Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Ho Gaya Gosht Se Nakhun Ka Juda Ho Jana

Ho Gaya Gosht Se Nakhun Ka Juda Ho Jana

ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

چند روز قبل فیڈرل بی ایریا، کراچی سے محترمہ انور جہاں نے بہ قائمیِ ہوش و حواس ایک سوال اس حقیر کے پاس بھیجا: "السلام علیکم جناب۔ ہوش کے ناخن لینے کا کیا مطلب ہے؟ بتائیے تاکہ میں بھی ہوش کے ناخن لوں یا عقل کے ناخن لوں؟"

دیکھیے! کالم نگار کے بتانے تک کیا کیا ملتوی رکھا جاتا ہے۔ یہ معاملہ تو فوری معلوم ہوتا ہے، لہٰذا زیادہ دیر لٹکانا مناسب نہیں۔ یوں بھی ناخن پر خواتین کا خاصا انحصار ہوتا ہے۔ ضرورت کے مطابق جلد جلد بدلنا بھی ہوتا ہے۔ سو کبھی موم کر لیتی ہیں کبھی آہن بنا لیتی ہیں۔

معاملہ اگرمحض ناخن لینے، کاہو تو بول چال یا محاورے میں ناخن لینے، کا مطلب ہے ناخن کاٹنا، ناخن اُتارنا یا ناخن تراشنا۔ ناخن کاٹنے یا تراشنے سے ناخن کی صفائی مقصود ہوتی ہے۔ اوپری حصہ تراش دیا جائے تو اس حصے میں جم جانے والی گندگی منہ میں جانے کا احتمال نہیں رہتا۔ ان معنوں میں ہوش یا عقل کے ناخن لیے جائیں تو گویا ہوش اور عقل کو آلائشوں سے پاک کر لیا جائے اور استعمال کیا جائے۔ مگر ہوش کے ناخن لینے یا عقل کے ناخن لینے کا مفہوم تو سنبھل کر، سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جذباتی ہو کر اپنا نقصان کر لینے سے بچ رہنا ہے۔

ناخن، منہ نوچنے کے علاوہ گرہ کھولنے کے کام بھی آتا ہے۔ آپ کا بھی یہی تجربہ ہوگا کہ زندگی کے اکثر معاملات میں گرہ پڑ جاتی ہے، کھولنی پڑتی ہے۔ گرہ کھل جائے تو اُلجھا ہوا معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ لیکن گرہ کھولتے وقت پتا چلے کہ آج ہی صبح آپ نے ناخن تراش لیے ہیں یا آپ کے ناخن تراش دیے گئے ہیں تو اُسی قسم کی بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا جیسی درماندگی کا سامنا مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کو ہوا تھا:

درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کُشا تھا

ہوش کے ناخن لینے، کاحقیقی مفہوم یہی ہے کہ اُلجھے ہوئے مسئلے کی گرہ جوش کی تلوار کی بجائے ہوش کے ناخن سے کھولی جائے۔ گرہ کھولنے والے اس ناخن کو ناخنِ تدبیر، بھی کہتے ہیں اور عقل کا ناخن، بھی لیکن، کسی سے کہا جائے کہ "میاں! عقل کے ناخن لو" تواُس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آخری تاج دارِ ہند بہادر شاہ ظفرؔ کو تو بے ہُودہ، کی گالی سن کر بھی عقل نہ آئی، سنیے ذرا:

کی جو کچھ عرضِ تمنّا اُن سے میں، تو یہ کہا
بیہُدہ، چل جا یہاں سے، عقل کے ناخون لے

اصل لفظ تو ناخون، ہی تھا کیوں کہ بیس کی بیس اُنگلیوں کے سرے پر واقع اس ننھے عضو میں خون نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اسے ناخون، کہا گیا۔ حضرت امیر خسروؔ کی ایک دل چسپ اور مشہور پہیلی میں بھی ناخون، ہی استعمال کیا گیا ہے"بیسیوں کا سر کاٹ لیا، نہ مارا، ناخون کیا"۔ اب شاید اتنا لمبا کھینچ کر ناخون، نہیں بولاجاتا۔ ہاں ناخن ضرور لمبا کر لیا جاتا ہے۔ سو، ناخن بڑھانا، ناخن چبھانا، ناخن کاٹنا، ناخن چبانا، ناخن اُتارنا، ناخن تراشنا اور ناخن ترشوانا سب محاورتاً درست ہیں۔

ایک محاورہ ناخن دیکھنا، بھی ہے۔ بندہ کھسیا جائے تو مارے شرمندگی کے اپنے ناخن دیکھنا شروع کر دیتا ہے یا کسی کو بہت زور کی ہنسی آرہی ہو، کسی طرح رُک ہی نہ رہی ہو تو اُسے اپنے ناخن پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ شاید اس ترکیب سے اُس کا دھیان بٹ جائے اور ہنسی رُک جائے۔

