Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Saadia Bashir
  3. Naqabon Ka Ehad Aur Nange Sach

Naqabon Ka Ehad Aur Nange Sach

نقابوں کا عہد اور ننگے سچ

ننگے بادشاہ کی کہانی ہم سب نے سنی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جو اپنے لباس کے سحر میں اس قدر گرفتار تھا کہ سچ کی آواز اسے دیوانگی محسوس ہوتی تھی۔ مگر ہمارے عہد کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ یہاں مسئلہ بادشاہ کے لباس کا نہیں۔ درباریوں کا ہے۔ رعایا کے چہروں پر چڑھائے گئے نقابوں کا ہے۔ یہاں ننگا بادشاہ نہیں۔ ننگے سچ ہیں۔ جن پر رنگ و روغن کی تہیں چڑھا کر انہیں دیوار کی تزئین بنا دیا گیا ہے۔

اقتدار کی فطرت میں ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ جب وہ گلیوں میں نکلے تو قہقہے سنائی دیں۔ مسکراہٹیں دکھائی دیں اور نظم و ضبط کی تصویریں بنیں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے کچھ لوگ ماسک تقسیم کرتے ہیں۔ کچھ تالیاں بجوانے کی مشق کرواتے ہیں اور کچھ اپنے اپنے علاقوں کے مسائل کو کپڑے پہنا دیتے ہیں۔ کہیں غربت کو اعداد و شمار کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔ کہیں بے روزگاری کو تربیتی پروگراموں کی چمک میں گم کر دیا جاتا ہے اور کہیں بیماری کو موبائل ایپ کے آئیکون میں قید کرکے سمجھ لیا جاتا ہے کہ علاج ہوگیا۔

یہ ہیر پھیر صرف بیانیے کی تراش خراش نہیں۔ بلکہ اجتماعی شعور کی سمت متعین کرنے کی کوشش ہے۔ جب اصل مسئلہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو اس پر سوال بھی کم اٹھتے ہیں۔ یوں زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اُن پر پینٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ تصویر خوبصورت لگے۔ مگر پینٹ کبھی پیپ کا متبادل نہیں بنتا اور تصویر کبھی حقیقت کا بدل نہیں ہو سکتی۔

آج ہمارے ہسپتالوں کی راہداریوں میں یہی تضاد گونجتا ہے۔ کہیں مشینیں ناکارہ ہیں۔ کہیں ادویات نایاب، کہیں عملہ کم اور مریض زیادہ۔ مگر ہم اس کمی کو ایک ایپ app کے اجراء، ایک پورٹل کی رونمائی یا ایک ڈیش بورڈ کی چمک سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل سہولت اپنی جگہ اہم سہی۔ مگر جب وینٹی لیٹر خاموش ہوں اور آپریشن تھیٹر میں بنیادی آلات میسر نہ ہوں تو اسمارٹ فون کی اسکرین پر نمودار ہونے والی سبز ٹِک کسی جان کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

شہروں کی مثال لیجیے۔ ہم انہیں "اسمارٹ سٹی" قرار دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ چوراہوں پر فوارے، سڑکوں پر رنگین لائٹس اور مرکزی شاہراہوں کی تزئین و آرائش۔ سب کچھ نمایاں ہے۔ مگر ذرا اندرونی گلیوں میں جھانکیے۔ نکاسیٔ آب کا نظام تباہ، کچرے کے ڈھیر اور بارش میں ڈوبتی بستیاں۔ رپورٹوں میں شہر ماڈل بن جاتا ہے، مگر شہری کی زندگی وہی رہتی ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی ہم ظاہری ترقی کے اسیر ہو چکے ہیں۔ اسمارٹ کلاس رومز، آن لائن پورٹلز اور رنگین نصابی کتب۔ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن جب استاد کی تربیت ناکافی ہو، سکولوں میں بنیادی سہولتیں نہ ہوں اور بچوں کی فہم کمزور ہو تو ڈیجیٹل بورڈ علم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

ہم شرح داخلہ کو کامیابی سمجھ لیتے ہیں، مگر شرح فہم پر خاموش رہتے ہیں۔ زرعی شعبے میں کسان کو جدید ایپ تو فراہم کر دی جاتی ہے۔ مگر کھاد مہنگی، پانی کم اور منڈی میں قیمت غیر یقینی ہو تو ایپ کھیت کو سرسبز نہیں بنا سکتی۔ کسان کی اصل ضرورت استحکام اور سہولت ہے۔ محض رجسٹریشن نمبر نہیں۔ روزگار کے باب میں نوجوانوں کو چند روزہ کورس کے سرٹیفکیٹ دے کر ہنر مندی کا جشن منایا جاتا ہے۔ امداد کی لائن لگا کر بھکاری پیدا کیےجاتے ہیں۔ مگر مارکیٹ میں مواقع پیدا نہیں کیے جاتے۔ یوں بے روزگاری کو تربیت کی چمک میں چھپا دیا جاتا ہے۔

