Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Insan: Ahsan e Taqveem Ya Asfak Us Safleen

Insan: Ahsan e Taqveem Ya Asfak Us Safleen

انسان: احسنِ تقویم یا اسفل السافلین

کہتے ہیں کہ ایک دانا استاد اپنے شاگردوں کو لے کر ایک باغ میں گیا۔ اس نے ایک خوبصورت درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ درخت زمین میں جڑا ہوا ہے، مگر اس کی شاخیں آسمان کی طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے پھل میٹھے ہیں اور سایہ ٹھنڈا۔ لیکن اگر اسے پانی نہ دیا جائے، اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہی درخت سوکھ کر لکڑی بن جاتا ہے اور پھر آگ کا ایندھن بن جاتا ہے"۔

شاگردوں نے حیرت سے استاد کی طرف دیکھا تو اس نے مسکرا کر کہا: "انسان بھی ایسا ہی ہے۔ اگر وہ اپنی اصل کو پہچان لے تو آسمان سے بلند ہو جاتا ہے اور اگر اپنی حقیقت سے غافل ہو جائے تو زمین کی مٹی سے بھی نیچے گر جاتا ہے"۔ یہ حکایت دراصل اس عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے قرآن مجید نے چند مختصر مگر گہرے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کیا گیا، مگر وہ اسفل السافلین تک بھی جا سکتا ہے۔ یہی انسان کی کہانی ہے، یہی اس کا امتحان ہے اور یہی اس کی تقدیر کا راز بھی ہے۔

قرآن کی زبان میں "احسنِ تقویم" محض جسمانی حسن یا ظاہری ساخت کا نام نہیں بلکہ انسان کے وجود کی اس جامع خوبصورتی کا اظہار ہے جس میں عقل، شعور، اخلاق اور روح کی روشنی شامل ہے۔ انسان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے سوچنے کی قوت دی گئی، اچھے اور برے میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی اور اسے اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی زندگی کا راستہ خود منتخب کرے۔ یہی وہ نعمت ہے جس نے انسان کو مخلوقات میں ممتاز کیا۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نظر ستاروں پر ہوتی ہے۔ وہ مٹی سے بنا ہے مگر اس کے اندر آسمانوں کی وسعت سمائی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے صفحات ہمیں ایسے انسانوں کی کہانیاں سناتے ہیں جنہوں نے علم، حکمت، خدمت اور قربانی کے ذریعے انسانیت کو روشنی بخشی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ انسان واقعی احسنِ تقویم کا شاہکار ہے۔

لیکن اسی انسان کی ایک دوسری تصویر بھی ہے جو ہمیں لرزا دیتی ہے۔ جب انسان اپنی عقل کو خواہشات کا غلام بنا لیتا ہے، جب وہ انصاف کے بجائے ظلم کو اختیار کرتا ہے، جب وہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا حق چھین لیتا ہے، تو وہ اس بلندی سے گر کر ایسی پستی میں جا پہنچتا ہے جسے قرآن نے اسفل السافلین کہا ہے۔ تاریخ کے میدان میں ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں انسان نے اپنی ہی بنائی ہوئی تہذیب کو تباہ کر دیا، جہاں طاقت نے انصاف کو کچل دیا اور جہاں علم نے ہدایت کے بجائے تباہی کے ہتھیار پیدا کیے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنی اصل بھول جاتا ہے اور اپنی روح کی روشنی کو بجھا دیتا ہے۔

اصل سوال یہی ہے کہ انسان کو احسنِ تقویم سے اسفل السافلین تک لے جانے والی قوت کیا ہے۔ اس کا جواب بھی انسان کے اپنے اندر ہی پوشیدہ ہے۔ انسان کے اندر ایک میدان برپا ہے جہاں خیر اور شر، نور اور ظلمت، عقل اور خواہشات کے درمیان مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔ جب انسان اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتا ہے اور اپنے اعمال کو اخلاق اور ایمان کے اصولوں کے تابع کر دیتا ہے تو وہ بلندی کی طرف سفر کرتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنی خواہشات کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کی روشنی کو اپنائے گا یا اپنی خواہشات کی تاریکی میں کھو جائے گا۔

آج کی دنیا میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے پناہ طاقت دی ہے۔ انسان نے سمندروں کی تہوں کو بھی کھنگال لیا ہے اور خلا کی وسعتوں میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر دل میں اخلاق کی روشنی نہ ہو تو یہ ساری طاقت انسان کو ترقی کے بجائے تباہی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصل ترقی صرف مادی ترقی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ترقی بھی ہے۔ وہ معاشرے جو انصاف، دیانت اور انسانیت کے اصولوں کو اپناتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کرتے ہیں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ترین سلطنتیں بھی اخلاقی زوال کے باعث مٹ گئی ہیں۔

درحقیقت انسان کی پوری زندگی اسی سفر کا نام ہے جس میں وہ ہر لمحہ یہ طے کرتا ہے کہ اسے کس سمت جانا ہے۔ ہر اچھا عمل انسان کو احسنِ تقویم کے قریب لے جاتا ہے اور ہر برا عمل اسے اسفل السافلین کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب، فلسفہ اور اخلاقیات سب انسان کو اسی ایک حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی عظمت کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالے۔ اگر انسان اپنی اصل کو پہچان لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی امن، انصاف اور خیر کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔

انسان دراصل ایک ایسا چراغ ہے جس میں روشنی بھی ہے اور دھواں بھی۔ اگر اس چراغ کو علم، اخلاق اور ایمان کے تیل سے روشن رکھا جائے تو اس کی روشنی دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے بے توجہی اور غفلت کے حوالے کر دیا جائے تو یہی چراغ بجھ کر تاریکی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انسان کے سامنے یہی دو راستے ہیں: یا تو وہ اپنی عظمت کو پہچان کر احسنِ تقویم کا مظہر بن جائے، یا پھر اپنی غفلت اور خواہشات کے ہاتھوں اسفل السافلین میں جا گرے۔

انسان کی کہانی دراصل اس کی اپنی تلاش کی کہانی ہے۔ وہ ہر دور میں یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے۔ جب وہ اپنے خالق سے جڑ جاتا ہے تو اس کے اندر کی روشنی اسے بلند کر دیتی ہے اور جب وہ اس تعلق سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہی راز انسان کے عروج اور زوال کا اصل پیمانہ ہے۔

آدمی خاک بھی ہے، نور بھی ہے، راز بھی ہے
یہی کمزور بھی ہے، قوتِ پرواز بھی ہے

جب ضمیر اس کا جگے، آسمانوں تک پہنچے
اور سو جائے تو پھر خود ہی سے ناراض بھی ہے

اپنی پہچان اگر پا لے تو دریا بن جائے
ورنہ صحرا کی طرح پیاس کا ہمراز بھی ہے

یہی انسان ہے جس میں دو جہاں چھپتے ہیں
یہی مٹی بھی ہے اور آئینہ ساز بھی ہے

Check Also

Insan: Ahsan e Taqveem Ya Asfak Us Safleen

By Asif Masood