Nuqsa Awam Ka Hota Hai
نقصان عوام کا ہوتا ہے

کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جو معدنی وسائل پر قابض ہونے کے لیے لڑی جاتی ہیں، کچھ زمین کے لیے اور کچھ تاریخ میں جگہ بنانے کے لیے۔ مگر موجودہ ایران والی جنگ ایک بالکل مختلف قسم کی جنگ ہے۔ یہ جنگ بظاہر انسانیت کی خدمت کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ کم از کم اس کے حامی یہی کہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس جنگ کے دو نہایت نیک اور پاکیزہ مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ کہ ایران کی حکومت کو سبق سکھایا جائے کیونکہ وہ اپنے عوام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی۔ اب ظاہر ہے اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں پر ظلم کرے تو دنیا کی بڑی طاقتوں کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ بمباری کے ذریعے اس کی اصلاح کریں۔ اس مقصد میں سب سے زیادہ دلچسپی یقیناً عالمی تھانیدار امریکا اور عالمی انسانی حقوق کے چیمپئین اسرائیل کو ہے۔ دونوں انسانی حقوق کے ایسے علمبردار ہیں کہ اگر کہیں کسی کو ذرا سی بھی تکلیف ہو تو فوراً بمباری کے ذریعے اس تکلیف کو رفع کرتے ہیں۔
جنگ کے حامیوں کا دوسرا مقصد بھی بہت معقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ ہے کیونکہ اس کے کچھ دوست ہیں۔ مثال کے طور پر حزب اللہ، حماس اور حوثی۔ ان سب کو ملا کر "رِنگ آف فائر" کہا جاتا ہے۔ چنانچہ حل یہ نکالا گیا کہ اگر آگ کا حلقہ ہے تو بہتر ہے پورے خطے میں آگ ہی لگا دی جائے تاکہ مسئلہ مستقل حل ہو جائے۔ البتہ اس جنگ کی سب سے دلچسپ بات اس کے مقاصد ہیں۔ صبح کے وقت ٹرمپ کہتا ہے کہ ایران میں حکومت بدلنی چاہیے۔ دوپہر تک وہ کہتا ہے کہ نہیں ہمیں صرف ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرنا ہے۔ شام تک وہ کہتا ہے کہ ایران کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے چاہئیں اور رات کو وہ سوچتا ہے کہ مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے جنگ نہیں بلکہ کوئی ریئلٹی شو چل رہا ہو۔
تاریخ مگر تھوڑی ضدی چیز ہے۔ وہ یاد دلاتی ہے کہ جب امریکا نے عراق وار کے ذریعے جمہوریت برآمد کرنے کی کوشش کی تھی تو نتیجہ جمہوریت سے زیادہ افراتفری نکلا تھا۔ اسی طرح لیبیا میں مداخلت کے بعد لیبیا جمہوری جنت کے بجائے خانہ جنگی کا میدان بن گیا۔ اس بار نامعلوم کیا ہوگا کیونکہ اس بار منصوبہ پہلے سے بھی کم واضح ہے اور منصوبہ ساز کنفیوژن کی بلند ترین سطح پر ہیں۔
اُدھر ایران بھی خالی ہاتھ نہیں بیٹھا۔ اس نے دنیا کو یاد دلایا کہ اس کے پاس اہم جغرافیائی میزائل بھی ہے۔ آبنائے ہرمز۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو دنیا کے بیس فیصد تیل کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ دوسری طرف ایران کے نظام کو بھی ایک نئی سہولت مل گئی ہے۔ اب کل کلاں پھر اگر وہاں کوئی معاشی پالیسوں کو لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کرے تو حکومت آسانی سے کہہ سکتی ہے کہ یہ سب غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور ایجنٹ کو زندہ رہنے کا حق نہیں۔
