Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Ilaqai Aur Aalmi Taqat Ki Harkiat

Ilaqai Aur Aalmi Taqat Ki Harkiat

علاقائی اور عالمی طاقت کی حرکیات

صدر ٹرمپ کے دوسری دفعہ برسراقتدار آنے کے بعد، میں نے چند تحریروں میں امریکی طاقت کی عالمی حرکیات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ وسط انیسویں صدی کے بعد، مغربی/یورپی/امریکی استعمار کو دو حقیقی تحدیوں کا سامنا ہوا تھا۔ ان دونوں تحدیوں اور خطرات کی بنیاد سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد پر ظاہر ہونے والی سیاسی قوت تھی۔ ان میں سے پہلا چیلنج میجی انقلاب کے بعد جاپان کی تیزتر معاشی ترقی اور عسکری قوت سے پیدا ہوا تھا۔

جاپان عالمی نظام معیشت و سیاست میں اپنی شرائط پر شراکت دار بننا چاہتا تھا جو مغربی استعمار کو قابل قبول نہیں تھا۔ بالآخر، دوسری جنگ عظیم تک جاپان کو زیر کر لیا گیا۔ دوسرا چیلنج بالشویک انقلاب کے بعد روس کی طرف سے سامنے آیا تھا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد استحکام پذیر ہوگیا۔ مغرب کی علمی اور سیاسی روایت میں رومانوی سیاست پسندی اور ردِ سرمایہ داری کے دھارے انقلاب فرانس کے بعد سے موجود رہے تھے جو بالشویک انقلاب میں ظاہر ہوئے۔ مغرب کو اشتراکی چیلنج کا جواب دینے کے لیے بہت طویل جدوجہد کرنا پڑی۔

اس طوالت کی وجہ جرمنی میں ہٹلر اور نیشنل سوشلزم (فاشزم) کا ظہور تھا، جو بالآخر یورپ کے اندر ایک بڑی "خانہ جنگی" کا باعث بنا اور یورپ کی قوت فاشزم کا مقابلہ کرنے میں صرف ہوگئی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد، امریکہ کی قیادت میں مغرب بالشویک سوشلزم کی طرف متوجہ ہوا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اس کو شکست دینے اور روس کی نکرکاری (marginlization) میں کامیاب ہوا۔ لیکن یک قطبی دنیا کے قیام اور اختتام تاریخ پر امریکہ اور یورپ کی فاتحانہ خوشی زیادہ دیر تک باقی نہ رہ سکی اور چین کا چیلنج ابھر آیا۔ صدر ٹرمپ اپنی آمد کے بعد سے اسی چیلنج کا سامنا اور اس کی تدبیر کر رہے ہیں۔

اس دفعہ امریکی اور یورپی استعمار کی پالیسی اس طریقے سے مختلف ہے جس سے جاپان اور روس کو شکست دی گئی تھی۔ میں پہلے تفصیل سے یہ عرض کر چکا ہوں کہ چین کی ترقی جس عالمی معاشی نظام کے اندر رہتے ہوئے سامنے آئی ہے، امریکہ اس کو منہدم کرکے، اس کی جگہ ایک نیا عالمی معاشی نظام کھڑا کرنا چاہتا ہے جس میں مسلمانوں کی حیثیت موجودہ کی طرح صفر ہوگی۔ منصوبہ یہ ہے کہ اس نئے عالمی نظام کی تشکیل نو کے دوران چین کو اس سے باہر رکھا جائے تاکہ اس کی معاشی اور عسکری ترقی پر روک لگائی جا سکے۔

چین عالمی معاشی نظام سے جو وسائل توانائی اور خوراک وغیرہ حاصل کرتا ہے اور جن مارکیٹوں میں وہ اپنا مال بیچتا ہے، وہ طلب و رسد کی جن گزرگاہوں کی وجہ سے ممکن ہے ان سب کو امریکہ ختم کر دینا چاہتا ہے۔ وینزویلا پر قبضے کے بعد یہ ناگزیر تھا کہ امریکہ مشرق وسطی کے ذخائرِ تیل پر اپنا قبضہ بلاشرکت غیرے مستحکم کرے اور یہاں سے چین کو جانے والی سپلائی مکمل طور پر روک دے۔ ایرانی خرک جزیرے پر حملے کا عندیہ دیا جا رہا ہے اور اس کا واحد مطلب چین کو وسائلِ توانائی سے مکمل طور پر منقطع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

موجودہ جنگ کے حوالے سے ایک واویلا یہ ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں دھکیلا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اتنی سادہ بات نہیں ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس جنگ سے امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد مختلف ہیں لیکن وہ ایک متوازیت اور یکسانیت سے اس میں جمع ہو گئے ہیں۔ امریکہ کا اس جنگ میں ایران کو ختم کرنے کا بڑا سیاسی مقصد اصلاً چین کو مشرق وسطیٰ سے بے دخل کرنا ہے۔ اس پہلو سے اسرائیل کو کچھ زیادہ لینا دینا نہیں ہے۔ ایرانی مزاحمت کو ختم کرنا اسرائیل کا ایجنڈا ہے، جسے امریکی تصویب حاصل ہے کیونکہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کا ذمہ دار ہے۔

