Rail Ki Seeti, Ya Dard Ki Seeti
ریل کی سیٹی، یا درد کی سیٹی

قدرت کے انداز عجب ہیں۔ بعض آوازیں انسانیت کو مسرت کا پیغام دیتی ہیں، جب کہ کچھ آوازوں میں ایسا درد سمایا ہوتا ہے کہ دل میں غم کی لہر سی اٹھتی محسوس ہوتی ہے۔ کوئل بولے، چڑیا چہکے تو من خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ لگتا ہے کسی نے کانوں میں رس گھول دیا ہے، مگر ایک آواز ایسی ہے، جس میں قدرت نے درد کی سوغات کچھ اس ڈھب سے رکھی ہے کہ جوں ہی کانوں میں پڑتی ہے، چاروں طرف درد کا ہالہ سا بُن جاتا ہے۔ وہ کیا ہے، ٹرین کی سیٹی۔ رات گہری ہو، سناٹا ہو، ہو کا عالم ہو اور دور کسی اسٹیشن پہ ریل کی سیٹی بجے، تو لگے گا اس آواز میں عجیب سا روگ ہے، کچھ عجیب سی ٹیس ہے، عجیب سا بَین ہے۔
رات کے اندھیرے میں دور کہیں سنائی دینے والی ریل کی سیٹی، لگتا ہے کوئی ہمیشہ کے لیے نہ آنے والے کو بےکسی میں ڈوبی درد بھری آواز دیتا ہے۔ سناٹا کانپ اٹھتا ہے اور تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا بہت دور کہیں اکیلا بیٹھا ہمیں یاد کر رہا ہو، مگر ہم اس تک پہنچنے سے قاصر ہوں۔ یہ آواز چبھتی ہے ایک پرانے زخم کی طرح، جسے ذرا سا کریدا جائے، تو پورا وجود دُکھنے لگے۔
ریل کی سیٹی کی دردناک آواز سنیں تو لگے گا، کسی افسردہ کے لیے سوگ کی گھڑیاں رک سی گئی ہیں، جیسے برے حالات سے نبردآزما عورت نے گئے وقتوں کی مسرتوں کو یاد کرکے ایک آہ بھری ہو، جیسے پردیس میں گئے جوان بیٹے کی یاد میں بوڑھے باپ کی آنکھوں میں نمی تیر گئی ہو۔ یعنی اس سیٹی میں وہ سب غم سمٹ آتے ہیں، جو ہم زبان ادا نہیں کر سکتے: مثلاً ریلوے اسٹیشن پہ پیاروں کے دائیں بائیں لہراتے بچھڑتے ہاتھ، لمحہ بہ لمحہ جدا ہوتی نمناک آنکھیں اور ان میں ہلکی سی نمی اور چہرے پہ غمناک سائے۔ کیسا عجیب لگتا ہے جب ٹرین کے ڈبے ایک ایک کر نظروں سے دور ہو رہے ہیں اور اپنا کوئی پیارا آہستہ آہستہ آنکھوں سے اوجھل ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے، جیسے دل ڈوب سا رہا ہے۔ ان تمام احساسات کو اگر کسی آواز میں سمویا جائے تو وہ ٹرین کی وِسل ہے۔
میرے خیال میں ریل کی سیٹی میں اسٹیشن پہ کھڑے اور اس میں سوار مسافروں کی آہیں اور سسکیاں ہیں، اس میں الوداع ہونے کے وقت آنکھوں میں تیرنے والی نمی ہے، جدائی کے بے اختیار نکلنے والے آنسو ہیں۔ کئی لوگ محبت میں اتنے حساس ہوتے ہیں کہ چلتی ٹرین کو، اس کے ایک ایک ڈبے کو اپنے سامنے سے گزرتے دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ٹرین دور ہوتی چلی جاتی ہے، مگر ان کی نظریں ٹکٹکی باندھے اس کی طرف دیکھتی رہتی ہیں۔ پھر یہ لمبی ٹرین دور ایک ڈبے کے سائز کی بنتی ہے، پھر ایک نقطے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ آخرِکار نظروں سے غائب ہو جاتی ہے۔ جوں جوں ٹرین چلتی جاتی ہے، اسٹیشن پہ کھڑا پیارے کا دل ڈوبتا جاتا ہے۔ پھر وہ بوجھل قدموں سے چلتا چلتا گھر واپس آتا ہے۔ یہ منظر کتنا دکھی کرتا ہے جب اسٹیشن پہ کھڑا پیارا اور ٹرین میں سوار دونوں ایک دوسرے کو محبت کے اظہار کے لیے اپنے لرزتے ہاتھ گاڑی کے وائپر کی دائیں بائیں کرتے ہیں۔ پس اسٹیشن پہ جدائی اور درد کے یہ مناظر ٹرین کی سیٹی میں بھر جاتے ہیں۔ یہ سیٹی پیاروں کے ڈوبتے دلوں کی، غموں کی، آنسوؤں کی عکاسی کرتی ہے۔
حیرت ہے! فطرت نے کس مہارت سے ہر قسم کے درد کو، ہر نوع کی آہوں اور کراہوں کو ٹرین کی ایک سیٹی میں سمو دیا ہے۔
یہ منظر کیسا دلدوز ہے! جب ریل روانہ ہوتی ہے، تو سیٹی کے ساتھ ہی دل میں کچھ ٹوٹنے کی آواز سی آتی ہے۔ کوئی ماں چپ چاپ دوپٹے کے پلو سے آنکھیں پونچھتی ہے، کوئی باپ نظریں چرا لیتا ہے، کسی بہن کی آنکھیں بھر آتی ہیں، کوئی بیوی بےبسی کی تصویر بن جاتی ہے، ہجوم میں کھڑا کوئی محبوب اپنا دل ٹٹولتا ہے، تو اس میں اسے غموں کی ایک دنیا آباد دکھائی دیتی ہے۔ ٹرین سب انسانی رشتوں ناتوں سے بےنیاز بے رحمی سے بڑھتی جاتی ہے اور اس کی وسل غم کا کوس اور درد کا نقارہ بجاتی چلی جاتی ہے، پیاروں پہ قہر ڈھاتی چلی جاتی ہے۔
ریل کی سیٹی وقت کی بے رحمی کا اعلان بھی ہے۔ یہ کہتی ہے: رکنا منع ہے۔ چاہے دل راضی ہو یا نہ ہو، چاہے آنکھیں بھیگ جائیں، خواہ ہونٹ کانپنے لگیں، سفر کو جانا ہی ہے۔ مسافر منزل تک پہنچتے ہیں اور پیچھے ان کی درد بھری یادیں رہ جاتی ہیں۔
پس ریل کی سیٹی میں محرومیوں کی ایک داستان ہے۔ یہ آواز درد کا استعارہ ہے۔ یہ ایک ایسی اداسی ہے، جو چیختی نہیں، بس خاموشی سے دل میں اتر کر دیر تک بیٹھ جاتی ہے۔ جیسے کوئی زخم ہرا ہو جائے، جیسے کسی کے خواب چُکناچور ہو جائیں، جیسے کسی کی امیدوں کا شیشہ ٹوٹے اور اس کی کرچیاں اس کے دل میں پیوست ہو جائیں۔ جیسے کوئی اپنے محبوب کے ہجر کا نوحہ کہے، جیسے کوئی دکھ جو اپنا تعارف کرائے بغیر آتا ہے، مگر جاتے جاتے ہمیں رلا کر چلا جاتا ہے۔
ریل کی سیٹی کی دکھ بھری آواز میں ہماری تلخ ناک یادوں اور ہمارے بوجھل احساسات کا عکس ہوتا ہے۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جہاں کچھ لوگ ساتھ چلتے ہیں اور کچھ راستے میں بچھڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے ریل کی سیٹی سنتے ہی دل بے اختیار بھاری سا ہو جاتا ہے، جیسے کسی پیارے کی جدائی کی خبر سن لی ہو۔