اور اگر جنگ کا منصوبہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو ہر گھنٹے بعد اپنا مقصد بدل دیتے ہوں تو پھر یہ جنگ کم اور عالمی لیبارٹری میں دھماکہ خیز مواد کا تجربہ زیادہ لگتی ہے۔ ایسا تجربہ جس میں لیبارٹری پوری دنیا ہے اور تجرباتی چوہے لاکھوں انسان۔ روسی خبر رساں ایجنسی RT نے اب تک اس جنگی لیبارٹری میں مرنے والوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
ایران میں 1348 افراد جاں بحق، 17000 زخمی۔ اسرائیل میں 15 ہلاک، 3000 زخمی۔ امریکا کے 15 فوجی ہلاک، 140 زخمی۔ عرب امارات میں 6 جاں بحق، 141 زخمی۔ کویت میں 6 جاں بحق، 101 زخمی۔ عراق میں 22 جاں بحق، 30 زخمی۔ عمان میں 3 جاں بحق، 5 زخمی۔ بحرین میں 2 جاں بحق، 60 زخمی۔ سعودی عرب میں 2 جاں بحق، 12 زخمی۔ قطر میں 16 زخمی۔ اردن میں 14 زخمی۔ لبنان میں اسرائیل حملہ آور ہے وہاں 717 جاں بحق اور 1800 زخمی اور ساڑھے سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں طاقت کا غلط استعمال بھی ایک عجیب فن ہے۔ کچھ لوگ اسے اتنی سنجیدگی سے کرتے ہیں کہ پوری دنیا کانپنے لگتی ہے۔ اس فن کے دو دلچسپ شاگرد ہیں ایڈولف ہٹلر اور ڈونلڈ ٹرمپ۔ ہٹلر طاقت کے استعمال میں اتنا سنجیدہ آدمی تھا کہ اس نے پورا جرمنی ہی اپنی ذاتی فائل سمجھ لیا۔ پارلیمنٹ اس کے لیے ایک ایسی چیز تھی جسے صرف بند کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مخالفین کو دیکھ کر اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ آتی تھی جو بلی کو چوہا دیکھ کر آتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اگر کوئی اس سے اختلاف کرے تو اس کا علاج جیل، جلاوطنی یا بدقسمتی سے قبر ہے۔
اُدھر ٹرمپ صاحب طاقت کو ذرا مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ مخالفین کو جیل بھیجنے کے بجائے پہلے ٹوئٹر پر ٹانگ دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کسی کو نیچا دکھانا ہو تو پہلے اسے "فیک نیوز" کہہ دو باقی کام چاہنے والے خود کر لیں گے۔ البتہ ہٹلر کی مانند وہ امریکی کانگریس کو بھی گھاس نہیں ڈالتے۔ ہٹلر کے زمانے میں پروپیگنڈا کا پورا نظام تھا جسے اس کے وفادار وزیر جوزف گوئبلز سنبھالتے تھے۔ اخبار، ریڈیو اور تقریریں سب ایک ہی دھن پر چلتے تھے۔ پیغام سیدھا تھا"جو ہم کہیں وہی سچ ہے، باقی سب دشمن ہیں"۔ ٹرمپ کے زمانے میں یہ کام پیٹ ہیگسیتھ کے ذمے ہے۔ اس کے بعد مارکو روبیو کور کرتا ہے اور آخر میں جے ڈی وینس ٹوپی سے کبوتر نکال کر بتاتا ہے کہ دیکھا ہمارا شاندار کارنامہ؟ باقی کا کام پینٹاگون سنبھال لیتا ہے۔
ہٹلر کی طاقت کا نتیجہ آخرکار جنگِ عظیم دوم اور خوفناک تباہی کی صورت میں نکلا۔ ٹرمپ کے معاملے میں دنیا ابھی تک یہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ زیادہ خطرناک ہیں یا زیادہ تفریحی۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ طاقت کو ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے کوئی رئیلٹی شو چلا رہا ہو۔ البتہ مجھے محسوس ہوتا ہے ٹرمپ امریکا اور دنیا کے لیے تھوڑے انداز کے رد و بدل کے ساتھ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا ہٹلر۔ ہٹلر بھی اپنے تائیں جرمنی کو "عظیم جرمنی" بنانا چاہتا تھا۔ ٹرمپ کے ہاتھ میں طاقت ہے اور زبان پر "Make America Great Again"۔
ہٹلر طاقت کے استعمال میں سخت گیر استاد تھا جبکہ ٹرمپ اسی مضمون کا طالب علم ہے۔ ایک نے دنیا کو خوفزدہ کیا اور دوسرا دنیا کو کنفیوز کر رہا ہے۔ طاقت جب عقل کے ساتھ نہ ہو تو کبھی سانحہ بن جاتی ہے اور کبھی تماشا۔ دونوں صورتوں میں نقصان بہرحال عوام ہی کا ہوتا ہے۔

