Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hamza Bhatti
  4. Faiz Festival Mein Dil Ko Choo Jaane Wali Baatein

Faiz Festival Mein Dil Ko Choo Jaane Wali Baatein

فیض فیسٹیول میں دل کو چھو جانے والی باتیں

لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں دسویں سالانہ فیض فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جو کہ 13 سے 15 فروری تک جاری رہا۔ جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہیں ایک خطاب ایسا ہوا جس نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور یہ خطاب تھا سابق وفاقی وزیر و مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما جناب خواجہ سعد رفیق کا جنہوں نے اتنی سچی اور کَھری باتیں کی کہ جن کے بارے میں شاید جانتے تو سارے ہیں لیکن بات کرنے سے ہر ایک گھبراتا ہے۔

خواجہ صاحب نے بات کا آغاز ہی وہیں سے کیا جو بات کرتے ہوئے سب اِحتیاط سے کام لیتے ہیں۔ خواجہ صاحب کا کہنا تھا کہ فوج نے بار بار مداخلت کی ہے لیکن آج تک کسی بھی چیف نے اپنے ادارے کی اس بار بار مداخلت پر کبھی معذرت نہیں کی۔ اِسی طرح عدلیہ نے بھی بار ہا نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے دیے ہیں لیکن کسی بھی چیف جسٹس نے اِن گناہوں کا اعتراف نہیں کیا اور خواجہ صاحب کی اِس سے اگلی بات ان باتوں سے بھی زیادہ وزنی تھی جس پر خواجہ صاحب کا ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے خواجہ صاحب نے اس بات کا اعتراف کیا اور کہا ہماری تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اُسی گھاٹ سے پانی پیا ہے جس گھاٹ سے ہمیشہ ڈسے گئے ہیں۔

بار بار اُسی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں اور ہمیشہ اُسی سے ڈسے جاتے ہیں لیکن کبھی بھی اپنے ماضی پر معافی نہیں مانگتے اور شرمندہ نہیں ہوتے اور پھر کہتے پھرتے ہیں کہ ہماری حالت کیوں نہیں بدلتی۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے سینیئر صحافی سید طلت حسین جو کہ ہوسٹ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نتیجہ کئی سال پہلے نکال چکا ہوں کہ اِن کی موجودہ حالت کی یہی وجہ ہے کہ یہ اُس گھاٹ کا پانی پینے سے باز نہیں آتے۔

خواجہ سعد رفیق صاحب نے مزید کہا کہ اِسی وجہ سے میں نے اپنی مرضی سے اپنی جماعت میں ہوتے ہوئے اپنے آپ کو بارہواں کھلاڑی ڈکلیئر کر دیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہی چلن رہا تو اصلاح کی صورت اِن لوگوں سے تو ممکن نظر نہیں آتی۔ مزید اپنی جماعت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پُل بن جائیں گے سڑکیں بن جائیں گی کالج اور یونیورسٹیاں بن جائیں گی کچھ معیشت بھی ٹھیک ہو جائے گی کچھ معاملات چلنے لگ جائیں گے مگر اگر آپ کہیں گے کہ آزادی تو وہ صرف کاغذوں تک ہی محدود رہے گی مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح ہمیں کبھی بھی آزادی میسر آئے گی۔

خواجہ صاحب نے مزید کہا کہ مجھے اِس بات پر بھی حیرت ہے کہ ایک صوبہ ترقی کرے اور دو صوبوں میں حالات کشیدہ رہیں تو کیسے اس ملک کو اکٹھا رکھا جا سکتا ہے اور آگے لے کر بڑھا جا سکتا ہے۔ خواجہ صاحب نے فیض احمد فیض کا شعر پڑھا:

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے

ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے

اور کہا کہ فیض صاحب نے جب یہ شعر لکھا تھا اس وقت بھی ریلیونٹ تھا اور آج بھی ریلیونٹ ہے کیونکہ ہماری یہ حالت آج تک نہیں بدلی اور ہماری اس حالت کے نا بدلنے کی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے خواجہ صاحب نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جناب فرحت اللہ بابر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کی چیمپین بنتی ہیں ہم تینوں باری باری اُس چشمے سے فیض یاب ہوئے ہیں جس چشمے سے فیض یاب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مزید کہا کہ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم تینوں میں سے کوئی بھی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہے بلکہ ہم سب اِس بات پر بضد ہیں اور چاہتے ہیں کہ اُس دن سے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کیا جائے جس دن ہم سے زیادتی کی گئی ہے۔

خواجہ صاحب نے کہا کہ آج سے کچھ دن پہلے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جناب اختر مینگل صاحب نے چند سخت باتیں کی وہ قابل اعتراض ہو سکتی ہیں لیکن اُن کے مسائل کا حل ہونا چاہیے اب ساری ریاست مل کر اُنہیں غدار ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو ہم اس ملک میں غدار ڈکلیئر کر چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ جن کو یہودی ایجنٹ انڈین ایجنٹ اور غدار ڈکلیئر کیا جاتا ہے وہ بھی واپس اسی چوکھٹ پر آ کر سجدہ کرتے ہیں۔

المختصر ہم سب باریاں دے بھی چکے ہیں اور باریاں لے بھی چکے ہیں ماریں بھی کھا چکے ہیں اور کمپرومائزز بھی کر چکے ہیں۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ ساری صورتحال تبدیل ہو تو ہم سب کو مل کر مکالمہ، برداشت سچائی اور مزاحمت کو اپنانا ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم تو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کبھی ایک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر مینڈیٹ چوری کرتا ہے تو کبھی دوسرا۔ تو کون سی جمہوریت کی بات آپ قوم کو بتاتے ہیں اور ہمیں پڑھاتے ہیں۔ میں خود جمہوریت کے لیے بہت لڑا ہوں تقریباََ 14 بار جیل گیا ہوں۔ لیکن اب مجھے افسوس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اتنی بار جیل جانے کی کیا ضرورت تھی۔