ہنسی روکنے کے لیے ناخن دیکھنے کا تصور اہلِ تصوف کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ صوفیوں کا کہنا ہے کہ جب انسان کو بہت ہنسی آئے تو اُسے چاہیے کہ اپنے ناخنوں کو دیکھنے لگے، ہنسی تھم جائے گی۔ سبب اس کا یہ بتایا جاتا ہے کہ جب حضرت آدمؑ بہشت سے نکلے تھے جسمِ مبارک ایسا صاف اور روشن تھا جیسے ناخن۔ یعنی گورے چٹے ہی نہیں گلابی بھی تھے، جیسے میدہ و شہاب، جیسے دودھ اور شہد۔ مگر دنیا میں آکر رنگ بدلنا شروع ہوگیا۔ باوا آدم کا رنگ بدلا سو بدلا، اولاد کا رنگ تو بدلتے بدلتے بالکل ہی بدل گیا۔ پس جب انسان اپنے موجودہ حال حلیے کے باوجود ہنسے جاتا ہے، ہنسے جاتا ہے تو اُسے چاہیے کہ اپنے جدِ امجد کا رنگ و روپ اور حلیہ یاد کرنے کے لیے اپنے ناخنوں کو دیکھے۔ جب وہ ناخنوں کو دیکھے گا تو اُسے اپنے ماضی (بعید) سے روحانی آگہی حاصل ہوگی، دل متنبہ ہوگا، ہنسی رک جائے گی اور اپنے کرتوتوں پر رونا آنے لگے گا، وغیرہ وغیرہ۔ عزیزانِ گرامی!"یہ مسائلِ تصوف اور یہ ہمارا بیان" پڑھ کر اب آپ اپنے ناخن نہ دیکھنے لگیے گا۔

ذوق ؔ نے تو اپنے ناخن اُس وقت دیکھے جب آپریشن تھیٹر میں اُن کے اطبا اور ماہر جراحوں کا پورا بورڈ آپس میں مشورے کر رہا تھا:

ذکر کچھ چاکِ جگر سینے کا سُن سُن اپنے
کرکے میں ضبط ہنسی، دیکھوں ہوں ناخن اپنے

گویا ناخن دیکھنے سے شرمندگی و ندامت بھی دُور ہوتی ہے اور ہنسی بھی رفو چکر ہو جاتی ہے۔ مگر عشاقِ کرام اور شعرائے عظام کو تو ناخن اپنے زخم نوچنے کے لیے ودیعت کیے جاتے ہیں۔ پس وہ اپنے ناخن دیکھ کر اُن کی موجودگی پر فخر کرتے ہیں۔ اسی تفاخر کا اظہار چچا غالبؔ نے بھی اپنے غم خوار دوستوں سے کیا تھا:

دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

ناخن، نوچنے کے علاوہ کھجانے کے کام بھی آتا ہے، بالخصوص بالوں بھرا سر کھجانے کے۔ عموماً سر وہی لوگ کھجاتے ہیں جنھیں سر کھجانے کی فرصت مل جاتی ہے۔ "فرصت سے محروم" لوگوں میں مزدور، کسان، کلرک اور کارکن شمار کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بڑے بڑے افسروں اور بڑے بڑے نوکر شاہوں کے لیے، جن کے پاس فرصت ہی فرصت ہوتی ہے، اُردو میں ایک دعائیہ کہاوت کہی گئی ہے:

"خدا گنجے کو ناخن نہ دے کہ سر کھجائے"۔

(شاید اسی اُردو کہاوت کی وجہ سے یہ لوگ اُردو نافذ نہیں ہونے دیتے)

ہر چند کہ ناخن میں خون نہیں ہوتا۔ ناخن تراشنے والا اگر مہارت سے ناخن تراش دے تو درد بھی نہیں ہوتا۔ لیکن ناخن کا گوشت سے گہرا رشتہ ہے۔ گوشت سے ناخن کچھ اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ ناخن تراش (Nail Cutter) ذرا بہکا اور خون کی تُلَلّی بندھ گئی۔ جو لوگ جان سے عزیز ہوتے ہیں اور جن سے گہرا دلی تعلق ہوتا ہے اُن کا چھوٹ جانا یا اُن سے جدا ہوجانا گوشت سے ناخن کا جدا ہوجانا قرار دیا جاتا ہے۔ بڑی تکلیف اور بہت اذیت ہوتی ہے۔ جدا ہو جانے والوں کو کیا خبر؟ غالبؔ توفقط خیال ہی مٹ جانے کو اذیت جانتے تھے:

دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہوگیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

ناخن کاٹنے کے اوزار کے لیے ناخن تراش، یا ناخن گیر، (اور ناخن گیری،) وغیرہ اُردو کے بہت دل کش الفاظ تھے۔ لیکن اب گھر گھر، Nail Cutter کا راج ہے۔ یہ ننھا سا مشینی اوزاربآوازِ بلند کٹ کٹ، کرکے ناخن کاٹتا ہے۔ سرسراتی ہوئی نرمی سے ناخن تراشنے والے اوزاروں کے ساتھ ساتھ اب اُن کے دل کش نام بھی گوشت سے ناخن کی طرح ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں۔

جدا تو اوربھی بہت سی چیزیں ہوئی ہیں۔ کس کس کا گلہ کیجیے، کس کس کو روئیے۔ مثلاً اُردو کا ایک محاورہ تھا "ناخنوں میں ہونا"۔ پہلے جو بات ناخنوں میں ہوتی تھی اب وہ بات، Finger Tips پر ہوتی ہے۔ فرق تو کچھ نہ پڑا۔ ہوگیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا!

Check Also

Dolat Peha Qareena Hai

By Amer Abbas