Faiqa, Noor Khan Ki Tabnak Beti
فائقہ، نور خان کی تابناک بیٹی

واشنگٹن سے آنے والی خبر نے دلوں پر ایک گہرا اداس سایہ ڈال دیا کہ ایئر مارشل نور خان کی صاحبزادی، ڈاکٹر فائقہ قریشی، امریکا کی ریاست ورجینیا کی ڈِن وِڈی کاؤنٹی میں ایک المناک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئیں۔ عمر پچہتر برس تھی۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ 29 دسمبر کو آئی۔ 85 نارتھ پر مک کِنی ہائی وے کے قریب پیش آیا، جہاں ان کی گاڑی کسی رکاوٹ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئیں۔ یوں ایک ایسی باوقار اور خدمت گزار شخصیت خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگئی جس نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار دی تھی۔
ڈاکٹر فائقہ قریشی نہ صرف ایک قابلِ احترام معالج تھیں بلکہ شعبۂ پیڈیاٹرک ایمرجنسی میڈیسن میں ان کی خدمات کو خاص وقعت حاصل تھی۔ وہ بچوں کی زندگی بچانے والی ڈاکٹر تھیں، جو ہر ایمرجنسی میں صرف ایک پیشہ ور نہیں بلکہ ایک مہربان انسان بن کر سامنے آتی تھیں۔ ان کے لیے طب محض روزگار نہیں، خدمت کا راستہ تھا اور یہی وصف انہیں اپنے عظیم والد سے وراثت میں ملا تھا۔
ڈاکٹر فائقہ قریشی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس کا نام پاکستان کی تاریخ میں احترام اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد ایئر مارشل نور خان ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف پاک فضائیہ کو نئی رفعتوں تک پہنچایا بلکہ سول ایوی ایشن، کھیلوں کی سرپرستی اور عوامی خدمت کے میدانوں میں بھی اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔ ایسے عظیم باپ کی بیٹی ہونا محض ایک نسبت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہوتی ہے اور ڈاکٹر فائقہ نے اس ذمہ داری کو خاموشی، وقار اور محنت سے نبھایا۔ انہوں نے کبھی اپنے خاندانی پس منظر کو شہرت کا زینہ نہیں بنایا بلکہ اپنی پہچان اپنے کام سے قائم کی۔ امریکا میں رہتے ہوئے بھی وہ دل سے پاکستان سے جڑی رہیں اور ان کا نام ہمیشہ اس خاندان کے شایانِ شان رہا جس نے ملک کو عظیم سپاہی، بے مثال منتظم اور دیانت دار قائد دیے۔
ان کی وفات پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات سامنے آئے، جن میں ایک ہی بات نمایاں تھی: وہ ایک عظیم باپ کی عظیم بیٹی تھیں۔ کسی نے انہیں "great fathers distinguished daughter" کہا تو کسی نے "daughter of a great Pakistani air force chief"۔ یہ الفاظ محض رسمی جملے نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ کچھ رشتے تاریخ میں محض خون کے رشتے نہیں رہتے بلکہ قومی حوالہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر فائقہ قریشی کی ذات بھی اسی قومی حوالہ کا حصہ تھی۔ ایسا حوالہ جس میں شرافت، وقار اور خدمت کا رنگ نمایاں تھا۔ ان کی وفات پر "Rest in peace" اور "Heartfelt condolences" جیسے جملے محض ہمدردی نہیں بلکہ ایک اجتماعی دکھ کا اظہار تھے، کیونکہ قومیں جب اپنے اچھے لوگوں کو کھوتی ہیں تو صرف ایک فرد نہیں، ایک روایت رخصت ہوتی ہے۔
اس حادثے نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا کہ زندگی کتنی بے ثبات ہے۔ ایک لمحہ انسان مصروفِ خدمت ہوتا ہے اور اگلے ہی لمحے خبر آتی ہے کہ وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔ ڈاکٹر فائقہ قریشی کی زندگی اگرچہ امریکا میں گزری، مگر ان کی تربیت، ان کا مزاج اور ان کا شعور اسی مٹی کی خوشبو رکھتا تھا جہاں ان کے والد نے فرض، شجاعت اور دیانت کی بنیادیں رکھی تھیں۔ وہ اپنے مریضوں کے لیے امید تھیں، اپنے ساتھیوں کے لیے مثال اور اپنے خاندان کے لیے فخر۔ ان کی وفات سے صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ ایک سوچ رکھنے والے سب لوگ محروم ہوئے ہیں۔ وہ سوچ جو کہتی ہے کہ عظمت کا اصل راستہ خدمت سے ہو کر گزرتا ہے اور شہرت کا اصل معیار خاموشی سے کیے گئے کام ہوتے ہیں۔
