Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ismat Usama
  4. 23 March 1940

23 March 1940

23 مارچ 1940ء

قوموں کی زندگی اور آگے بڑھنے کی رفتار میں نصب العین کے بروقت تعین کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ 23 مارچ 1940ء کا دن اس لحاظ سے مسلمانانِ برصغیر کے لئے تاریخ ساز تھا کہ اس روز انھوں نے اپنے نصب العین اور منزل کا تعین کیا۔ خطہء لاہور کے منٹو پارک (موجودہ گریٹر اقبال پارک) میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 22 تا 24 مارچ منعقد کیا گیا جس میں مولانا فضل الحق نے " قرارداد لاہور" پیش کی۔

اس قرارداد کی رو سے مسلمانوں نے متحد ہوکر اپنی منزل کا تعین اس انداز سے کیا: " آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہایت غور و خوض کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کے لئے صرف ایسے آئین کو قابلِ عمل اور قابلِ قبول قرار دیتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے باہم متصل خطوں کی صورت میں حد بندی کا حامل ہو اور بوقتِ ضرورت ان میں اس طرح ردوبدل ممکن ہو کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہ اعتبارِ تعداد ہو، جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے ہیں، انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کردیا جائے اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خود مختار اور حاکمیت اعلیٰ کی حامل ہوں"۔

نیز اس قرارداد میں 'اقلیتوں کے حقوق' کے تحفظ کی خصوصی ضمانت دی گئی تھی۔ قرارداد کی تائید میں چوہدری خلیق الزماں، خان اورنگ زیب خان، حاجی سر عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، بیگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبد الحامد بدایونی اور دیگر راہنماؤں نے بھی تقاریر کیں۔ اپنی منزل کے تعین کے بعد مسلمان صرف سات سال کے قلیل عرصے میں آزاد وطن کو پانے میں کامیاب ہوگئے۔

اس سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک مضمون (شائع ٹائم اینڈ ٹائیڈ لندن) میں لکھا تھا: " پارلیمانی نظام ہندوستان کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لئے ایک ایسا آئین سامنے آنا چاہئیے کہ جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہو کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں جن کو اپنے مادر_وطن کی حکومت میں مساوی حقوق ملنے چاہئیں، اس بنیاد پر مسلمان، حکومت برطانیہ، کانگریس یا کسی اور پارٹی سے تعاون کے لئے تیار ہیں"۔

اس وقت مسلمانان ہند کے لئے کانگریس کا یہ موقف ناقابلِ قبول تھا کہ ہندوستان کے مستقبل کا دستور، ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی بنائے گی کیوں کہ مجوزہ دستور ساز اسمبلی میں اراکین کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ اس دور میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ "مسلمان لفظی معنوں میں اقلیت نہیں ہیں بلکہ وہ ایک قوم ہیں، برطانیہ کا جمہوری پارلیمانی پارٹی طرزِ حکومت، ہندوستانی عوام کے حالات اور اندازِ فکر سے مطابقت نہیں رکھتا"۔

مسلمان اور ہندو صدیوں سے برصغیر میں رہ رہے تھے لیکن وہ کبھی بحیثیت قوم ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہوئے بلکہ دونوں نے اپنے جدا گانہ تشخص کو برقرار رکھا تھا چنانچہ جب 1930ء کے خطبہء الہ آباد میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے "تصور پاکستان" پیش کیا تو اسے عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے مسلمانوں کی جدا گانہ ریاست کا نام "پاکستان" تجویز کیا، اس کے حروف میں پ پنجاب سے، ا، افغان سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا سے) ک کشمیر سے، س سندھ سے اور تان بلوچستان سے لیا گیا تھا۔ حالات و واقعات اس آزاد مسلمان ریاست کے تصور کو مذید نکھارتے چلے گئے۔

1937ء کے انتخابات نے برصغیر میں کئی تلخ حقائق کو آشکار کیا۔ کانگریس کے اڑھائی سالہ دورِ حکومت نے بیشتر ایسے اقدامات کئے کہ مسلمانوں کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ ہندو حکومت نے مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کردئیے، اردو زبان کو یکسر نظر انداز کرکے ہندی کو سرکاری زبان قرار دے دیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں مسلمان بچوں کو اسمبلی میں ہاتھ جوڑ کے مورتی پوجا کرنے اور "بندے ماترم" ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا۔ نماز کے اوقات میں مساجد کے باہر ہندو ڈھول باجے لے کر جمع ہو جاتے اور شور مچاتے تاکہ مسلمان نماز نہ پڑھ سکیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جس بستی میں گائے کی قربانی ہوتی، ہندو اس بستی پر ٹوٹ پڑتے اور مسلمانوں کا قتل عام کرتے، اگر راہ چلتے کوئی مسلمان بچہ کسی ہندو سے ٹکرا جاتا تو وہ اسے ملیچھ یعنی ناپاک کہہ کر نہانے چلا جاتا۔ کانگریس کے ترنگے کو بھارت کا قومی پرچم بنادیا گیا۔ اس قدر تعصب اور نفرت کا مظاہرہ کیا جاتا جس سے مسلمانوں میں یہ احساس شدت پکڑنے لگا کہ متحدہ ہندوستان میں نہ وہ محفوظ ہیں اور نہ ان کی آئندہ نسلیں۔ ان کے لئے متحد ہوکر آزادی کی جدوجہد کرنا اشد ضروری ہوگیا تھا۔

