Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Kya Clinical Depression Ka Koi Hal Hai?

Kya Clinical Depression Ka Koi Hal Hai?

کیا کلینیکل ڈپریشن کا کوئی حل ہے؟

کلینیکل ڈپریشن کا ویسے تو کوئی آسان یا فوری حل موجود نہیں کہ چھٹکی بجا کے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن سب سے پہلے آپ نے یہ بات قبول کرنی ہوگی کہ ہاں مجھے ذہنی مسائل ہے۔ جب تک قبولیت نہیں ہوگی تب تک آپ بھاگتے رہیں گے۔ ہمارا یعنی خصوصاََ ہم مردوں کا مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ نے ہمارے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ ہم بہادر، مضبوط اور حالات سے لڑنے والے مخلوق ہے۔ ہم مرد نہ ڈرتے ہیں نہ جھکتے ہیں اور نہ ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم زندگی کی جنگ میں کمزور پڑ سکتے ہیں، ہار سکتے ہیں، بکھر سکتے ہیں اور ہارنے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو بھی سکتے ہیں۔

والدین کے ساتھ اگر ہمارا تعلق ہوتا بھی ہے تو وہ رسمی ہوتا ہے، ہم ان کے لئے نہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ان کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ مرد کے لیے جذبات کا اظہار ممنوع ہے۔ اول تو ہم نے اس historical inertia کو توڑنا ہوگا، ہم مضبوط اور بہادر نہیں، ہم ناکام بھی ہو سکتے ہیں، ہم ٹوٹ بھی سکتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جن کی ہم سے توقع نہیں کی جاسکتی۔

قبولیت کے بعد آپ نے خود کو یہ باور کروانا ہے کہ کلینیکل ڈپریشن کا یہ دورانیہ زندگی کا ایک حصہ ہے جس طرح آپ کی زندگی میں خوبصورت لمحات آتے ہیں، خوبصورت لوگ آتے ہیں، اسی طرح کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب آپ مکمل اداس ہوتے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جو آپ کو زندگی کے تلخ حقائق اور تجربات سے آشنا کر دیتے ہیں۔ یہ سب زندگی کا حصہ ہے، کچھ بھی حتمی نہیں۔ نہ خوشی اور نہ غم! کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا، آخر میں آپ کے ساتھ بس آپ خود ہی رہ جاتے ہیں۔ جب آپ کے ساتھ آپ نے خود ہی رہنا تو پھر آپ کے آپ پر کچھ حقوقِ ہے جو آپ نے ادا کرنے ہیں۔ جیسے اپنی نیند کا خیال رکھنا، اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھنا، خود کو تفریح کے لئے وقت دینا، خود کی جسمانی اور ذہنی و روحانی نشوونما کو ترجیح بنانا، اپنے ہر آنے والے دن کو گزرے دن سے بہتر بنانا، junk فوڈ، junk activities اور junk humans سے دور رہنا، کیوں کہ junk انسان یا جنک چیزیں جتنی بھی خوبصورت جتنی بھی دلفریب ہو، ہمیں جتنی بھی عزیز ہو وہ بگاڑ ہی پیدا کرتی ہے۔

دن کے کسی حصے کو بس خود کے لئے محدود کرنا کہ جو آپ بس خود کے لئے گزارے، اس میں آپ واک کیا کرے، دوڑا کرے اور یا اس کے علاؤہ کوئی ایکسرسائز کیا کرے۔

اپنی زندگی میں ڈسپلن لائیں۔ ڈسپلن سے آپ بہت ساری غیر ضروری چیزوں سے بچ جائے گیں۔

خود کو مصروف رکھے، بے حد فرصت سے سستی جنم لیتی ہے اور سستی آپ کی انرجی ضائع کرتی ہے۔

