Saturday, 10 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Imam Card, Aaima Karam Ki Toqeer Ya Siasi Khairat Ki Zanjeer?

Imam Card, Aaima Karam Ki Toqeer Ya Siasi Khairat Ki Zanjeer?

امام کارڈ، ائمہ کرام کی توقیر یا سیاسی خیرات کی زنجیر؟‎

حکومتِ پنجاب کی جانب سے 75 ہزار ائمہ کرام کے لیے 25 ہزار روپے کے "امام کارڈ" کا اجرا بظاہر ایک فلاحی قدم ہے، لیکن جب اس کا معاشی اور نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ ہم فی حال اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ رقم محض ابتدائی ہے یا مستقل، لیکن اگر یہ پراجیکٹ اپنے پورے حجم میں دیکھا جائے تو یہ سالانہ تقریباً 20 ارب روپے کا منصوبہ بنتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ 20 ارب روپے صرف ایک سال کے لیے کسی صنعتی یا تجارتی منصوبے میں لگا دیے جائیں تو کیا انقلاب آ سکتا ہے؟ اس رقم سے پنجاب میں ایسے عظیم الشان کمرشل زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس کھڑی کی جا سکتی ہیں جہاں صرف ائمہ کرام کے خاندانوں کے لیے 30,000 سے زائد دکانیں اور یونٹس بنائے جا سکتے ہیں، جس سے 30 ہزار خاندان ایک ہی سال میں تاحیات خود کفیل ہو جائیں۔

اگر ہم اس بجٹ کو صرف تین ماہ کی خیرات کے طور پر بانٹنے کے بجائے، اسی سرمائے سے وہ 5 صنعتی یونٹس لگائیں جن کا تذکرہ ہم کر چکے ہیں، تو نقشہ بالکل بدل جائے گا۔ محض 1 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بجٹ سے 10 آئی ٹی پارکس، 4 سولر اسمبلی پلانٹس، 8 پنکھا سازی کے یونٹس، 5 میڈیکل فیکٹریاں اور 12 فوڈ پروسیسنگ پلانٹس لگائے جا سکتے ہیں۔ اصول یہ ہونا چاہیے کہ یہ صنعتیں جن علاقوں میں لگائی جائیں، وہاں کی مساجد کے ائمہ کرام، ان کے بیٹوں اور خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر ان فیکٹریوں کا حصہ بنایا جائے اور انہیں وہیں ہنر سکھا کر باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔

اگر حکومت پہلے فیز میں صرف 1 ارب 87 کروڑ روپے سے آغاز کرے اور فی امام 50 ہزار روپے ان کی تربیت یا چھوٹے کاروبار پر خرچ کرے، تو پہلے ہی مرحلے میں 37,000 سے زائد خاندان مستفید ہو سکتے ہیں اور اگر یہی ویژن 20 ارب کے مکمل بجٹ کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور ہر امام خاندان کو ایک لاکھ روپے کا بلاسود قرض یا کاروباری گرانٹ دی جائے، تو پنجاب کے 2 لاکھ ائمہ اور ان کے خاندان مستقل طور پر غربت کی لکیر سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس رقم سے انہیں مسجد کے قریب ہی کریانہ اسٹور، اسٹیشنری شاپ یا کتب خانہ قائم کرکے دیا جا سکتا ہے۔

اس اسکیم کا ایک دردناک پہلو وہ نفسیاتی اثر ہے جو ائمہ کرام پر پڑے گا۔ یہ 25 ہزار روپے انہیں تین ماہ کے لیے "مزے" تو کروا دیں گے، لیکن جیسے ہی یہ رقم ختم ہوگی یا اس میں کمی آئے گی، ان کی زندگی میں ایک بڑا معاشی خلا پیدا ہو جائے گا۔ جب امام صاحب کو نظر آئے گا کہ جیب اب خالی ہے، تو ان کی تمام تر توجہ نماز اور عبادت کے بجائے "دیہاڑی" ڈھونڈنے اور اس 25 ہزار کی کمی کو پورا کرنے پر لگ جائے گی۔ رزق کی یہ فکر انہیں ذہنی طور پر اتنا پریشان کر دے گی کہ وہ یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت بھی نہیں کر سکیں گے اور یہ نظام انہیں دوبارہ اسی فقیرانہ مجبوری کی دلدل میں دھکیل دے گا جہاں سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پاکستان کے دور دراز دیہاتوں اور قصبوں میں، جہاں کوئی ہسپتال یا ڈسپنسری موجود نہیں، وہاں ائمہ کرام کو نظر انداز کرنا ایک المیہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان علاقوں کی مساجد کے ساتھ چھوٹے ہیلتھ یونٹس اور میڈیکل اسٹورز قائم کرے۔ اگر امام صاحب کی خواتین کو مڈوائف اور نرسنگ کی تربیت دلوا دی جائے تو وہ ان علاقوں میں زچگی اور ابتدائی طبی امداد کا فریضہ سرانجام دے سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف گاؤں کی غریب عورتوں کو ان کے گھر کے قریب علاج ملے گا بلکہ امام صاحب کا گھرانہ بھی کسی سیاسی امداد کا محتاج رہنے کے بجائے وقار کے ساتھ اپنا رزق کما سکے گا۔

حکومت ایک طرف کارڈ دے رہی ہے تو دوسری طرف مساجد کی بجلی اور گیس پر کمرشل ریٹ وصول کر رہی ہے۔ اگر نیت صاف ہوتی تو کارڈ بانٹنے سے پہلے مساجد کی بجلی اور گیس فری کی جاتی تاکہ ائمہ کرام پر سے عوامی چندے کا بوجھ مستقل بنیادوں پر ہلکا ہوتا۔ افسوس کہ ہماری سیاست کا معیار صرف عوام کو "لائنوں میں لگانے" اور "فقیرانہ خیرات" تک رہ گیا ہے۔ یاد رکھیے! جو ہاتھ "لینے" کا عادی ہو جائے، وہ قوم کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم "فوٹو سیشن" والی سیاست چھوڑ کر "تعمیر" والی معیشت کی طرف جائیں۔ نیت کارڈ بانٹنے کی نہیں، بلکہ گھر بسانے کی ہونی چاہیے۔

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

Check Also

Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran

By Muhammad Riaz