Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Qayam e Riyasat Aur Intizam e Riyasat: Guftgu Ki Rail Ki Mutwazi Patriyan

Qayam e Riyasat Aur Intizam e Riyasat: Guftgu Ki Rail Ki Mutwazi Patriyan

قیامِ ریاست اور انتظامِ ریاست: گفتگو کی ریل کی متوازی پٹریاں

میں ایک مشاہدہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ میں کسی موضوع پر ایک خاص زاویے سے بات کر رہا ہوتا ہوں اور میرے کچھ دوست اُسی موضوع کے کسی اور پہلو پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہم دونوں ریل کی دو پٹریوں کی طرح ایک ہی موضوع پر بالکل الگ الگ زاویوں سے بات کرتے رہتے ہیں اور ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم دونوں ایک چیز پر بات نہیں کر رہے اِس لیے ہم کبھی بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ یہ گفتگو ریل کی دو متوازی پٹریوں کی طرح ہمیشہ متوازی چلتی جاتی ہے۔

مثال لیجیے کہ جب میں ریاست کے قیام کی وجوہات پر بات کرتا ہوں یا اِس کی حمایت میں بات کرتا ہوں تو بعض لوگ ریاست میں موجود خرابیوں کا ذکر کرکے کہتے ہیں کہ یہ کیسی ریاست ہے جس میں یہ سب ہو رہا ہے یا ہوتا رہا ہے۔ میں اِن خرابیوں یا تعصبات پر اِن دوستوں سے اختلاف ہرگز نہیں کرتا۔ عین ممکن کہ جو جو کچھ اُنھوں نے بیان کیا ہوتا ہے وہ سو فیصد درست ہو، مگر میں اُن سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم دو الگ الگ موضوعات پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔

ریاست کا قیام اور اِس کے بنانے کے پیچھے کی وجوہات، محرکات، بنانے والوں کی منشا، ریاست کا وجود اور اُس کی سالمیت ایک الگ موضوع ہے اور اِس کے قیام کے بعد اِس میں جو ہوتا رہا ہے یا ہو رہا ہے وہ الگ موضوع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِن دونوں موضوعات پر الگ الگ بات ہونی چاہیے۔

ہمارے بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ریاست میں، اِس کے قیام کے بعد سے، یہ یہ ہوتا رہا ہے اور اب یہ یہ ہو رہا ہے اِس لیے یہ ریاست اِس قابل ہی نہیں ہے کہ اِس کی قدر کی جائے یا اِس کی حمایت کی جائے۔

میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ آج کے دور میں ریاست ایک حقیقت ہے اور ہماری ریاست پاکستان ہے۔ یہ اِن مقاصد کی خاطر بنائی گئی تھی اور چونکہ یہ وجود رکھتی ہے اور پوری دنیا میں صرف یہی وہ ریاست ہے جو میری ضروریات پوری کرتی ہے اِس لیے اِس کو legitimate اور اپنا ماننا میرا اور آپ کا فرض ہے۔ لیکن اِس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ چونکہ یہ میری ریاست ہے اِس لیے یہ جو ناانصافی چاہے میرے ساتھ کرسکتی ہے۔ یہاں سے دوسری گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔

جب میں اور وہ دوست اِس کو جائز اور قانونی ریاست اور اپنی ریاست تسلیم کرلیں گے اِس کے بعد ہی میں اور وہ اِس کی اصلاح کے حوالے سے بات کریں گے اور یہ گفتگو اِس طرح کریں گے جیسے غیرت مند لوگ اپنے خاندان کے کسی مسئلے پر بات کرتے ہیں۔ میں اِس گفتگو میں اُن کے ساتھ، اُن کے شانہ بہ شانہ، اُن برائیوں، خرابیوں، زیادتیوں کے خلاف جدوجہد کروں گا جن کی نشان دِہی وہ کرتے رہتے ہیں۔

اِس کی مثال آپ یوں سمجھیے کہ اگر میرا بیٹا چوری کرتا ہے تو ہمیں جاننا چاہیے کہ اُس کے چور بن جانے سے میری شادی جو اُس کے چور بننے سے بیس سال پہلے ہوئی تھی، غیر قانونی نہیں ہوجاتی ہے۔ اگر کسی جگہ میں اپنی شادی کا ذکر کر رہا ہوں تو اُس وقت یہ کہنا کہ چونکہ میرا بیٹا چور ہوگیا ہے اِس لیے میری شادی ہی غلط ہوئی تھی، درست نہیں ہوگا۔ یہ وھاٹ اباؤٹزم ہے۔ اگر کوئی اُس وقت یہ بات کرتا ہے تو گفتگو میرے بیٹے کی چوری سے ہٹ کر میری شادی کی legitimacy پر چلی جائے گی۔ میں اپنی شادی کو جائز اور قانونی ثابت کرتا رہوں گا اور وہ میرے بیٹے کی برائیوں کی بنیاد پر مجھ پر بیٹوں کی برائی کو نظرانداز کرکے اپنی شادی کو جائز قرار دینے کا الزام لگاتا رہے گا۔

اِس حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ جائز شکایتوں کے نام پر اگر آپ ریاست کو ناجائز یا غیرقانونی قرار دے کر خرابیوں کو دور کرنے کی جدوجہد کریں گے تو ریاست آپ کو باغی قرار دے کر آپ کے ساتھ باغی والا سلوک کرے گی اور اگر آپ وہی جدوجہد ریاست کو legitimate مانتے ہوئے کریں گے تو آپ مصلح سمجھے جائیں گے اور آپ کو علم ہوگا کہ ریاست کے باغی اور مصلح کے ساتھ سلوک میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

Check Also

Hai Zindagi Ka Maqsad Doosron Ke Kaam Ana

By Asma Hassan