ماحولیات میں شجرکاری کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں۔ مگر چند ماہ بعد وہی پودے پانی نہ ملنے سے سوکھ جاتے ہیں۔ تصویر میں سبزہ باقی رہتا ہے۔ زمین پر بنجر پن لوٹ آتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ روش صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ ہماری اجتماعی عادت بن چکی ہے۔ ہم گھروں میں، دفاتر میں، اداروں میں بھی مسائل کو دبانے کے عادی ہو گئے ہیں۔ دفتر میں خرابی ہو تو فائل سجا دی جاتی ہے۔ گھر میں اختلاف ہو تو مہمانوں کے سامنے مسکراہٹ اوڑھ لی جاتی ہے۔ یوں نقاب ہماری ثقافت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ریاست اور عوام کے درمیان بھی نقابوں کی ایک ایسی خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ شاید اسی احساس برتری کا نتیجہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے بعض اوقات ایسے جملے سنائی دیتے ہیں جو عوامی دکھوں کا مذاق محسوس ہوتے ہیں۔ کہ "پٹرول ہم نے تو صرف پچپن لیٹر بڑھایا ہے، اگر ایک سو دس بڑھا دیتے تو آپ کیا کر لیتے؟" تو یہ الفاظ محض ایک بیان نہیں بلکہ طاقت کے نشے کی عکاسی بن جاتے ہیں۔

مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس بیانیہ کے گرد بد عنوانی کی کہانیاں بھی گردش کرتی رہتی ہیں۔ کبھی مالی بے ضابطگیوں اور کبھی نقل کرنےکی خبریں سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب الزامات کا سامنا کرنے والے لوگ بغیر کسی جھجھک کے عوام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ احتساب کا خوف بتدریج ختم ہو رہا ہے۔ طاقت جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو وہ ایک بدماش ہاتھی کی مانند ہو جاتی ہے۔ ایسا ہاتھی جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو روند ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا نے بلاشبہ آوازوں کو ایک نئی قوت دی ہے۔ مگر ابھی تک یہ قوت اس بے قابو ہاتھی کو قابو میں لانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو سکی۔ ایک خوشحال معاشرہ بنانے کے لیے اعداد و شمار کی خوبصورتی سے زیادہ زمینی سچائی کی کڑواہٹ قبول کرنا پڑتی ہے۔ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مسائل موجود ہیں اور اُن کے حل کے لیے تصویری فریم نہیں۔ عملی فیصلے درکار ہیں۔ جو نظام صرف تعریف سننے کا عادی ہو جائے۔ وہ تنقید سے خوف زدہ ہو جاتا ہے اور جو معاشرہ سچ بولنے سے ڈرنے لگے۔ وہاں ننگے سچ مزید ننگے ہو جاتے ہیں۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں بادشاہ کے سامنے مسکراتے چہرے رکھنے ہیں یا اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم زخموں پر پینٹ کریں گے یا مرہم رکھیں گے۔ حکومتوں کی اصل طاقت محلات، قافلوں اور مراعات میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ جس دن حکمران یہ حقیقت سمجھ لیں کہ ایک خوبصورت ریاست وہ ہوتی ہے جہاں لوگوں کے چہرے مطمئن ہوں۔ جہاں انصاف زندہ ہو اور جہاں اقتدار اعتماد کا نام ہو۔ اسی دن ریاست اور عوام کے درمیان موجود فاصلے کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ورنہ تاریخ کے صفحات ہمیں بار بار یاد دلاتے رہیں گے کہ جب دربار خاموش ہو جائیں تو کسی گلی سے ایک بچے کی آواز ضرور اٹھتی ہے اور پھر سارے رنگ اتر جاتے ہیں۔ دانائی اسی میں ہے کہ ہم رنگ اترنے کا انتظار نہ کریں۔ بلکہ آئینہ صاف کر لیں۔ کیونکہ قومیں تصویروں سے نہیں۔ حقیقتوں سے بنتی ہیں۔

Check Also

Kya Clinical Depression Ka Koi Hal Hai?

By Mehran Khan