Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Dehari Baz

Dehari Baz

دیہاڑی باز

سال 2016، پنڈی بھٹیاں کے کھیتوں میں ایک 45 سالہ خاتون کے ساتھ 22 سالہ نوجوان کی زیادتی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، مگر کہانیوں میں اکثر جو نظر آتا ہے وہ پورا سچ نہیں ہوتا، اصل قصہ کچھ یوں تھا کہ ایک چھوٹے زمیندار نے اپنی زمین بیچی اور تقریباً تیس لاکھ روپے گھر میں موجود تھے، محلے میں رہنے والے ایک خاندان کی نظر اس رقم پر پڑ گئی اور کسی طریقے سے رقم ہتھیانا چاہی، اب مسئلہ یہ تھا کہ سیدھا سیدھا پیسہ تو ملنے سے رہا، دماغوں کی فیکٹری چل پڑی، انہوں نے عجیب سا پلان تیار کیا کہ اس گھر کو ایک بڑے جھگڑے یا مقدمے میں پھنسا دیا جائے تاکہ معاملہ دبانے کے بدلے پیسے نکلوائے جائیں اور پھر سب مل کر حصہ بانٹ لیں، انہوں نے اپنی ایک جاننے والی خاتون کو سرگودھا سے بلایا اور معاملہ اس کے گوش گذار کیا، خاتون نے بِلا حیل و حجت منصوبہ قبول کر لیا۔

خاتون کو اُس گھر کے ایک 22 سالہ لڑکے کا نمبر دیا گیا، خاتون نے فون کیا اور نوجوان نے فون اٹھا لیا، ایک طرف 45 سالہ خاتون جو زندگی کے کئی موڑ دیکھ چکی تھی اور دوسری طرف ایک 22 سالہ لڑکا جس کے لیے دنیا ابھی بھی کسی نئے ناول کی طرح دلچسپ تھی، خاتون نے باتوں باتوں میں دوستی کا ایسا جال بُنا کہ اگلے ہی دن ملاقات طے ہوگئی، جب نوجوان ملاقات کیلئے پہنچا تو عمر رسیدہ مگر بااعتماد اور خوش لباس خاتون کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے ضرور حیران ہوا، خاتون دوستانہ انداز میں پیش آئی اور بات چیت میں پہل بھی اُسی نے کی تو نوجوان نے بھی سوچا کہ ایسے مواقع روز روز کہاں آتے ہیں، وہ خاتون کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر کھیتوں کی سیر کروانے نکل پڑا، پنجاب کے کھیت، ہلکی ہوا، دور تک پھیلی سبز فصلیں، منظر تو کسی رومانوی فلم جیسا بن گیا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ ایک ویران سی جگہ پہنچے، خاتون نے باتوں کے مزید جال بچھانے شروع کیے، شیطان نے نوجوان کے کان میں سرگوشی کی اور اس نے بھی مزاحمت کی بجائے سرنڈر کرنے میں ہی عافیت سمجھی، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان ایک لمحے کے بہاؤ میں بہتا ہے تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اصل کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے، کھیتوں کی سیر ختم ہوئی تو نوجوان نے بڑے سکون سے اپنے گھر کی راہ لی، مگر دوسری طرف اسکرپٹ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

خاتون نے فوراً 15 پر کال کر دی، تھوڑی ہی دیر میں پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی انہی کھیتوں میں پہنچ گئی، پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، کھیت، ویران جگہ اور کچھ ایسے آثار کہ جنہیں دیکھ کر لگا کہ واقعی کوئی واقعہ ہوا ہے، لہٰذا خاتون کو تھانے لے جایا گیا، خاتون کے بیان مطابق وہ اپنے گاؤں واپس جا رہی تھی کہ راستے میں ایک نوجوان سے لفٹ لی، پھر سنسان جگہ پر اُس نوجوان نے پستول نکال کر ڈرا دھمکا کر زیادتی کی اور فرار ہوگیا، اس دوران خاتون کے چند رشتہ دار بھی تھانے پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ یہ ہماری مہمان سرگودھا سے آئی ہے، درخواست درج ہوگئی اور پولیس نے حلیے کے مطابق نوجوان کی تلاش شروع کر دی، خاتون کا بیان کردہ حلیہ کچھ مبہم تھا "قد درمیانہ، عمر جوان، چہرہ عام سا، سانولی رنگت"۔ یعنی آدھا پنجاب اِس حلیے میں فِٹ آ سکتا تھا، دن بھر تلاش جاری رہی مگر کوئی خاص سراغ نہ ملا۔

شام کے وقت خاتون انہی رشتہ داروں کے ساتھ دوبارہ تھانے پہنچ گئی اور بتایا کہ ہم نے خود ہی پتہ کر لیا ہے، وہ نوجوان قریبی گاؤں کا رہنے والا ہے، پولیس وین خاتون کو ساتھ لے کر ایک گاؤں کی طرف روانہ ہوئی، کچھ ہی دیر بعد وہ ایک گھر کے سامنے رکی، وہاں ایک نوجوان آرام سے بھینسوں کو چارہ ڈال رہا تھا، منظر بڑا دیہی اور پرسکون تھا جیسے اُسے دنیا کے کسی طوفان کی خبر ہی نہ ہو، خاتون نے جونہی اُسے دیکھا فوراً انگلی اٹھا کر کہا: "یہی ہے وہ لڑکا!"