چنانچہ آخرکار وہ موقع نصیب ہوا کہ 22 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی صدارتی تقریر میں واشگاف انداز میں دو قومی نظرئیے کو پیش کرتے ہوئے کہا: " ہندوؤں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف مذہبی فلسفوں، معاشرتی رسم و روایات اور ادبیات سے ہے۔ نہ ان کے درمیان شادیاں ہوتی ہیں اور نہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دو ایسی تہذیبوں کے پیروکار ہیں جن کی بنیاد متصادم خیالات اور تصورات پر ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وہ تاریخ اور ہے جس پر ہندوؤں کو فخر اور ناز ہے اور مسلمان جس تاریخ پر ناز کرتے اور جس سے ان کے دلوں میں امنگ اور ولولہ پیدا ہوتا ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ ان کی فتوحات اور ناکامیاں ایک دوسرے سے متصادم ہیں لہذا دو ایسی قوموں کو ایک ریاست میں اس طرح جکڑ دینے کا نتیجہ کہ ان میں ایک اکثریت میں ہو اور دوسری اقلیت میں، لا محالہ یہ ہوگا کہ ان میں بے چینی بڑھے گی اور بالآخر تمام نظام درہم برہم ہوجائے گا"۔

مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اس قرارداد کو "قرارداد لاہور" کے نام سے موسوم کیا گیا تھا لیکن ہندوستانی پریس نے مضحکہ اڑانے کے لیے اسے خود ہی " قرارداد پاکستان" کا نام دے دیا۔ اس نام کو مسلمانانِ برصغیر نے پوری ذمہ داری سے قبول کیا اور جلد ہی یہ نعرے گلی گلی میں گونجنے لگے:

شب ظلمت میں گزاری ہے
اٹھ وقت بیداری ہے

جنگ شجاعت جاری ہے
آتش وآہن سے لڑ جا!

پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ!

چھوڑ تعلق داری چھوڑ
اٹھ محمود، بتوں کو توڑ

جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ
غیراللہ کا نام مٹا

پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الااللہ!

(کلام اصغر سودائی)۔

آزادی کی جدوجہد بیک وقت سیاسی بھی تھی اور مذہبی بھی، یہ جدوجہد عوامی بھی تھی اور بین الاقوامی بھی، یہ ادب وابلاغ کے میدان میں بھی تھی اور سماج میں بھی۔ صورت_حال یہ تھی کہ اب آزاد اسلامی مملکت کا قیام لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا تھا۔ " پاکستان " شمع توحید کے پروانوں کا نصب العین بھی تھا اور "خواب نگر" بھی۔ جہاں وہ اپنے دین، تہذیب و تمدن، روایات واقدار کے مطابق زندگیاں گزارنا چاہتے تھے۔

اس پاک دھرتی کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤاجداد کو خاک اور خون میں ڈوبنا پڑا۔ بتوں کے پجاریوں کی شدت پسندی ان کے نعروں "جو مانگے گا پاکستان، اسے ملے گا قبرستان" سے ظاہر ہورہی تھی۔ ہندو بلوائیوں نے پاک سرزمین کی جانب ہجرت کرنے والے قافلوں کے پاک خون سے ہولی کھیلی، ٹرینوں میں سوار بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو تلواروں اور خنجروں سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا!

23 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری منزل "ایمان، اتحاد اور تنظیم" کے اصولوں پر کار بند ہوکے ملی ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے دے کر اسلام کا یہ قلعہ "پاکستان" حاصل کیا ہے۔ اس کی حفاظت کی خاطر ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ اپنے تن، من اور دھن کی بازی لگانے کے لیے تیار رہے۔ بھارت نے اول روز سے " قیام پاکستان" کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ حال ہی میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگ "معرکہء حق" اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی آزادی و حریت کی خاطر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جن کی جنگی حکمتِ عملی، شجاعت اور پیشہ ورانہ قابلیت نے چند گھنٹوں میں جنگ کا پانسہ یوں پلٹ دیا کہ عالمی طاقتیں بھی حیران رہ گئیں۔

"اسلامی جمہوریہ پاکستان" پورے عالمِ اسلام کی آنکھوں کا تارا اور امیدوں کا محور ہے۔ دعا ہے کہ ہم تاریخ کے اسباق کو یاد رکھیں اور اللہ تعالیٰ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کی خاص حفاظت فرمائے۔

Check Also

Khud Ki Qadar Ki Kamyabi Hai

By Amer Abbas