Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Yasir
  4. Molana Tariq Jameel Aur Tabdeeli

Molana Tariq Jameel Aur Tabdeeli

مولانا طارق جمیل اور تبدیلی

مدرسہ جامعہ الحسنین گرین ٹاؤن فیصل آباد مولانا طارق جمیل صاحب کا قائم کردہ دینی تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے۔ مدرسہ میں ناظرہ و حفظ قرآنِ مجید، تربیتی نصاب، عالم کورس کروائے جاتے ہیں اور ٹیکسٹ بک بورڈ کلاسز کے لیے اکیڈمی بھی قائم ہے۔ مدرسہ کا انتظام قابلِ قدر مستعد انتظامیہ دیکھتی ہے اور تدریس کے لیے انتہائی قابل احترام اور مستند مفتیانِ کرام اور اساتذہ اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

مدرسہ میں طلباء کے لیے ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم، آرام دہ ہوسٹل کمرے، سبسڈی شدہ کینٹین، ایکٹیویٹی ایریا اور سرسبز لان موجود ہے۔ عمارت سو کلوواٹ سولر سسٹم سے آراستہ ہے۔ بیشتر اساتذہ اپنی فیملی سمیت مدرسہ میں رہائش پذیر ہیں جن میں غیر ملکی شخصیات بھی شامل ہیں جو اب مستقل یہاں منتقل ہو چکے ہیں۔ مدرسہ میں قائم شدہ مسجد طلباء اور قریبی آبادی کے لیے کھلی ہے۔ مسجد انتہائی سادہ خوبصورت اور کشادہ ہے۔ ائر کنڈیشنگ کا بہترین انتظام ہے۔ صفائی قابل دید اور سہولیات جدید تقاضوں کے مطابق ہیں۔

ایسا زبردست ادارہ یقیناً وافر خرچ کا متقاضی رہتا ہوگا لیکن اس مدرسہ کی انتظامیہ کو کبھی چندہ کے لیے اعلانات کرتے یا کسی سے کہتے نہیں دیکھا، نہ مسجد میں روایتی مدارس کہ طرح چندہ کی درخواست کی جاتی ہے حتیٰ کہ مخصوص مواقع پر بھی کبھی چندہ کی درخواست اس مدرسہ کی طرف سے نہیں کی گئی۔ یہ سب خرچ مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن اور پیس ٹرسٹ کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن کے چندہ باکس ضرور ایک دو جگہ پہ موجود ہیں لیکن ایسا نہیں کہ طلبا یا انتظامیہ ایسے باکس لیے راستوں یا دروازے پہ کھڑے ہوں۔ مولانا صاحب کہتے ہیں یہ سب اللہ کے کرم سے چل رہا ہے۔

مولانا طارق جمیل صاحب اکثر و بیشتر مدرسہ آتے رہتے ہیں ان کے لیکچر اور درس کی محافل میں شرکت کا کئی بار موقع ملا۔ میرا گھر فیصل آباد اس مدرسہ کے قریب ہے۔ اکثر نماز کے لیے ادھر ہی جانا ہوتا ہے۔ مولانا تقریباً ہر رمضان المبارک میں فیصل آباد ہی مقیم ہوتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بھی مدرسہ آتے ہیں۔ کبھی جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں کبھی تراویح کے بعد محفل کرتے ہیں۔ مدرسہ میں تکمیل قرآن پچسویں یا ستائیسویں شب ہوتی ہے۔ تکمیل قرآن پہ ان کا تفصیلی درس ضرور ہوتا ہے اور ستائیسویں شب خاص طور پہ مولانا صاحب خود امامت کراتے ہیں اور خود وتر کی نماز پڑھاتے ہیں اور وتر میں خصوصی طور پہ طویل اور جامع دعا کرواتے ہیں۔