آج جب ہم ڈاکٹر فائقہ قریشی کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک عظیم روایت کو سلام پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ روایت جو ایئر مارشل نور خان سے شروع ہو کر ان کی اولاد میں بھی جاری رہی۔ ایک عظیم باپ کی عظیم بیٹی اب اپنے رب کے حضور پیش ہو چکی ہے۔ قوم کے لیے یہ لمحہ سوگ کا ہے مگر ساتھ ہی فخر کا بھی، کہ ہمارے پاس ایسے کردار رہے جن پر ہم سر بلند کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں وہی وقار، وہی دیانت اور وہی خدمت کا جذبہ پیدا کر سکیں جو اس خاندان کی پہچان رہا ہے۔ ڈاکٹر فائقہ قریشی، ایک قومی بیٹی، خاموشی سے رخصت ہوگئیں، مگر ان کی یاد احترام کے چراغ کی طرح دلوں میں روشن رہے گی۔
کچھ بیٹیاں صرف گھر کی نہیں ہوتیں، وہ اپنے باپ کے کردار کی روشن توسیع بن کر قوم کے حافظے میں جگہ بناتی ہیں۔ ڈاکٹر فائقہ قریشی بھی ایسی ہی بیٹی تھیں۔ جنہوں نے ایک عظیم باپ کی نسبت کو خاموش خدمت، وقار اور انسان دوستی سے اور زیادہ معتبر بنا دیا۔ وہ شہرت کی وارث ضرور تھیں، مگر انہوں نے پہچان خدمت سے کمائی، وہ نام کی امین تھیں، مگر انہوں نے عزت کردار سے بڑھائی۔ آج ہم ایک ایسی بیٹی کو رخصت کر رہے ہیں جو اپنے عظیم والد کی طرح روشنی بانٹتی رہی اور خاموشی سے امر ہوگئی۔
وہ عظیم باپ کی تابناک نشانی تھی
خدمت میں ڈھلی ہوئی کہانی تھی
نہ شورِ شہرت، نہ نام کا غرور
وہ سادگی میں بھی سلطانی تھی
شفقت کو اوڑھ کر جو چلتی رہی
وہ درد کی خود ایک درمانی تھی
چراغِ باپ کی لو آج بھی ہے ساتھ
وہ روشنی کی نئی روانی تھی
فائقہؔ تری یادوں کا یہ اثر ہے
کہ آج ہر سُو تری ہی کہانی تھی
ڈاکٹر فائقہ قریشی کی شخصیت کا اصل تعارف ان کے عہدوں یا اسناد سے نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں سے ہوتا ہے جنہوں نے ان کے ساتھ کام کیا اور جن کی زندگیوں کو انہوں نے چھوا۔ ان کی وفات پر ساتھی معالجین اور عملے کے یہ تاثرات دراصل اس روشنی کی گواہی ہیں جو وہ دنیا میں بکھیر کر گئیں۔
ڈاکٹر فائقہ قریشی کی وفات پر ان کے ساتھیوں نے گہرے دکھ کے ساتھ انہیں ایک ایسی معالج کے طور پر یاد کیا جو صرف پیشہ ورانہ مہارت ہی نہیں بلکہ انسان دوستی اور شفقت کا پیکر تھیں۔ چلڈرنز ہاسپٹل آف دی کنگز ڈاٹرز سے 1993 میں وابستہ ہو کر انہوں نے برسوں تک ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی میڈیکل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بچوں، خاندانوں اور آنے والی نسل کے معالجین کی تربیت میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق وہ "ملین میں ایک" تھیں۔ ذہانت، مہربانی اور توانائی کا ایسا امتزاج جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ طب اور انسانیت کا حسین امتزاج تھیں، ایک ایسی روشنی جو بہت سوں کی زندگیوں میں اجالا بھر گئی۔ کہا گیا کہ وہ ہمیشہ اس کمیونٹی کا حصہ رہیں گی، دلوں میں زندہ رہیں گی اور ہسپتال کی ایمرجنسی سروسز کی تعمیر میں ان کی خدمات ایک مستقل وراثت کی صورت قائم رہیں گی۔ اگر یہی تاثرات کسی شاعر کے دل سے پھوٹتے تو وہ انہیں یوں لفظوں کا جامہ پہناتا:
وہ ملین میں اک تھی، یہ سب نے کہا
طب کو جس نے انسانیت کا چہرہ دیا
جہاں بھی گئی، وہاں امید جاگ اٹھی
درد کی شب کو جس نے اجالا دیا
وہ آج بھی دلوں میں یوں زندہ ہے
کہ موت نے بھی اسے بھلانے کا حوصلہ نہ دیا

