Wednesday, 01 February 2023

Important Notice

Our facebook page was hacked by some hacker. Now they are posting in-appropriate content over there. We have no control over that page. You are requested to un-follow that page (DailyUrduColumns) and like & follow our new page on (DailyUrduColumnsOfficial).

  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaigham Qadeer

Brown Sugar, White Sugar Aur Shehad Bil Akhir Farq Kya Hai

براؤن شوگر، وائیٹ شوگر اور شہد، بالآخر فرق کیا ہے؟ میٹھا انسانی غذا کا شروع دن سے ہی حصہ چلا آ رہا ہے۔ انسان جہاں جنگلوں میں کبھی جانوروں کے شکار کے لئے انکے پیچھے بھاگا کرتا تھا، وہیں یہ سارا سارا دن ایسے پھل اکھٹے کرنے میں بھی لگا دیتا تھا، جو کہ میٹھے ہوں کیونکہ اس نے ایک چیز دیکھی تھی کہ وہ پھل جو کہ میٹھے ہوتے ہیں۔ وہ اس میں زیادہ چستی لے کر آتے ہیں سو یہ تنقیدی نقطہ انسان کو میٹھے کی تلاش میں بھی جانے پہ مجبور کرنے لگا۔

میٹھا اکیلے ختم کرنے کو دل کیوں کرتا ہے؟ عموما ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی انسان میٹھا کھانے لگتا ہے، تو اس کا دل کرتا ہے کہ وہ چوری چھپے فریج میں موجود تمام میٹھے پھل، کیک یا پھر چاکلیٹ وغیرہ اکیلا ہی کھا کر ختم کر دے اور وہ کسی کے ساتھ ان کو بانٹنے کا سوچے بھی مت۔ اس ضمن میں ارتقائی سائنسدان یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ ہمارے اجداد جب اکیلے میں کسی جنگل میں پھل اکھٹے کرنے جایا کرتے تھے۔

تب ایسا ہوتا تھا کہ اگر وہ میٹھے پھل والے درختوں کا اپنے دوستوں یا پھر خاندان کے لوگوں کو بتا دیتے، تو اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے تھے کہ وہ اس پھل کا کم سے کم خود کھا سکیں گے سو وہ خود کو زیادہ انرجی دینے کی خاطر دوسروں سے چھپ کر پھل کھانا پسند کرتے تھے اور ہزاروں لاکھوں سال تک چلنے والا یہ بہیوئر آج بھی ہم میں موجود ہے اور جب بھی ہم میٹھا دیکھتے ہیں تو ہمارا یہی دل کرتا ہے کہ ہم اس میٹھے کو اکیلے بیٹھ کر ہی کھائیں۔

ذیابطیس کی آمد، ذیابطیس ہم انسانوں میں شروع سے ہی چلتی آ رہی ہے اور یہ ماحولیاتی عوامل کیساتھ ساتھ جینیاتی عوامل بھی رکھتی ہے۔ ان چیزوں کو ہم پہلے آرٹیکلز میں ڈسکس کر چکے ہیں۔ اختصار یہ ہے کہ ماضی میں چونکہ ذیابطیس کے مریض بچے پیدا کرنے کی عمر تک مشکل سے ہی پہنچ پاتے تھے۔ اس لئے ان کے جینز کم لوگوں تک منتقل ہوئے اور تب ذیابطیس کے مریض کم تھے۔

مگر پھر انسولین کی دریافت نے ذیابطیس کنٹرول کرنا سکھایا وہیں، اس کے کیسز میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا، کیونکہ اب یہ لوگ اپنی نسل کو باآسانی آگے بڑھا سکتے تھے۔ اسکے ساتھ ساتھ گزرتے وقت کیساتھ انسان کی غذا تک رسائی بڑھتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں جہاں انسان کو گڑ کی شکل میں میٹھا سال میں خال ہی ملتا تھا، اب وہ چینی کی شکل میں روز لینا شروع ہو گیا۔

کیا چینی اور گڑ ایک جیسے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے سے پہلے ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ چینی اور گڑ کی کیمیائی ساخت کیا ہو سکتی ہے؟ چینی اور گڑ دونوں ایک جیسی کیمیائی ساخت رکھتے ہیں۔ ان دونوں میں 50٪ فرکٹوز اور 50٪گلوکوز ہوتا ہے، دونوں کا سورس ایک ہی چیز مطلب گنے کے پودے ہوتے ہیں، جبکہ اس وقت گڑ کی زیادہ تر اقسام سفید شوگر اور گنے کے رس یا پھر مولیسز کا ہی مکسچر ہوتی ہیں۔

