Abna e Hormuz Ward, Donald Trump Aur Alam Lohar
آبنائے ہرمز وارڈ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار

عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ بھی کچھ اس انداز میں بات کرتا نظر آتا ہے جیسے محلے کا وہ لڑکا جو اپنے دوستوں کو کھیل میں شریک کرنے کے لیے پہلے منتیں کرتا ہے اور جب کوئی نہ مانے تو کہتا ہے: "اگر تم نہیں کھیلو گے تو میں بھی کھیل بند کر دوں گا!" حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے بارے میں دیا گیا بیان کچھ اسی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے اور ٹرمپ صاحب نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
بظاہر یہ بیان ایک بڑی عالمی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے چھپی بے بسی اور عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن کی جھلک بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کی بے بسی پر فوک سنگر عالم لوہار اور ڈونلڈٹرمپ میں ایک قدر مشترک نظر آرہی ہے، جس پر آگے چل کربات کرتے ہیں پہلے آبنائے ہرمز پر بات کرلیں۔۔ کیونکہ سیاق و سباق کو سمجھ کر آپ ذیادہ انجوائے کریں گے۔۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا بیشتر تیل اسی راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی معیشت کا تیل بھی بند ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہر دور میں بڑی طاقتیں اس خطے پر نظر رکھتی آئی ہیں۔ مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف ہے۔
امریکا نے اپنے اتحادیوں سے کہا کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ نام بھی بڑے بڑے تھے: جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک سے امریکا کو فوری "جی حضور" کی امید تھی، وہاں سے جواب کچھ اس قسم کا آیا جیسے شادی میں کسی کو اچانک ڈانس کے لیے کہا جائے اور وہ فوراً کہہ دے: "ہم صرف دیکھنے آئے ہیں، ناچنے نہیں!"
اطلاعات کے مطابق فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے اس معاملے میں کھل کر ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے یا کم از کم ایسا کوئی اعلان نہیں کیا جس سے ٹرمپ کی خواہش پوری ہوتی نظر آئے۔ گویا امریکا نے ڈھول بجایا مگر جلوس میں لوگ کم نکلے۔
یہ صورتحال امریکی صدر کے لیے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوگی۔ کیونکہ برسوں تک دنیا یہ دیکھتی آئی ہے کہ امریکا جب بھی کوئی آواز لگاتا تھا تو کئی ممالک فوراً صف میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن اب منظر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی سیاست کی بساط پر نئے مہرے حرکت میں آ چکے ہیں اور پرانے بادشاہ کو اب ہر چال میں پہلے جیسی طاقت محسوس نہیں ہو رہی۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اگر نیٹو ممالک تعاون نہ کریں تو اتحاد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، بظاہر ایک سخت وارننگ ہے۔ مگر سننے والوں کو اس میں وہی کیفیت محسوس ہوئی جیسے کوئی دوست کہے: "اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تم سے دوستی ختم کر دوں گا!" اور سامنے والا مسکرا کر کہے: "ٹھیک ہے، کل پھر بات کریں گے"۔
نیٹو دراصل مغربی دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد ہے، جس کی بنیاد سرد جنگ کے زمانے میں رکھی گئی تھی۔ اس اتحاد کا مقصد سوویت یونین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس اتحاد نے کئی جنگوں اور تنازعات میں کردار ادا کیا۔ مگر اب دنیا کی سیاست وہ نہیں رہی جو 1990 کی دہائی میں تھی۔
آج چین ایک بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے، روس اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور کئی ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خود مختار رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اسی لیے امریکا کی ہر اپیل پر فوری عمل درآمد کا زمانہ شاید ماضی بن رہا ہے۔
اس سارے معاملے میں ایران کا موقف بھی کم دلچسپ نہیں۔ تہران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی آئل بردار جہاز کو نہیں روکا جائے گا، بشرطیکہ ادائیگی چینی کرنسی یوان میں کی جائے۔ ورنہ راستہ بند بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بیان بظاہر ایک اقتصادی شرط ہے، مگر اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے درمیان کرنسی کی جنگ کی جھلک بھی موجود ہے۔ اگر تیل کی ادائیگی ڈالر کے بجائے یوان میں ہونے لگے تو اس کا اثر عالمی مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس پوری کہانی میں صرف جہاز ہی نہیں بلکہ کرنسیاں بھی سفر کر رہی ہیں۔
ٹرمپ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ امریکا تقریباً سات ممالک سے اس معاملے پر بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات سن کر بعض تجزیہ کاروں کو وہ منظر یاد آیا جب کوئی شخص محلے میں کرکٹ ٹیم بنانے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے: "بھائی آج میچ ہے، آؤ نا!" اور جواب آتا ہے: "آج نہیں، کل دیکھیں گے!"