وہ وقت ہی اب واپس نہیں آ سکتا ایموشنل لاسز زندگیوں کے نقصان، میرے والد صاحب (خواجہ محمد رفیق) کو پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں سرعام گولیاں مار کے شہید کر دیا گیا کیونکہ وہ بھٹو صاحب کے نقاد تھے۔ میں نے اپنی پارٹی کی جیل بھی کاٹی جنرل مشرف کی جیل بھی کاٹی جنرل ضیا کی جیل بھی کاٹی اور عمران خان صاحب کی جیل بھی کاٹ چکا ہوں۔ تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرے اندر نفرت پیدا کیوں نہیں ہوتی؟ میں کیوں نہیں بدلہ لینا چاہتا؟ یہاں ہم ایک دوسرے سے بدلہ لینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ تو میرے دوستو گزارش یہ ہے کہ جو سیاسی لوگ ہیں اگر تو آپ جماعتوں کے اندر سچ بول سکتے ہیں اور اپنی قیادت کی غلطیوں پر انہیں ٹوک سکتے ہیں تو بات کریں ورنہ وقت ضائع مت کریں۔

آپ توقعات کرکے بیٹھے ہیں کہ عدلیہ سے انصاف ملے گا کون سی عدلیہ سے انصاف ملے گا؟ عدلیہ ہوگی تو انصاف ملے گا۔ ہم تینوں بڑی جماعتوں نے مل کر وکلا مومنٹ چلائی اس کا نتیجہ کیا نکلا ہم سب جیلوں میں گئے ہم نے ماریں کھائیں لیکن جب جج بحال ہوئے تو اُنہوں نے پیپلز پارٹی کو اپنے نشانے پر رکھ لیا کہ ہم نے اِن کو نہیں چھوڑنا اور ایک الیکٹڈ گورنمنٹ کو گرانے کی کوشش کی پھر اس کے بعد عدلیہ کا جو حال ہوا وہ سب اب آپ کے سامنے ہے۔ آپ اسٹیبلشمنٹ سے اتنی توقع کیوں کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت چھوڑیں گے جنہیں اتنی طاقت ملی ہوئی ہے بھلا اپنی طاقت بھی کوئی چھوڑتا ہے؟

ہمیں ایک دوسرے کو تسلیم کرنا پڑے گا ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت کو ماننا پڑے گا اور سب سے بڑی بات کہ ووٹ کے فیصلے کو ماننا پڑے گا۔ ووٹ کا فیصلہ پہلی یا دوسری بار پامال نہیں ہوا یہ ایک سلسلہ ہے جو چلتا آ رہا ہے۔ بلوچستان میں ایک نشہ کرنے والے کو وزیراعلی لگا دیا گیا کوئی بولا؟ کوئی نہیں بولتا۔ قبضہ گروپوں کو آپ ایک صوبے کا گورنر لگا دیتے ہیں کوئی بولنے والا ہی نہیں اور وہ بھی ایک ایسی جماعت کے کوٹے پر جس جماعت کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔

ہم سچ بولنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پھر جمہوریت کا رونا روتے ہیں۔ جو پھنس جاتا ہے اسے جمہوریت یاد آ جاتی ہے اور جو اس شکنجے سے نکل جاتا ہے وہ کہتا ہے میری موجیں ہی موجیں ہیں۔ میں بچ گیا ہوں میں ٹھیک ہوں اِسے مرنے دو، یہ آپ کا اور ہمارا ملک ہے۔ جس کے بعد خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اِس سے زیادہ میں پوسٹ مارٹم نہ ہی کروں تو بہتر ہے جس کے بعد پورے ہال میں قہقہے لگ گئے۔

جس کے بعد خواجہ صاحب کہنے لگے لہذا آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں تو مسائل کا حل سیاستدان ہی کریں گے جیسے بھی لولے لنگڑے ہیں ٹوٹے پھوٹے ہیں اور بدقسمتی سے سچ تو یہ ہے کہ کسی جماعت نے اپنے آپ کو منظم نہیں کیا، پٹوا پٹوا کے اپنے کارکنوں کو مروا مروا کے ان کا قیمہ کروا دیا منزل آپ کو پھر نہیں ملی اور اس طرح ملنی بھی نہیں اِس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ میز پر بیٹھیں کوئی جیتا ہوا ہے یا ہارا ہوا ہے کوئی مقبول ہے یا غیر مقبول ہے۔ سیاسی لوگ بیٹھیں آپس میں بات کریں۔ ہم جیسے بھی ہیں اگر ہم نے ایک دوسرے کو سپیس دے دی تو یہ جو سول سپیس لے لی گئی ہے یہ واپس آ جائے گی ورنہ ہم باتیں کرتے رہیں گے اور وقت گزرتا رہے گا۔ جس کے بعد خواجہ سعد رفیق صاحب نے سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجازت چاہی۔

یہ اتنا بہترین خطاب تھا جس پر خواجہ سعد رفیق کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے۔ آخر میں تمام سٹیک ہولڈرز سے گزارش ہے کہ خدارا یہ جو چند جمہوریت پسند سچی اور کھری باتیں کرنے والے باقی رہ گئے ہیں ان کی باتیں مان لیں ورنہ اِس نظام میں تبدیلی دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔

About Hamza Bhatti

Ameer Hamza Umer Bhatti is from Sargodha. He is a student and studies BS Department of English literature in University of Lahore (SGD Campus). He loves to write on social and political issues. He wants to become a journalist.

Check Also

Sehuniyat Aur Hindutva Ka Saga Pan

By Wusat Ullah Khan