Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Rang, Takhleeq Aur Mojudgi e Khuda

Rang, Takhleeq Aur Mojudgi e Khuda

رنگ، تخلیق اور موجودگیِ خدا

کائنات ایک خاموش کتاب نہیں یہ ایک گویا تخلیق ہے اس کے ہر صفحے پر رنگ بکھرے ہیں اور ہر رنگ اپنے خالق کی موجودگی کی شہادت دیتا ہے۔ سرخ کی تپش، سبز کی طمانیت نیلا کی وسعت سفید کی پاکیزگی اور سیاہ کی ہیبت۔ یہ سب محض بصری تاثر نہیں بلکہ احساس کی وہ زبان ہیں جو براہِ راست دل سے مخاطب ہوتی ہے قدرت نے رنگوں کے ذریعے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ تخلیق محض دیکھنے کی شے نہیں، محسوس کرنے کا نام ہے رنگ دراصل اللہ کی تخلیقی صفت کا ظہور ہیں جس طرح لفظ معنی کے بغیر ادھورا ہے اسی طرح کائنات رنگ کے بغیر بے کیف سورج کے ڈوبتے وقت آسمان پر بکھرنے والی سنہری سرخی ہو یا بارش کے بعد نمودار ہونے والی قوسِ قزح یہ سب اعلان ہیں کہ حسن اتفاق نہیں۔ ترتیب ہے اور یہ ترتیب ایک قادرِ مطلق کی صناعی کا پتہ دیتی ہے قوسِ قزح محض سات رنگوں کی کمان نہیں یہ وعدۂ رحمت ہے صبر کے بعد حسن کی بشارت ہے۔

فن پارہ ہو یا قدرت کا منظر دونوں کا تقاضا ایک سا ہے توجہ جب تک ہم ٹھہرتے نہیں جب تک نگاہ کو رفتار سے آزاد نہیں کرتے رنگ ہم پر کھلتے نہیں یہی اصول فنونِ لطیفہ میں بھی کارفرما ہے۔ شاعر جب لفظ چنتا ہے تو دراصل رنگ سجاتا ہے مصور جب خط کھینچتا ہے تو احساس کی سرحدیں متعین کرتا ہے۔ موسیقار جب سُر چھیڑتا ہے تو نادیدہ رنگ بکھیر دیتا ہے ان سب میں تخلیق کا حق یہ ہے کہ اسے سرسری نہ برتا جائے۔ شاعری اس باب میں منفرد ہے کہ وہ کم لفظوں میں کثیر رنگ سمو دیتی ہے ایک شعر میں خزاں کی اداسی بھی سما جاتی ہے اور بہار کی امید بھی یہی وجہ ہے کہ شاعری قاری سے وقت مانگتی ہے۔ چند لمحے ٹھہرنے کے چند سانسیں گہری لینے کے تب کہیں جا کر معنی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

آپ کے پیش کردہ اشعار اسی حسِ تخلیق کی روشن مثال ہیں۔۔

خوشبو سے کبھی ٹوٹا نہیں ربط ہمارا
ہم ہجر میں بھی صورتِ لوبان جلے ہیں

یہاں خوشبو محض مہک نہیں، وفا کی علامت ہے اور لوبان جلنا محض دکھ نہیں تطہیر کا استعارہ ہے رنگ یہاں لفظوں میں حلول کر جاتے ہیں دکھ کا گہرا سیاہ صبر کی سنہری لکیر اور محبت کی شفاف سفیدی

رکھا ہے بھرم ہم نے محبت کا کچھ اس طور
ہم قوسِ قزح اوڑھ کے راہوں پہ چلے ہیں

قوسِ قزح یہاں حُسنِ عمل ہے اخلاقی اختیار ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ زندگی کے کٹھن راستوں پر بھی اگر رویہ رنگ دار ہو تو سفر بوجھ نہیں بنتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فن اور ایمان ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں درحقیقت رنگ ہمیں اللہ تک لانے کا ایک نرم راستہ ہیں وہ دلیل کم اور ذوق زیادہ ہیں منطق سے پہلے تجربہ ہیں جو آنکھ رنگ کو صرف دیکھتی ہے وہ معلومات پاتی ہے اور جو دل رنگ کو محسوس کرتا ہے وہ معرفت کی دہلیز پر دستک دیتا ہے اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کا ہر رنگ، ہر آہنگ ہر توازن اللہ کی موجودگی کی گواہی ہے پس تخلیق کا حق یہی ہے کہ ہم ٹھہریں قریب جائیں اور محسوس کریں کیونکہ جو تخلیق کو پورے دل سے پڑھتا ہے وہ بالآخر خالق سے آشنا ہو جاتا ہے۔

Check Also

Rail Ki Seeti, Ya Dard Ki Seeti

By Babar Ali