اگر آپ مذہبی ہے تو مذہب میں سکون ڈھوندیئے، قرآن پڑھئے، نماز اور مختلف ذکر و اذکار کا پابندی سے اہتمام کرکے اپنی کیتھارسز کریں۔ اگر آپ کوئی اتنی متقی نہیں تو موسیقی سنئے، رقص سیکھئے، رقص کیجئے! سرور کی محفلوں میں جایا کریں۔ وہ فلمیں، وہ کتابیں جن سے آپ کی بچپن کی یادیں جڑی ہو یا وہ جو آپ کی پسندیدہ ہو، وہ دیکھئے۔ آپ لکھ کے بھی خود کی کیتھارسز کرسکتے ہیں۔ آپ میڈیٹیشن بھی کرسکتے ہیں۔ ہفتے میں کوئی اک دن سفر کرکے من ہلکا کیا کرے، وہ مختصر سہی لیکن وہ سفر آپ خود کے لئے کیجئے۔

سفر میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو خود کو دوبارہ دریافت کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ ہم خیال دوستوں کو ڈھونڈیے، کوئی اک مل جائے تو غنیمت، نہ ملے تو صبر کیجئے! کوئی اک دن آپ کو ڈھونڈتا ہوا ضرور آئے گا۔ اپنے interest area کو دیکھ کر اس کے مطابق اپنا وقت وقت گزارا کریں۔ اینٹی ڈپریسنٹ لینے میں بھی کوئی برائی نہیں کیوں کہ لمحہ موجود میں روبوٹ کی طرح رہنا انسان بن کے لمحہ موجود سے غائب رہنے سے اچھا ہے۔ لیکن ٹھیک ہونے کے لئے یاد رکھئے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا، انتظار تھوڑا طویل بھی ہوسکتا ہے لیکن آپ مثبت چیزوں کو دیکھا کرے کہ میں اب پہلے سے اتنا بہتر ہوگیا ہو۔ بڑے مقاصد کے فریب کے بجائے چھوٹے چھوٹے مقاصد حاصل کریں۔

نارمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اگر آپ کسی کی کمزوری نہیں بن رہے، کسی کا دل نہیں دکھا رہے ہیں تو مبارک ہوں! آپ ابنارمل ہوکے بھی بہت سارے نارمل انسانوں سے بہت اچھے ہیں۔

ابنارمل ہونے میں کوئی برائی نہیں، مختلف ہونا جرم نہیں، جو مختلف ہے وہ مجرم نہیں۔ مختلف سوچنا کفر نہیں، مختلف سوچنے والا کافر نہیں اور احساسات رکھنا کوئی عجیب بات نہیں۔ یاد رکھیے! نارمل لوگوں سے کچھ بھی نہیں ہوتا، وہ نارمل زندگی جی کے اپنے جیسے اک دو تین نارمل انسانوں کو جنم دے کر مٹی تلے دفن ہوکے مٹی کا قرض لوٹاتے ہیں۔

وہ راستہ جس پر لوگ جانے سے ڈرتے ہوں، ضروری نہیں کہ وہ غلط ہو۔ ہوسکتا ہے سب غلط ہو اور آپ کا چنا ہوا راستہ صحیح ہو اور ان کی دیکھنے کی طاقت کمزور ہو! نفرت کی تبلیغ کرنا، محبت کی راہ میں کانٹے بونا، تفریق پھیلانا اور آنا کی دیوار کو ہر جگہ حائل کرنا جب نارمل بن جائے تو ایسے دور میں ابنارمل ہونا غنیمت ہے۔ پر چیز کی قیمت ہوتی ہے، ہم کڑھتے ہیں، ہم جلتے ہیں، ہم ذہنی تناؤ میں رہتے ہیں لیکن عام ہونا، عامیانہ سطح پر اترنا کبھی بھی ہمارا انتخاب نہیں ہوسکتا۔ اپنے حصے کا کام کیجئے، اپنا کردار ادا کرے اور نتائج کی پرواہ چھوڑ دیجئے۔ ارتقاء کا چلن یہی ہے کہ اس کے جبر کی چکی تلے سب مختلف سوچنے والے پیسے جاتے ہیں۔

Check Also

Khaleeji Larai Ke Kuch Heran Kun Pehlu

By Hameed Ullah Bhatti