اس جنگ کا ایک فرجامی (eschatological) مقصد بھی ہے جو اس وقت نہ صرف واضح بلکہ اب تو بیانیہ کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ امریکہ کے صہیونی عیسائی مشرق وسطیٰ میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے مسیحؑ کے نزول کی راہ ہموار کی جا سکے تاکہ وہ آ کر سارے یہودیوں کا صفایا کر سکیں۔ اسرائیل امریکہ کے صہیونی عیسائیوں کے عین اس عقیدے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ امریکہ کے صہیونی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیحؑ اس وقت تک نزول نہیں فرمائیں گے جب تک سارے یہودی اسرائیل میں جمع نہیں ہو جاتے۔ اس طرح امریکہ اور اسرائیل کے باہم متضاد اور موافق مقاصد اس جنگ کا سبب ہیں۔ ان مقاصد کے پورا ہونے کا کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جس میں مسلمان اس جنگ کا ایندھن بننے سے بچ سکیں۔

جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ملتِ اسلامیہ دنیا کے لیے محض ایک مال خانہ اور resource ہے جس پر دنیا کی طاقتور قومیں اپنا حق اور حصہ جتا رہی ہیں اور امریکہ اپنا قبضہ۔ دنیا بھر کے مسلمان ممالک کوئی سیاسی ایجنسی (political agency) نہیں رکھتے۔ اس لیے ان کا کہا کیا سب غیر اہم اور بے معنی ہے۔ مسلم دنیا میں جہاں ذرہ بھر مزاحمت بھی ظاہر ہوئی ہے اسے مغرب نے مکمل طور پر روند ڈالا ہے۔ گز۔ ا اور ایران اسی مزاحمت کی علامت ہیں اور امریکی اور قابض ریاست کی مسلط کردہ جنگ اسی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ہے۔ مزاحمت پر امریکہ کا اعتراض بنیادی طور پر دو پہلوؤں سے ہے: ایک یہ کہ ایسی ہر مزاحمت اسرائیل کے لیے خطرہ ہے اور اسے ختم کرنا ضروری ہے اور دوسرا یہ کہ کوئی مسلم ملک چین سے کسی قسم کا آزادانہ معاملہ کرنے کے قابل اور مجاز نہ ہو۔ اس وقت اسی مقصد کے حصول کی کوشش ہو رہی ہے۔

موجودہ حالات میں یہ امر بحث طلب بھی نہیں رہا کہ وہابیت اور اس کی علمبردار عرب ریاستیں سب برطانوی اور امریکی استعمار کی پیداوار تھیں۔ عرب تیل ریاستوں کی بقا اب شدید خطرے میں ہے کیونکہ ان کی فوری افادیت اب باقی نہیں رہی۔ پہلے امریکہ مشرق وسطیٰ کے تیل کا انتظام و انصرام بالواسطہ کرتا تھا لیکن چینی خطرے کی وجہ سے وہ ان ذخائر کا انتظام وینزویلا کی طرح اب براہ راست اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔ تیل کے ذخائر کا اس جنگ میں نشانہ بننا ایک یقینی امر دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسی ذریعے سے عالمی معاشی نظام کو منہدم کیا جا سکتا ہے جو اس جنگ سے امریکہ کا اصل مقصد ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد مشرق وسطیٰ امریکہ کی فکری اور سیاسی حکمت عملی کا شاہکار تھا۔

مسلم معاشروں کو منتشر اور منہدم کرنے کے لیے وہابیت استعمار کے لیے ایک مفید مذہبی نظریہ رہا ہے۔ عرب ریاستوں کے برعکس، اس نظریے کی افادیت ابھی باقی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے بچے کھچے مسلم معاشروں کو فنا کے گھاٹ اتارا جا سکے۔ اس امر کا قوی امکان ہے کہ اس نظریے کی بالواسطہ سرپرستی کی بجائے اب اس کی براہ راست ترویج و معاونت شروع ہوگی تاکہ اس نظریے کو مسلم معاشروں کے خلاف صف آرا کیا جا سکے۔ اب اس ڈالری توحید کے عام ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جس سے مسلم معاشروں میں فتنے کی آگ بھڑکائی جا سکے۔

میں نے اپنی گزشتہ تحریروں میں عرض کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی مزاحمت کی زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ چونکہ جنگ سے اپنے فوری مقاصد حاصل نہیں کر پایا اس لیے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعید از امکان نہیں ہے۔ اس امکان کو ایران یا مسلم دنیا اپنے داخلی ذرائع سے ختم نہیں کر سکتی۔ ایران اس بھیانک صورت حال سے صرف چین اور خاص طور پر روس کی سفارتی اور سیاسی مداخلت سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ اس جنگ سے دونوں جارحانہ قوتوں کے مقاصد یکساں نہیں ہیں اور اسی باعث دوسرا بڑا خطرہ مسجد اقصیٰ کی بقا کو لاحق ہے۔ جنگی حالات جس طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مارچ کے آخر تک انہدام مسجد کا یہ اندوہناک واقعہ شاید روپذیر ہو جائے اور ہیکل سلیمانی سوم کی تعمیر کا آغاز ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل و فہم اور قوت و استقامت عطا فرمائے۔

Check Also

23 March 1940

By Ismat Usama