دفاعی صنعت اور معیشت

پاکستان کو اِس وقت کئی سنجیدہ نوعیت کے جن چیلنجز کا سامنا ہے اِن میں ایک دہشت گردی ہے اِس کا امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کے ساتھ معیشت کے زوال میں اہم کردار ہے کیونکہ بدامنی سے پیداواری شعبہ سُکڑنے کی وجہ سے برآمدی شعبہِ اس حدتک متاثر ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالرسے تجاوز کرگیا ہے اِس میں کچھ عمل دخل نرم درآمدی پالیسی کابھی ہے جو آئی ایم ایف سے کیے وعدوں کا نتیجہ ہے جس سے برآمدات سے درآمدات بڑھتی جارہی ہیں مگر دہشت گردی نے معیشت کو بُری طرح جکڑ رکھا ہے جس سے پیداواری شعبہ نمو نہیں پارہا لیکن عسکری قیادت کی دہشت گردی کے خلاف ثابت قدمی سے کافی بہتری آئی ہے مزید اطمنان کا پہلو یہ ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت میں تعاون کی فضا ہے اور دونوں معاشی بحالی میں ایک دوسرے کے سہولت کار ہیں اِس وقت جہاں دیگر پیداواری شعبے زوال پذیر ہیں پاکستان کا دفاعی شعبہ مسلسل ترقی کی جانب گامز ن ہے اور پاکستان خطے میں دفاعی سامان برآمد کرنے والے ایک بڑے ملک کے طورپر شناخت بنارہا ہے محدودوسائل میں یہ پیش رفت معیشت کے لیے بھی کسی حدتک اکسیجن ہے۔
دسمبر1971کی پاک بھارت جنگ نے پاکستان کوجس کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کیا تھا اُس سے پاکستان اب نکل آیاہے گزشتہ برس مئی کی محدودجھڑپوں نے ایک ایسے پاکستان کی بنیادرکھی ہے جو جوہری ملک ہونے کے ساتھ روایتی ہتھیاروں میں بھی آگے ہے اورہر قسم کے خطرات کا سامناکرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں کو ایسے نشانہ بناکر تباہ کیا جیسے ماہر شکاری پرندوں کاشکارکرتاہے وہ بھارت جو پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بناکر طاقتور ہونے کا تاثر دے رہا تھااُس کی دفاعی تنصیبات کو پاک فوج نے چند گھنٹوں میں ملیا میٹ کردیا سچ تو یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جھڑپوں سے پاکستانیوں کونہ صرف ایک نیا اعتماد اور حوصلہ ملا بلکہ ملک کی عالمی ساکھ بھی بہتر ہوئی ہے اور عشروں بعد دنیاپاکستان کو اہم اور طاقتورکھلاڑی سمجھ کر متوجہ ہوئی ہے آج نہ صرف خطے میں پاکستانی کردار وسعت پذیر ہے بلکہ افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیائی ریاستوں کادفاعی حوالے سے پاکستان پر انحصار بڑھنے سے معیشت میں بھی بہتر ی کی توقع ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب بھارت ملکی ساختہ تیجس طیارہ باوجود کوشش کسی بھی ملک کوفروخت کرنے میں ناکام ہے کیونکہ تیجس ابھی تک کسی حربی ٹکراؤمیں استعمال نہیں ہو سکا کہ خوبیاں معلوم ہو سکیں البتہ دبئی کے فضائی مظاہرے میں اِس لڑاکا طیارے کی تباہی ساراعالم جان گیا ہے اِس واقعہ سے بھارت کی نہ صرف دفاعی صنعت کے اعتبار کو دھچکا لگا ہے بلکہ بھارتی فضایہ کو بھی شرمندگی ہوئی نیز براہموس میزائل بھی کچھ خاص تاثرنہیں دے سکا جبکہ پاکستان کی چند گھنٹوں پرمحیط زمینی اور فضائی کاروائی سے بھارت نے نہ صرف اپنے لڑاکا طیارے ڈر سے دوردراز مستقروں میں چھپا دیے بلکہ براہموس استعمال کرنے کی جرات نہ کر سکا بلکہ جنگ بندی کے لیے عالمی خیرخواہوں سے رابطے کرنے لگا اسی بناپر امریکی صدرٹرمپ پاکستان کی عسکری قیادت پر فداہے اور قطر وسعودی عرب جو پاکستان کو جوابی کاروائی کی بجائے صبروتحمل کے مشورے دے رہے تھے کہ وہ غزہ نہیں دیکھنا چاہتے آج پاکستان سے دفاعی تعاون چاہتے ہیں یہ تبدیلی پاکستان کی عسکری قیادت کی پیشہ وارانہ مہارت و طاقت کا اعتراف ہے۔
ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان خطے کے امن واستحکام کے لیے ناگزیرہے پاکستان کی عسکری قیادت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے آشنا ہے اوراِس میں غفلت نہیں کررہی پاک فوج پیشہ ورانہ مہارت اور جدیدجنگی طیاروں کی بناپر خطے میں چین کے بعد اہم ترین ہے تیجس کو توآج تک کوئی ایک بھی خریدار نہیں مل سکا آرمینیا نے خریداری کی جاری بات چیت تک ختم کردی ہے لیکن جے ایف 17 تھنڈر اِس وقت آزربائیجان، میانمار، نائیجریا کی فضائیہ کا اہم حصہ ہیں یہ جنگی طیارہ کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ائر کرافٹ ہے جس نے بھارت کے ساتھ 2019اور 2024کی جھڑپوں میں خوب کارکردگی دکھائی اسے بنگلہ دیش، سعودی عرب، عرب امارات، عراق اور لیبیاسمیت مزید کئی ممالک سے خریدناچاہتے ہیں اِس پاکستانی شاہکار طیارے نے دبئی کے فضائی مظاہرے میں فضائی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے فضائی جھڑپ میں پاکستانی پائلٹوں نے کمال دکھایا اورپھر آزربائیجان کے لیے جاتے ہوئے فضامیں ہی ایندھن لینے کامظاہرہ بھی ہو چکااب توکئی عرب، ایشیائی اور افریقی ممالک مشترکہ تربیت کے خواہشمند ہیں اسی بناپر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت معاشی حالت کی بہتر ی میں بھی معاون ہے۔
جنگیں دعووں سے نہیں مہارت، طاقت اور بروقت فیصلوں سے جیتی جاتی ہیں یہ سب پاک فوج کی خوبیاں ہیں آپریشن سندور کو پاکستان نے بھارت کے ماتھے کی کالک بنایا اوروہ بھارت جسے اپنے دفاعی نظام پرنازتھاکیونکہ یہ تین سوکلومیٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ایک سو تک لڑاکاطیاروں کو مصروف کرنے کی خوبی رکھتاہے لیکن مئی کی پاک بھارت جھڑپوں میں پاک فوج نے کچھ ایسا مہارت کا مظاہرہ کیاکہ دفاعی نظام کے حرکت میں آنے سے قبل ہی دفاعی اہداف کو نشانہ بناڈالا ایس400کو بھی کسی کاروائی کا موقع ہی نہ دیا جس کی وجہ سے ترکیہ اور برازیل جیسے ممالک نے یہ نظام خریدنے کی روس سے جاری بات چیت روک دی ہے فلپائن اوریران نے بھی یہ نظام خریدنے کااب ارادہ ترک کردیا ہے آپریشن سندور سے بھارت کی دفاعی خامیاں دنیا پر اُجاگر ہوئیں تو روسی دفاعی صنعت کو بھی دھچکا لگا ہے لیکن پاک چین اشتراک نے اپنی خوبیوں، مہارت اور طاقت کا لوہا منوالیا ہے۔
بھارت نے دفاعی نظام تباہ کرانے کے بعد اپنا طیارہ بردار جہاز وکرانت کو پاکستانی سمندری حدود میں بھیج دیا لیکن یہ فیصلہ بھی توقع کے مطابق نتائج نہ دے سکا اورپھر وکرانت لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی مجبوراََواپس بلانا پڑا پاکستان نے مہارت اور ٹیکنالوجی دونوں میں بھارت کو مات دیدی اور نہ صرف جوہری جنگ کی نوبت نہیں آنے دی بلکہ روایتی ہتھیاروں سے بھارت کے دفاعی اہداف کو نشانہ بناکر برتری ثابت کردی کیونکہ بھارت نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بناکراملاک و انسانی جانوں کونقصان پہنچاکر خوف وہراس پھیلایا مگرجواب میں بھارت کے بجلی نظام کو جام کرنا، دفاعی نظام کے ساتھ اکتیس سے زائد فوجی اہداف کی تباہی جدید حربی نظام کاایساشاندار مظاہرہ ہے جس کا سہراجنرل عاصم منیر کے سر ہے جنھوں نے بروقت اورٹھوس فیصلے کیے جو نتیجہ خیز ثابت ہوئے پاکستان کی دفاعی صنعت کا موجودہ عروج گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت جنگ کے تجربات اور نتائج کاہی نتیجہ ہے جس میں بھارت کی دفاعی صنعت کو ناقابلِ یقین نقصان پہنچا اور پاکستان خطے کے ساتھ عالمی نظام کا ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا جو دفاعی صنعت کے عروج کے ساتھ ملکی معیشت کوسہارہ دینے کا باعث ہے۔

