Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asma Hassan
  4. Hai Zindagi Ka Maqsad Doosron Ke Kaam Ana

Hai Zindagi Ka Maqsad Doosron Ke Kaam Ana

ہے زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا

آج کے اس مادہ پرست دور میں ہم ڈگریاں تو حاصل کرتے ہیں لیکن اصل تعلیم کی روح جو انسانیت ہے اس سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اخلاقیات کا درس ہمیں کہیں نہیں دیا جاتا۔ جیسے جیسے تعلیم عام ہو رہی ہے ویسے ہی انسانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد شعور کا حصول ہے جس سے پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں فرق محسوس کیا جا سکے۔

اگر دیکھا جائے تو سب سے بڑا سبق تو انسانیت کا ہے جو ہمیں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ آج کے مطلب پرست دور میں جس دل میں انسانیت کا جذبہ موجود ہو وہ لوگ نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنے بارے میں تو ہر کوئی سوچتا ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کا سوچتے ہیں۔ ان کی تکلیف، آرام اور خوشی کا خیال رکھتے ہیں۔

ایک پُرسکون و خوشحال معاشرہ تبھی تشکیل پاتا ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب ہم کسی کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں یا کوئی نیک کام کرتے ہیں تو اس سے ہمارے اندر اعتماد، امید اور اطمینان کے جذبات بڑھتے ہیں۔

جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں یا اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ نہ صرف ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں بلکہ ایک پر سکون فضا قائم ہو جاتی ہے جس میں ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا سوچتا ہے۔ ظاہر ہے جب ہم کسی کا اچھا سوچیں گے اور اس کے ساتھ بھلا کریں گے تو وہ بھی ہمارے ساتھ عمدہ سلوک کرے گا اس طرح ایک خوبصورت معاشرہ بنے گا جس میں انسانیت کا خیال ہوگا۔

نرم دل انسان کبھی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اس کے علاوہ یہ ہماری تربیت کا حصہ ہونا چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہم کسی کی مدد صرف روپیے، پیسوں سے ہی کریں بلکہ ہم کئی دوسرے طریقوں سے بھی مدد کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم ہوتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد دیکھتے رہیں کہ کسی کو ہماری مدد کی ضرورت تو نہیں ہے، کوئی پریشانی سے تو نہیں گزر رہا، کوئی کسی تکلیف میں تو مبتلا نہیں ہے۔ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ضرورت یا تکلیف کسی کو بتا نہیں سکتے ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ ہم غور کریں کہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں تاکہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

حساس دل ہونا بھی ایک نعمت ہے جس سے ہمیں دوسروں کی تکلیف کا ادراک ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کس مشکل سے گزر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی کو مالی مدد کی ہی ضرورت ہو، ہو سکتا ہے کہ اسے ہمارے وقت یا توجہ کی ضرورت ہو، تاکہ وہ دل کھول کر، بے خوف و خطر اپنے دل کی بات کر سکیں۔ ہمارے اردگرد کئی لوگ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان کو وقت دیں تاکہ وہ خود کو اکیلا محسوس نہ کریں، ان کو کوئی ایسا ساتھ مل جائے جو ان کی تنہائی کا ساتھی بن جائے۔ اسی طرح کئی بار ہماری ایک مسکراہٹ بھی کسی کا دن یا کبھی قسمت تک بدل دیتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو ہمارے چھوٹے چھوٹے عمل ہوتے ہیں جو کسی دوسرے کی زندگی میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سفر کے دوران بس میں، ویگن میں اپنی جگہ کسی دوسرے کو دے دینا، کسی بزرگ یا خاتون کو لائن میں آگے آنے دینا، پہلے بل ادا کرنے دینا، کسی کے لیے اپنی کرسی آگے کر دینا، کسی کے احترام میں کھڑے ہو جانا، سلام میں پہل کر لینا، کسی کو تحفہ دے دینا، شکریہ کہہ دینا، تعریف کر دینا، سڑک عبور کروا دینا، گاڑی کو گزرنے کی جگہ دے دینا، یا پیدل چلنے والوں کے لیے گاڑی روک دینا، اگر کسی کو کوئی بات سمجھ نہ آ رہی ہو یا کوئی خیال پریشان کر رہا ہو تو اس کی فوراً مدد کر دینا ایسے بہت سارے مواقع ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ملتے ہیں جن سے ہم اپنا اور دوسروں کا دن بہتر بنا سکتے ہیں بس ضرورت ہے ایک اچھے دل کی جس میں انسانیت زندہ ہو۔