تکمیل قرآن اور ستائیس شب رمضان سنہ دو ہزار چھبیس بھی معمول کے مطابق مولانا صاحب کی امامت اور درس ہوا۔ ہم پچھلے کئی سالوں سے مولانا کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں لیکن اس بار وتر کی نماز پڑھانے سے پہلے مولانا نے وتر کے طریقہ سے متعلق بتایا کہ وتر پڑھنے کے مختلف طریقے امت میں رائج ہیں جو احادیث اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے ثابت ہیں اور قنوت نازلہ (اللہُمَّ إِنَّا نَسُتَعِينُكَ۔۔) اور دعا قنوت (اللہُمَّ اهُدِنِي فِيمَنُ هَدَيُتَ۔۔) کا فرق بھی بتایا۔ ہم اتنے سالوں سے مولانا کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں اور ہمیشہ مولانا نے احناف کے طریقہ سے وتر پڑھائے یعنی تین رکعات اکٹھی اور درمیان میں دو رکعات کے بعد تشہد، آخری رکعت میں رکوع سے پہلے ہاتھ اٹھائے بغیر قنوت نازلہ۔ لیکن اس بار مولانا نے کہا کہ ہم دو رکعت کے بعد سلام کریں گے اور ایک رکعت الگ پڑھیں گے اور آخری رکعت میں رکوع کے بعد دعا قنوت پڑھیں گے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کریں گے۔ (صحیح بخاری 991 میں آخری رکعت الگ پڑھنے کا طریقہ حضرت عبداللہ بن عمر سے آیا ہے)۔ رکوع کے بعد قنوت نازلہ نبی ﷺ نے صرف ایک مہینہ کے لیے پڑھی تھی کافروں پر بد دعا کرنے کے لیے (صحیح بخاری 1002) مولانا طارق جمیل صاحب نے کہا کہ اس طرح سے وتر کی قنوت مخصوص حالت میں پڑھی گئی تو چونکہ اب بھی ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے حوالے سے مخصوص حالات ہیں تو ہم مسلمانوں کے لیے دعا اور کافروں پہ بد دعا کے لیے اسی طریقہ سے وتر پڑھیں گے اور قنوت پڑھیں گے۔

عموماً ہم لوگ جس بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ہم اپنے طریقہ پر سختی سے کار بند رہتے ہیں اور احادیث سے ثابت شدہ طریقہ کو بھی مسلکی اختلافات کی نذر کرکے غیر لچکدار رویہ اختیار کرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب بھی ایک خاص مسلک کے ہی نمایاں مبلغ رہے ہیں اور انہیں اسی مسلک سے جانا جاتا ہے۔ لیکن وہ سب کا احترام ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں پر اپنے طریقہ پر قائم تھے۔ وہ کم و بیش چالیس سال سے دین کے کام میں مشغول ہیں۔ اگر ان جیسا بڑا انسان اپنے ہزاروں طلباء کے سامنے ایک مختلف طریقہ اختیار کر سکتا ہے اور اس کی دلیل حدیث سے دیتا ہے تو ہم یہ لچک کیوں نہیں دکھا سکتے۔ ہمیں اپنے بڑوں کے سخت رویے زیادہ عزیز ہونے چاہئیں یا نبی ﷺ کی حدیث؟ یقیناً ہمارے لیے ہمارے ماں باپ، اولاد، مال اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہمارے پیارے نبی ﷺ ہیں۔ ان کی احادیث پر عمل کرنا ہی ہمارے لیے دین ہے نہ کہ مسلک پہ عمل کرنا دین ہے۔

مولانا طارق جمیل صاحب نے ہمیشہ محبت کا درس دیا ہے ان سے اس قوم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان کی اختیار کردہ یہ تبدیلی بھی ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہمیں دین کا علم حاصل کرنے اور اس پہ عمل کرنے کے کام کو تا عمر جاری رکھنا چاہیے۔ کسی بھی موقع پر عمر کے کسی بھی حصہ میں ہمیں صحیح علم حاصل ہو ہم میں اس کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔

Check Also

Khoon Asham OGRA Aur Mazloom Awam

By Muhammad Idrees Abbasi