Khoon Asham OGRA Aur Mazloom Awam
خون آشام اوگرا اور مظلوم عوام

حکمرانوں نے بچت (Austerity) کے نام پہ کچھ نمائشی اقدامات کے ساتھ عوام کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ مزید قربانی کے لئے تیار رہیں۔ پاکستان اس جنگ کا فریق نہیں۔ اس نے نہ کوئی گولی چلائی ہے اور نہ کسی محاذ پر قدم رکھا ہے۔ اس کے باوجود عالمی کشیدگی کے جھٹکے پاکستان کے 26 کروڑ عوام کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان، جو اس تنازع کا حصہ ہی نہیں تھا، کیوں اس جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی توانائی کے بحران کا شکار ہوگیا؟
یہ معاشی جھٹکا اس وقت آیا جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے بزرجمہروں نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں یکلخت فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا۔ ساتھ ہی یہ مژدہ سنایا کہ پندرہ کی بجائے اب ہر سات روز بعد قیمتوں کا تعین ہوگا۔ یہ محض ایک سرکاری اعلان نہیں تھا۔ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی پر ایک معاشی دھماکے کے مترادف تھا۔ آج عام آدمی کی حالت یہ ہے کہ وہ ہر جمعہ کو خوف کے ساتھ دیکھتا ہے کہ کہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ اس کی پہلے سے کمزور ہوتی ہوئی معیشت پر مزید بوجھ نہ ڈال دے۔ ملک بھر میں مہنگائی کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ تعمیراتی صنعت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سیمینٹ، سٹیل، کرش اور تمام مصنوعات کے ریٹ غیر معمولی بڑھ چکے ہیں۔ ادھر پاکستان کنٹریکٹر ایسوسی ایشن اب Force Majeure کی شق میں "پاکستان میں جنگ" کے ساتھ" انٹرنیشنل وار کے پاکستان میں اثرات" کے الفاظ کے اضافہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پاکستان اس جنگ میں شامل نہیں، مگر اس کے شہری ایسے تکلیف اٹھا رہے ہیں جیسے وہ براہ راست میدان جنگ میں ہوں۔ عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آب آئے ہرمز کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ مگر پاکستان کو اس قدر غیر محفوظ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست بوجھ اس کے عوام پر پڑے۔
درحقیقت، ماضی میں پاکستان کے پالیسی ساز اس خطرے سے بخوبی آگاہ تھے۔ 1983 میں یہ پالیسی بنائی گئی کہ ملک کے پاس کم از کم 45 دن کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر موجود ہوں تاکہ عالمی رسد میں خلل کی صورت میں معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ بعد ازاں پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں 2006 میں اس مدت کو بڑھا کر 60 دن کر دیا گیا۔ ایک قومی فریم ورک تیار کروایا گیا۔ اس میں تجویز پیش کی گئی کہ اسٹریٹجک ذخائر کو اُن تجارتی ذخائر سے الگ رکھا جائے جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ اس فریم ورک میں یہ تصورات بھی شامل کیے گئے کہ ذخائر کو وقتاً فوقتاً گردش (روٹیشن) میں رکھا جائے تاکہ ایندھن کے معیار میں خرابی یا بگاڑ پیدا نہ ہو۔ مزید یہ کہ حکومت اور صنعت کے درمیان مالی خطرات کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے کا طریقہ وضع کیا جائے اور ذخیرہ گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لیوی کے نظام کے ذریعے فنڈنگ فراہم کی جائے۔ یوں اس پورے نظام کی ساخت نہایت سوچ بچار کے ساتھ ترتیب دی گئی تھی اور یہ بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگ تھی۔ مگر افسوس اوگرا یہ سب نہ کر سکا۔ کیوں؟
اب وزیر خزانہ اورنگزیب کا 28 دن کے محفوظ ذخائر کا بیان بھی کھوہ کھاتے میں گیا جب اوگرا نے ساتویں دن ہی تیل کی قیمتوں میں اچانک غیر معمولی اضافہ کرکے عوام کی کمر میں چھرا گھونپا۔
پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرک اور بس مالکان کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ کسانوں کے لیے ڈیزل مہنگا ہو جاتا ہے جس سے ٹریکٹر، آبپاشی پمپ اور زرعی مشینری چلانا مہنگا پڑتا ہے۔ صنعت کاروں کے لیے خام مال اور تیار مال کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور آخرکار یہ تمام بوجھ عام صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پہلے سے مشکلات کا شکار خاندانوں کی قوت خرید مزید کم ہو جاتی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور مہنگائی عام آدمی کی زندگی کو مزید جکڑ لیتی ہے۔ یہ کوئی نظریاتی یا فرضی بحث نہیں بلکہ اس وقت پاکستان میں رونما ہونے والی حقیقت ہے۔