اگر ہم کسی کام یا ہنر میں ماہر ہیں تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دوسروں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائیں، اپنا علم بانٹ کر بھی مدد کی جا سکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ کچھ بھی ہو چاہے علم ہو یا دولت بانٹنے سے بڑھتا ہے بالکل اسی طرح ہماری خوشیاں ہیں جو بانٹنے سے دگنی ہو جاتی ہیں اور مل بانٹ کر کھانے سے برکت بھی ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی ہمارے اردگرد بیمار ہے تو اس کی عیادت کرکے بھی ہم ان کا دل بہلا سکتے ہیں، کسی کو ہسپتال جانا ہے یا فرسٹ ایڈ چاہیے تو ہماری ایک وقتی مدد ان کی جان بچا سکتی ہے۔ کبھی کوئی ایسا فرد چاہیے ہوتا ہے جس کے کندھے پر سر رکھ کر رویا جا سکے ایسے میں ہمارا وجود کسی دوسرے کے لیے کارآمد بن سکتا ہے۔ ایسا کرنے میں ہماری زیادہ محنت نہیں لگتی لیکن کسی دوسرے کے لیے ہمارا وجود اور ننھی سی کاوش بہت اہمیت رکھتی ہے۔

زندگی میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں کچھ لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو بہت کچھ اچھا کرنا چاہتے ہوتے ہیں لیکن بس ان کو کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کو شاباشی دے دے، ان کو تھپکی دے دے، ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ کسی کا ساتھ میں کھڑے ہونا بھی بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ ہمارا ساتھ کسی کی ہمت بندھا دیتا ہے، ہمارے بولے کچھ لفظ ان کی خود اعتمادی کو بڑھا دیتے ہیں جس سے ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔

جب ہم کسی کی تعریف کر دیتے ہیں یا ان کی محنت کو سراہتے ہیں تو ان کا اپنی صلاحتوں پر اعتماد بحال ہو جاتا ہے، پھر وہ مزید اچھا کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم کسی خیراتی یا فلاحی ادارے کے لیے بھی اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں تاکہ ہمیں دلی سکون حاصل ہو سکے۔ جب ہم بے لوث کسی کی مدد کرتے ہیں تو ہماری کی گئی نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی ویسے بھی دکھی انسانیت کی خدمت کرکے ہمیں سکون ملتا ہے۔

ہمارا ایک چھوٹا سا عمل کسی دوسرے کی پوری زندگی کو یکسر بدل سکتا ہے۔ سوچیں کسی کو خون کا عطیہ دے دینا کہ اس کی جان بچ جائے کس قدر بڑی نیکی گردانی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی غریب کو اپنے غیر ضروری کپڑے، کھلونے اور دیگر سامان جو آپ کے لیے تو فضول یا بے کار ہے لیکن ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اگر دے دیا جائے تو کتنی دعائیں سمیٹنے کا باعث بن سکتا ہے۔

مدد کرنے کے لیے کسی مذہب، یا فرقے سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کا ہونا اہم ہے، ایک حساس دل کا ہونا اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہماری تربیت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہماری کس ماحول میں پرورش کی گئی ہے۔ آج کے دور میں جہاں ہر طرف افراتفری ہے، ہنگامہ آرائی ہے وہیں اگر ہم کسی کی مدد کر دیتے ہیں، دو میٹھے بول بول دیتے ہیں، اپنا وقت دے دیتے ہیں، اس کی ضرورت کو بنا اس کے کہے محسوس کرکے پوری کر دیتے ہیں تو سوچیں کہ ہم کتنا بڑا کام کر رہے ہیں اور ایک معاشرے میں محبت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میرا نام ہے محبت جہاں تک پہنچے۔

اصل خوشی تو دوسروں کے کام آنے میں ہے۔ اگر ہر انسان اپنے علاوہ دوسروں کا بھی سوچنے لگ جائے اور مدد کرنے میں پہل کرے تو یہ دنیا ایک خوبصورت جہان میں تبدیل ہو جائے گی جہاں ہر طرف سکون اور خوشیاں ہوں، اپنایت اور محبت کی فضا ہو۔ کسی کو کسی کا ڈر نہ ہو بلکہ سب مل جل کر رہیں پیار اور محبت بانٹیں، جب ہر طرف محبت کا بول بالا ہوگا تو یہ دنیا جنت کا ایک ٹکڑا بن جائے گی۔

Check Also

Ilaqai Aur Aalmi Taqat Ki Harkiat

By Mohammad Din Jauhar