اسی دوران امریکی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ممکنہ ملاقات میں تاخیر کا اشارہ بھی دیا ہے۔ گویا عالمی سفارتکاری بھی اب "اگر تم آئے تو ہم آئیں گے" کے اصول پر چلتی نظر آ رہی ہے۔
یہ ساری صورتحال ایک دلچسپ سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا واقعی دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟ یا یہ صرف ایک وقتی سفارتی کھچاؤ ہے؟
بعض ماہرین کے مطابق امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے اور اس کے پاس بے شمار وسائل موجود ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ کئی ممالک اب اپنے فیصلے زیادہ آزادانہ انداز میں کرنے لگے ہیں۔
فرانس اور جرمنی جیسے یورپی ممالک اکثر ایسے معاملات میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں جہاں انہیں لگے کہ تنازع بڑھ سکتا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا بھی خطے کی حساس صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری عسکری قدم اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔
اسی لیے ٹرمپ کی اپیل پر فوری ردعمل سامنے نہ آنا شاید کسی بڑی بغاوت کا نہیں بلکہ عالمی احتیاط کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ مگر سیاسی طنز نگاروں کے لیے یہ صورتحال یقیناً ایک دلچسپ منظر فراہم کر رہی ہے۔
تصور کیجیے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ٹرمپ فون اٹھا کر ایک ایک ملک کو کال کر رہے ہیں:
"ہیلو، کیا آپ ہرمز میں جہاز بھیج سکتے ہیں؟"
جواب آتا ہے: "ہم اس پر غور کر رہے ہیں"۔
دوسری کال:
"آپ بھیج سکتے ہیں؟"
جواب: "ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں"۔
تیسری کال:
"آپ کا کیا خیال ہے؟"
جواب: "ہمیں پارلیمنٹ سے مشورہ کرنا ہوگا"۔
یوں لگتا ہے جیسے عالمی سفارتکاری کا یہ میچ بارش کی وجہ سے بار بار ملتوی ہو رہا ہو۔
دوسری طرف ایران کا یوان والا اعلان اس کہانی میں ایک نیا موڑ لے آیا ہے۔ اگر واقعی کچھ ممالک یوان میں ادائیگی کرنے لگیں تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار اسے صرف ایک سمندری تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شطرنج کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
البتہ اس سارے منظر میں طنز کا پہلو بھی کم نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب امریکا دنیا بھر میں فوجی اتحادوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور اس کی ہر اپیل کو حکم سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ اتحادی بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں۔
ٹرمپ کی نیٹو کو دی گئی دھمکی بھی کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی استاد کلاس سے کہے: "اگر تم نے شور بند نہ کیا تو میں کلاس چھوڑ کر چلا جاؤں گا!" اور طلبہ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں۔
بلاشبہ عالمی سیاست سنجیدہ معاملات سے بھری ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اس میں ایسے مناظر بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو سیاسی طنز نگاروں کے لیے مواد کا خزانہ بن جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے۔ ایک طرف امریکا اپنے اتحادیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف اتحادی محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور تیسری طرف ایران اپنی شرطیں پیش کر رہا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے عالمی سیاست کا یہ ڈرامہ تین مختلف اسکرپٹ کے ساتھ چل رہا ہو اور ہدایت کار ابھی فیصلہ نہ کر پایا ہو کہ آخری منظر کیا ہوگا۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ اس پورے معاملے نے دنیا کو یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ سفارتی اعتماد سے بھی آتی ہے۔ جب اتحادی مکمل اعتماد کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوں تو اتحاد مضبوط رہتا ہے، ورنہ بڑے سے بڑا اتحاد بھی سوالوں کے گھیرے میں آ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکا واقعی اپنے اتحادیوں کو قائل کر پاتا ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ ایران کی یوان والی پیشکش عالمی معیشت میں کوئی نئی بحث چھیڑتی ہے یا نہیں۔ فی الحال تو منظر یہی بتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کھلی ہے، مگر عالمی سیاست کی گزرگاہ میں ٹریفک جام سا لگ گیا ہے اور اس جام میں سب سے زیادہ بے چینی شاید اسی گاڑی کے ڈرائیور کو ہو رہی ہے جس پر "امریکی جھنڈا لگا ہوا ہے"۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست اب محض طاقت کے اظہار کا نام نہیں رہی بلکہ مفادات کے باریک توازن کا کھیل بن چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی، بے چینی، اتحادیوں کی خاموشی اور ایران کی معاشی شرط، یہ سب مل کر ایک نئے عالمی بیانیے کو جنم دے رہے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں فیصلے بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ کرنسی کی قدر سے طے ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی یوآن اس کھیل میں مضبوطی سے داخل ہوگیا تو یہ صرف ایک معاشی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نقشے میں بڑی دراڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
اور مزاح کا پہلو یہ ہے کہ جس دنیا کو کبھی امریکا نے اپنے اشاروں پر چلایا، آج وہی دنیا شائستگی سے کہہ رہی ہے: "معذرت۔۔ ہم آپ کی بات سمجھتے ہیں، مگر ہم نے اپنے مفاد کو بھی دیکھنا ہے!"یوں لگتا ہے کہ اس بار شطرنج کی بساط پر صرف چالیں ہی نہیں بدلی، بلکہ کھیل کے اصول بھی آہستہ آہستہ نئے لکھے جا رہے ہیں۔۔
آئیے اب بات کرتےہیں عالم لوھار اور ڈونلڈ ٹرمپ میں مشترک قدر کی۔۔ اس موقعہ پر عالم لوہار اور ڈونلڈ ٹرمپ میں جو قدر مشترک نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ جب عظیم فوک سنگر عالم لوہار ایکسیڈنٹ کے بعد ہسپتال پہنچتے ہیں تو وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود عملہ نرس وغیرہ نے بار بار بلانے پر بھی ان پر کوئی توجہ نہ دی۔۔ تو عالم لوہار نے وارڈ میں ہی گانا گایا۔۔ واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے۔۔ کسے نے میری گل نہ سنی۔۔ اب ٹرمپ بھی "آبنائے ہرمز وارڈ " میں اپنے بڑے اتحادیوں جاپان، سپین، آسٹریلیا اور برطانیہ وغیرہ کو بار بار بلانے اور ساتھ دینے کی اپیل پر ان کی طرف سے لال جھنڈی دکھانے اور توجہ نہ دینےکے بعد ان کے بارے یہی الفاظ دہرا رہا ہے۔۔ واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے۔۔ کسے نے میری گل نہ سنی۔۔