اسی دوران پاکستان کے گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ فروری 2026 تک یہ قرضہ تقریباً 3.283 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بوجھ نہ صرف توانائی کے شعبے کے لیے خطرہ ہے بلکہ پوری معیشت کے استحکام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس بحران کی ذمہ داری برسوں کی ریگولیٹری ناکامی اور پالیسی کی غلطیوں پر عائد ہوتی ہے، جس میں اوگرا اور متعلقہ وزارت دونوں شامل ہیں۔ ملک میں ریفائنریوں سے پٹرول پمپس تک پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے کا نظام برسوں پہلے بھی قائم کیا جا سکتا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل نگرانی ممکن ہے۔ ریفائنری سے لے کر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ٹینکروں، پٹرول پمپس اور حتیٰ کہ گاڑیوں کے ٹینک تک ہر مرحلے کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ آج کے اسمارٹ فونز اور سادہ ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے سیال مادوں کے بہاؤ کو حقیقی وقت میں ٹریک کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
مگر جب کچھ برس قبل ماہرین کی طرف سے اس نوعیت کی ایک تجویز پیش کی گئی تو اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر اس منصوبے کو آگے بڑھانے والوں کو دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: آخر ایک ریگولیٹری ادارہ شفافیت سے کیوں خوفزدہ ہوگا؟
اس سوال کا جواب شاید اس تلخ حقیقت میں پوشیدہ ہے جس کا ذکر توانائی کے شعبے میں اکثر نجی محفلوں میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایندھن میں ملاوٹ ایک خطرناک اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل میں صنعتی سالوینٹس ملائے جاتے ہیں، جو عام طور پر پینٹ اور ربڑ کی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت پٹرول سے تقریباً 100 روپے فی لیٹر کم ہوتی ہے، مگر جب انہیں ملا کر اصل قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے تو غیر قانونی منافع بے حد بڑھ جاتا ہے۔
بعض صورتوں میں پٹرول میں 60 فیصد تک صنعتی سالوینٹ شامل ہوتا ہے جبکہ صرف 40 فیصد اصل ایندھن رہ جاتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹوں کو دھوکہ دینے کے لیے میتھانول بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ کم معیار کا ایندھن بھی معیاری دکھائی دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاڑیوں کے انجن خراب ہوتے ہیں، حکومت کو ٹیکس میں نقصان ہوتا ہے اور ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
یہاں تک کہ پٹرول پمپس پر فروخت ہونے والی مقدار بھی بعض اوقات حیران کن ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ 30 لیٹر ٹینک والی گاڑی میں 45 لیٹر پٹرول ڈال دیا جائے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ نگرانی اور ضابطہ کاری کا نظام کس حد تک کمزور ہو چکا ہے۔
دوسری جانب دنیا کے کئی ممالک اپنے توانائی نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کا ریگولیٹری ادارہ "پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیٹری اتھارٹی" اب مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا تجزیے کی مدد سے پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور تقسیم کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بدعنوانی اور ملاوٹ جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے۔ یہ کوئی پیچیدہ تکنیکی مسئلہ نہیں۔ مگر پاکستان میں پھیلے خون آشام تیل مافیا گرو گھنٹال پیٹرولیم بیوروکریسی کی مدد سے یہ ہونے نہیں دیتا۔ اس کے نفاذ کے لئے آہنی ہاتھوں کی ضرورت ہے، جو شائید موجودہ قیادت کے پاس نہیں ہیں۔
موجودہ مغربی سرحدوں پہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ تو افواج پاکستان جیت رہی ہیں مگر افسوس ہے کہ اسلام آباد کے دفتروں میں ایک اور جنگ ہاری جا رہی ہے، بدعنوانی، غفلت اور ریگولیٹری ناکامی کے خلاف جنگ۔ یہ تضاد نہایت افسوسناک ہے۔ ایک طرف سرحدوں پر سپاہی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور دوسری طرف اندرونی نظام کی کمزوریاں قومی معیشت کو خاموشی سے کمزور کر رہی ہیں۔
درحقیقت پٹرولیم سپلائی چین کا جامع فرانزک آڈٹ کیا جانا چاہیے۔ ریفائنری سے پٹرول پمپ تک ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ نافذ ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے اور ملاوٹ شدہ ایندھن کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد بحال ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر پاکستان کو عالمی بحرانوں کے جھٹکے برداشت کرنے ہی ہیں تو اسے اپنے ہی اداروں کی ناکامیوں کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
وزیراعظم اگلی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا کس منہ سے اعلان کریں گے، جبکہ ابھی تو پچھلے چلائے ہوئے گرز کا پتھر دل سے ہٹا نہیں ہے۔
وزیراعظم سے درخواست ہے اداروں کو لگام ڈالیں، عوام کو موجودہ حکومت کا وہ وعدہ اب ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے جس میں مہنگائی کو کم کرنے کا مژدہ سنا کے رجیم چینج کیا گیا تھا۔ آج بھی وقت ہے کہ درست فیصلے کیے جائیں۔ کیونکہ تاریخ اس لمحے کو ضرور یاد رکھے گی اور یہ سوال بھی پوچھے گی کہ جب سرحدوں پر سپاہی خون دے رہے تھے تو کیا ریاست کے اندر موجود ادارے واقعی قوم کے مفاد کی حفاظت کر رہے تھے؟