یہ گڑ کو اس کا بھورا رنگ دیتے ہیں اور اسکی وجہ سے گڑ کی غذائیت میں بھی ہلکا سا فرق آتا ہے۔ چینی اور گڑ میں واحد بڑا فرق گڑ میں موجود کیلشیئم، آئرن اور پوٹاشیئم کا زیادہ ہونا ہے۔ لیکن پھر بھی گڑ کبھی بھی ان وٹامنز اور منرلز کا سورس نہیں رہا ہے سو یہ نمبر ہمارے لئے اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔ گڑ اور چینی بنانے کا ذریعہ تو گنے کے پودے یا شوگر بیٹ پلانٹ ہی ہیں۔

مگر لیکن اس سے سفید چینی اور گڑ یا پھر براؤن چینی بنانے کا طریقہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ جس میں سب سے پہلے گنے کے رس کو گرم کرکے مولیسز کو بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی مدد سے شوگر کرسٹل کو ایک سینٹری فیوج مشین کی مدد سے الگ کیا جاتا ہے۔ جس میں اس کو انتہائی تیز رفتار میں گھمایا جاتا ہے۔ اسکے بعد اس کو مزید پراسس کیا جاتا ہے تاکہ مولیسسز یا پھر براؤن شوگر کو نکالا جا سکے اور دانوں کا سائز چھوٹا ہو سکے۔

آخر میں ایک فلٹریشن پراسس سے گزار کر اس کو سفید چینی میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس تمام پراسس میں فقط گڑ کی براؤن رنگت کو ختم کرکے سفید کیا جاتا ہے اور اس کے دانوں کا سائز چھوٹا کیا جاتا ہے وہیں اس کے جو غذائی اجزاء ہیں ان کو بالکل بھی نہیں بدلا جاتا ہے۔ سو یہ کہنا کہ گڑ چینی سے مختلف خصائص رکھتا ہے تو غلط ہوگا۔

ایسے میں کیا شہد مختلف ہوگا کہ نہیں؟ جی ہاں شہد چینی اور گڑ سے مختلف ہے۔ مگر اس کے مختلف ہونے کی وجہ اس میں موجود ان اجزاء جو کہ چینی میں موجود ہیں کی مقدار میں رد و بدل ہے۔ شہد میں 50/50 فرکٹوز اور گلوکوز کی بجائے ان کی مقدار میں ذرا سا رد و بدل ہوتا ہے، شہد میں فرکٹوز کی مقدار 40٪ جبکہ وہیں گلوکوز کی مقدار 30 ٪ ہوتی ہے۔

جبکہ باقی کا ماندہ شہد اپنے میں پانی، پولن اور منرلز بشمول میگنیشیئم اور پوٹاشیئم رکھتا ہے۔ یہ اضافی اجزاء براؤن شوگر کی طرح ہمارے لئے ویسی اتنی بڑی اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔ شہد اور چینی میں اس فرق کیساتھ ساتھ یہ فرق بھی آتا ہے کہ شہد ہمارے بلڈ شوگر لیول کو چینی کی طرح زیادہ جلدی سے نہیں بڑھاتا مگر یہ آہستگی سے ہمارے بلڈ شوگر لیول کو بڑھاتا ہے، مگر چونکہ اس میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں، اس لئے یہ چینی سے زیادہ جلدی وزن بڑھانے کی طرف بھی لیجاتا ہے۔

ایسے میں ان کا فائدہ کیا ہوگا؟ اب جبکہ ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ براؤن شوگر، وائیٹ شوگر اور شہد میں اتنے خاص فرق موجود نہیں ہیں تو بات یہ آتی ہے کہ ان کا ہمارے لئے کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ تو بنیادی طور پہ چینی اور شہد کا فائدہ مختلف اشیاء کو میٹھا کرنا ہی ہے۔ وہیں اس سے ہٹ کر شہد ہمیں کھانسی میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

مگر یہ ایک پلاسیبو ایفیکٹ ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر شہد اور گڑ میں موجود دوسرے نیوٹرینٹ ایک چھوٹی مقدار ہمیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں، مگر یہ اکثر قابل غور نہیں ہوتا۔ کیا شہد اور گڑ ہمیں شوگر کے مرض سے بچا سکتے ہیں؟ اگر ہم وقت بچانے کے لئے سادہ جواب بولیں تو اس کا جواب ہے نہیں وہیں اگر ہم تفصیل میں جائیں تو جیسا کہ اوپر شہد اور چینی کی کیمیائی ساخت کو بتایا گیا ہے تو ان فرکٹوز اور گلوکوز کا جو کام ہے۔