نوجوان کو پولیس وین میں بٹھا کر تھانے لایا گیا، خبر ملنے پر نوجوان کا والد اور ماموں بھی فوراً تھانے پہنچ گئے، پولیس نے انہیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا، نوجوان نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اس خاتون کو نہیں جانتا، یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے، ایک تجربہ کار اہلکار نے اسے سمجھایا کہ بہتر ہے سچ خود ہی بتا دو، یہ جملہ سنتے ہی نوجوان کے چہرے کے تاثرات بدلے اور کہا: "جی، لفٹ تو میں نے دی تھی مگر میں نے اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی"۔ مزید حوصلہ دینے پر نوجوان نے پوری کہانی اپنے انداز میں سنانی شروع کی کہ سفر کے دوران خاتون نے خود ہی ایک جگہ بائیک رکوانے کو کہا، وہاں سے باتوں باتوں میں وہ اسے کھیتوں کی طرف لے گئی اور پھر اسی جگہ جذبات اور کم عمری کی وہ غلطی ہوگئی جسے بعد میں بڑا واقعہ بنا دیا گیا۔

نوجوان کا موقف تھا کہ آپ ڈیٹا نکلوا لیں، پہلی کال اسی خاتون کی ہے اور اگلے روز دوسری بار بھی خاتون نے خود اسے فون کیا تھا، بہر حال پولیس نے قانون کے مطابق خاتون اور ملزم کو لاہور لے جا کر فارنزک اور میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، پنڈی بھٹیاں سے روانگی کے وقت متعلقہ افسر نے خاتون اور ملزم کے شناختی کارڈ چیک کئے مگر لاہور پہنچے تو خاتون نے بتایا کہ اس کا شناختی کارڈ راستے میں کہیں گر گیا ہے حالانکہ پنڈی بھٹیاں اور لاہور کے درمیان گاڑی کہیں رکی بھی نہیں، ظاہری طور پر خاتون میڈیکل اور ڈی این اے سے بچنا چاہتی تھی، لیکن اپنے ذرائع استعمال کرکے پولیس میڈیکل کروا کے خاتون اور ملزم کو واپس پنڈی بھٹیاں لے آئی۔

کہانی اب آہستہ آہستہ اس طرف گامزن تھی جہاں حقیقت کے پردے ہلنے لگتے ہیں، شام کو پھر خاتون اور اس کے لواحقین کچھ سفارشی لے کر آگئے، سفارشی یا مصالحت کار نے کوشش کی کہ ملزم کا والد 20 لاکھ روپے دے کر اپنے بیٹے کی جان چھڑا لے تو خاتون اسے معاف کردے گی، لیکن حیران کن طور پر ملزم کے باپ نے کہا کہ میرے بیٹے نے بے غیرتی کی ہے اسے چاہے پھانسی پر لٹکا دو میں ایک روپیہ نہیں دوں گا، سفارشی نے پھر چند گھنٹے کے صلاح مشورے کے بعد دوبارہ پیشکش کی کہ اگر 10 لاکھ دینے پر آمادہ ہو جاؤ تو کوشش کرتا ہوں لیکن ملزم کے باپ نے ایک روپیہ بھی نہ دینے کی قسم کھا لی، مصالحت کار کو اندازہ ہوگیا کہ یہ دروازہ اتنی آسانی سے نہیں کھلنے والا، اُدھر خاتون اور اس کے دیہاڑی باز رشتہ دار پریشان ہونے لگے کہ جو منصوبہ بڑی امیدوں سے بنایا تھا وہ الٹا خود ان کے لیے مصیبت بنتا جا رہا تھا، بالآخر مذاکراتی کمیٹی نے ایک درمیانی راستہ نکالا، لڑکے کے ماموں کے کہنے پر ایک لاکھ روپے دے کر معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی، خاتون نے پچیس ہزار روپے اپنے پاس رکھے، باقی دیہاری بازوں کو دیئے اور نیا بیان لکھوا کر خاموشی سے اپنے شہر سرگودھا واپس روانہ ہوگئی، قانونی کارروائی کے مطابق نوجوان کا چالان ہوا اور وہ جیل بھی گیا، مگر پہلی ہی پیشی پر وکیل نے ضمانت پر رہا کروا لیا۔

اس کہانی میں ہر کردار کو کچھ نہ کچھ سبق ملا، کسی کو جلد بازی کا، کسی کو لالچ کا اور کسی کو دنیا کی چالاکیوں کا، جب راستے میں کسی اجنبی کو لفٹ دینے کا خیال آئے تو تھوڑا سا عقل کا بلب بھی ضرور جلائے رکھنا چاہیے، اس داستان کا حاصلِ مطالعہ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو بات سادہ مگر بڑی گہری ہے، دنیا میں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر آپ کے دکھ درد کے ساتھی بن کر سامنے آتے ہیں، مگر ان کی نگاہیں اصل میں آپ کی جیب کے موسم پر ہوتی ہیں، ایسے لوگ عام زبان میں دیہاڑی باز کہلاتے ہیں، ان کی محنت بھی عجیب قسم کی ہوتی ہے، کوئی مزدوری نہیں، کوئی کاروبار نہیں، بس کسی نہ کسی طرح کسی معصوم انسان کو ایسی الجھن میں ڈال دو کہ اس کی جیب سے کچھ نہ کچھ نکل آئے، گویا مقصد یہی ہوتا ہے کہ نہ محنت کرنی پڑے، نہ جواب دہی ہو اور پیسہ بھی ہاتھ آ جائے۔

Check Also

Kya Clinical Depression Ka Koi Hal Hai?

By Mehran Khan