لکڑی کا وہ موٹا ٹکڑا جس پر قصاب گوشت رکھ کر قیمہ بناتے ہیں، اُردو میں وہ بھی کُندہ، کہلاتا ہے۔ بندوق کا دستہ بھی کُندہ ہے اور وہ لکڑی بھی کُندہ کہی جاتی ہے جس میں سوراخ کرکے مجرموں کا پاؤں پھنسا دیتے ہیں۔ اس طرح کُندے، کے معنی ہوئے موٹی لکڑی کے ٹکڑے۔ جہنم کے کُندے، سے مراد ہے جہنم کا ایندھن، یعنی وہ لکڑیاں جو جہنم میں جلائی جائیں گی۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 24 کی رُو سے انسان اور پتھر (کے بُت) جہنم کے کُندے، ہوں گے۔ مجازاً سیاہ کار اور بدکار انسانوں کے لیے غصے میں جہنم کے کُندے، کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔ ایک محاورہ جہنم کے کُندے پڑنا، بھی ہے، جس کا مفہوم ہے جہنم کی مار پڑنا یا جہنم کی سزا ملنا۔ سخت اذیت میں مبتلا ہونے کے موقعے پر یہ محاورہ بولا جاتا ہے۔ ایک اور ترکیب کُندۂ ناتراش، ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے وہ لکڑی جو چھیلی یا تراشی نہ گئی ہو، جو بے ڈول اور اَن گھڑ ہو۔ مگر کُندۂ ناتراش کہہ کر وہ لوگ مراد لیے جاتے ہیں جن کی تربیت نہ ہوئی ہو، جو بدتہذیب اور بے تمیز ہوں، بے وقوف اور احمق ہوں، بے سلیقہ اور جاہل ہوں۔ ایسے لوگوں کی تو کُندی کرنے کو جی چاہتا ہے۔

لکڑی کی وہ موگری جس سے دھوبی یا دھوبن کپڑوں کو کوٹتی ہے کُندی، کہلاتی ہے۔ کپڑوں کے بجائے اگر اس سے انسانوں کو کُوٹا جائے تب بھی کُندی ہی کہلائے گی۔ مگر اس عمل کو اُردو محاورے کے مطابق کُندی کرنا، کہتے ہیں۔ مطلب مارنا پیٹنا اور زد و کوب کرنا۔

اُردو میں صرفکُند، کا لفظ بھی بہت استعمال ہوتا ہے۔ کُند ضد ہے تُند کی۔ تیز بولنے والا تُند زبان، ہوتا ہے تو رُک رُک کر بولنے والا کُند زبان۔ جو شخص تیز دماغ نہ ہو، غبی یا ٹُھس ہو وہ کُند ذہن، ہوتا ہے۔ سست اور کاہل کو بھی کُند کہتے ہیں۔ جس چاقو یا چُھری کی دھار تیز نہ ہو اُسے کُند چاقو اور کُند چُھری کہتے ہیں۔ کُند چُھری سے ذبح کرنا، بھی محاورہ ہے، جو اذیت کے ساتھ مارنے یا بے رحمی سے ذبح کرنے کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ مراد ہے شدید ایذا دینا۔ داغؔ اپنے نئے نویلے کم سن محبوب کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:

کچھ کچھ نگاہِ شرم میں تیزی بھی چاہیے
دل ہوگا ایسی کُند چُھری سے حلال کیا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان حلال جانوروں کو مزید حلال کرنے کے لیے انھیں اللہ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔ اسلامی طریقے سے ذبیحہ کرنے کے اِس عمل کو بھی اُردو میں حلال کرنا، کہا جاتا ہے۔ اکثر وکیل صاحبان اپنے مؤکلوں کو "حلال کرکے کھاتے" ہیں۔

پرندوں کے بازوؤں کو بھی کُندا، کہا جاتا ہے۔ پرندے اُڑنے سے پہلے اپنے پروں کو سمیٹ کر دونوں بازوؤں کو اُڑنے کی غرض سے جنبش دیتے ہیں۔ اس عمل کو پَر تولنا، کہا جاتا ہے۔ پر تولنے کے لیے کُندا تولنا، کی ترکیب بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ مثلاً اگرکوئی لکھنؤ جانے کا قصد کرتا تو کہا جاتا کہ "وہ لکھنؤ جانے کے لیے کُندے تول رہے ہیں "۔ وغیرہ وغیرہ

خالص سونے کے لیے اُردو میں لفظ کُندن، مستعمل ہے، مگر یہ فارسی لفظ کُندہ سے مشتق نہیں ہے، ہندی لفظ ہے۔ مسدسِ حالیؔ میں مولانا الطاف حسین حالیؔ کی جو مشہور نعت ہے"وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا" اسی نعت میں مولانا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی ہستی وہ ہستی ہے جس نے ناکارہ، اَن گھڑ اور اُجڈ لوگوں کو تربیت دے کر خالص سونے جیسے قیمتی افراد میں تبدیل کر دیا:

مَسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

مسِ خام، کچ دھات کو کہتے ہیں۔ کان سے نکلنے والی وہ دھات جس میں طرح طرح کی چیزوں کی آمیزش اور ملاوٹ ہوتی ہے۔ کُندن بنانا، اُردو کا عام محاورہ ہے۔ اس سے مراد ہے بے میل کُچیل، بالکل خالص ہوجانا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب کی بھٹی سے گزر کر کُندن بن جاتا ہے۔ ناخالص سونے کو بھٹی میں تپاکر اس سے میل کُچیل الگ کیا جاتا ہے تو خالص سونا ہاتھ آتا ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضرروی ہے۔ ک، پر زبر کے ساتھ جو کَندہ، ہے وہ پتھر یا دھات پر نقش و نگار کا ہونا ہے۔ کَندہ کرنا، نقاشی کا عمل ہے۔ کَندہ کار، نقش کھودنے یا نقاشی کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ کَندہ کاری، نقاشی کرنے یا پتھر اور دھات پر نقوش کھودنے کو کہتے ہیں۔ کُندہ اور کَندہ میں تلفظ کا جو فرق ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ جہنم کے کُندے اپنے آپ کو جہنم کے نقش و نگار نہ سمجھنے لگیں۔

Check Also

Muhabbat Aur Biyah (3)

By Mojahid Mirza