وہ ہمارے بلڈ شوگر لیول کو بڑھانا ہے، اب اگر ایک شخص ذیابطیس کے مرض کا شکار ہے تو اس کو اصل مسئلہ چینی سے نہیں ہوا ہے، بلکہ اس کا اصل مسئلہ زیادہ مقدار میں کاربوہائیڈریٹس لینے سے ہوا ہے اور چونکہ شہد اور چینی اور گڑ ایک جیسی ہی کیمیائی ساخت رکھتے ہیں، اس لئے ذیابطیس کے مریضوں کا یہ سوش کر شہد یا گڑ پہ منتقل ہو جانا کہ یہ ان کو ذیابطیس سے بچا سکتے ہیں۔

تو یہ محض ایک غلط فہمی ہی ہو سکتی ہے ورنہ گڑ کا اثر بالکل چینی جتنا اور شہد کا اثر چینی سے محض 20٪ کم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں آپ ایک چمچ چینی سے دس گرام شوگر لیتے ہیں تو شہد انہیں آٹھ گرام کر دے گا اور اس کا ذیابطیس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ شہد اور چینی کے جو نقصانات ہیں وہ یہ ہیں کہ ان کی وجہ سے ہم کو دل کی بیماریوں کی طرف جانے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

جبکہ وہیں شہد چینی سے زیادہ کیلیوریز رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے وزن کا بے ہنگم بڑھنے کا رسک چینی سے زیاددہ ہوتا ہے۔ لیکن چینی بھی وزن بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟ اگر شہد اور چینی دونوں نقصاندہ ہیں تو ہم ان کو استعمال کیوں کرتے ہیں؟ یہ بات ہمارے ذہن میں ضرور آتی ہے۔ لیکن دراصل شہد اور چینی بذات خود نقصاندہ نہیں ہیں۔

بلکہ ہمارا ان کا روزانہ کی بنیاد پہ استعمال اس بات کا تعین کرتا ہے۔ اگر ہم شہد اور چینی ایک متناسب مقدار جو تیس گرام روزانہ تک بنتی ہے، اس سے زیادہ لیں گے تو ان دونوں کی وجہ سے ہمیں ذیابطیس اور موٹاپہ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ جس سے بچنے کے لئے ہمیں ان کی مقدار کو ایک کنٹرول شرح میں لینا چاہیے۔ بذات خود ان کا استعمال نقصاندہ نہیں، بلکہ ان کے استعمال کی شرح ان کو نقصاندہ بناتی ہے۔

کیا آرٹیفیشل شوگر مفید ہے؟ مصنوعی شوگرز کے استعمال کے بارے میں کافی بحث چل رہی ہے، جہاں یہ ہمیں شہد اور چینی کے متبادل کے طور پر ذیابطیس سے بچا کر میٹھا ذائقہ دیتے ہیں تو وہیں سٹڈیز میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان کی وجہ سے ہمیں کینسر کی مختلف اقسام لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، مگر اس بات کی ابھی تک انسانی ماڈلز سے تجرباتی تصدیق نہیں مل سکی، مگر لیب میں جانوروں پہ کی گئی سٹڈیز یہی بتاتی ہیں۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر آپ ایک نوجوان ہیں اور آپ ذیابطیس یا پھر دل کی بیماریوں اور موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو شہد اور چینی کا استعمال کم سے کم کریں اور اپنی خوراک میں متنوع قسم کے کاربوہائیڈریٹس لینے کی کوشش کریں۔ ہمارے جسم کو روزانہ کی سطح پہ 50-60٪ تک کاربوہائیڈریٹس درکار ہوتے ہیں اور ہم عموما اس کمی کو میٹھے مشروب پی کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جس کی وجہ سے یہ شوگرز جلدی سے ٹوٹ کر ہمارے بلڈ گلوکوز لیول کو خطرناک حد تک بڑھا دیتی ہین اور بعد میں یہ نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ وہیں متنوع غذائی اجزاء ہمیں غذائی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ وہیں اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں تو پلیز اس دھوکے میں کبھی مت آئیں کہ شہد یا گڑ چینی کا متبادل ہے یہ دونوں بھی چینی کے جتنا ہی آپکے لئے خطرناک ہیں۔

Check Also

Aurat Ko Muqadas Mat Banao

By Mahmood Fiaz