Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Mojuda Irani Surat e Haal

Mojuda Irani Surat e Haal

موجودہ ایرانی صورتحال

ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض پرتشدد احتجاج نہیں بلکہ ایک پرانی فلم کی نئی قسط ہے۔ اس فلم کا اسکرپٹ واشنگٹن میں لکھا جاتا ہے، ہدایت کاری خطے کے حالات کرتے ہیں اور اداکاری مقامی عوام کے حصے میں آتی ہے جبکہ انجام ہمیشہ وہی ہوتا ہے۔۔ انتشار، لاشیں، بیانات اور پھر فوجی گھونسا۔

سپریم لیڈر خامنہ ای صاحب کا یہ کہنا کہ "شرپسند امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں" بظاہر ایک گھسا پٹا جملہ لگتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ نے اسے بارہا درست ثابت کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اگر کہیں آگ لگتی ہے تو اس کے اردگرد امریکی جیو اسٹریٹیجک ماچس کے خالی ڈبے ضرور ملتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج پہلے مہنگائی پر تھا، پھر نظام پر آ گیا اور اب بادشاہت کی بحالی کے نعروں تک جا پہنچا ہے۔ یعنی وہی پرانا مشرقی نسخہ۔ پہلے "روٹی مہنگی" سے شروع ہوتا "نظام ناکام ہے" تک پہنچتا ہے اور پھر "کوئی نجات دہندہ چاہیے" کی دُھن پکڑتا "ماضی سنہرا تھا" کی تال پر تھڑکتے ہوئے "آؤ بادشاہ کو واپس بلائیں" پر منتہج ہوتا ہے۔ یہ وہی بادشاہت ہے جسے ایرانی عوام نے سنہ 1979 میں اس شوق سے دفن کیا تھا کہ اب اس کی قبر پر بھی پھول نہیں رکھے جائیں گے مگر جلاوطنی میں بیٹھا ولی عہد آج بھی سمجھتا ہے کہ بس ایک ٹویٹ، ایک امریکی بیان اور ایک "انسانی ہمدردی" کا پیکیج اور تخت دوبارہ لگ جائے گا۔

دوسری طرف امریکا ہے، جو ہر احتجاج کو پہلے "انسانی حقوق" کہتا ہے پھر "جمہوری جدوجہد" اور آخر میں "قومی سلامتی" کا مسئلہ بناتے ہوئے خود کو عالمی تھانیدار سمجھتے مداخلت کا جواز تلاشتا ہے۔ اگر ایران کے پاس تیل نہ ہوتا اور وہ امریکا مخالف نہ ہوتا تو شاید ٹرمپ کو بھی یہ معلوم نہ ہوتا کہ تہران نقشے میں کہاں واقع ہے۔

دوسری طرف ایران میں چھیالیس سالوں سے قائم تھیوکریسی ہے جو سمجھتی ہے کہ ایران روئے زمین پر واحد الہیٰ ریاست ہے جس کا مشن طاغوت (امریکا، یورپ اور دیگر دنیا) کے خلاف سینہ سپر رہنا ہے۔ مذہبی نمائندگان کی حکومت رعایا کے ہر معاملہ ہائے فکر میں گھسی ہے۔ ولایت فقیہ کا نظریہ اس ریجیم کو تقویت دیتے اسے خدائی ریاست قرار دیتا ہے اور آیت اللہ کو سپریم لیڈر یا نائب امام جیسے رتبے پر فائض کرتا ہے۔ عالمی پابندیوں میں گھرا ایران معاشی طور پر عوامی مفاد میں ڈلیور نہیں کر پایا جس کے سبب عوام لگ بھگ آدھ صدی گزرنے کے بعد فطری طور پر بیزار بھی ہیں۔ یعنی چنگاڑی ایرانی عوام میں موجود ہے اس کو ہوا امریکا دے رہا ہے۔

احتجاج تہران، کرج، قزوین، قم، مشہد، رشت، تبریز، ارومیہ، کرمان شاہ، ہمدان، شیراز، آبادان، بندر عباس، قشم، زاہدان، چابہار سمیت دیگر درجنوں شہروں تک پھیل چکا ہے۔ تہران میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر ہیں۔ ان مظاہروں میں "پہلوی واپس آئے گا" کے نعرے گونج رہے ہیں۔ اب تک کم از کم 34 مظاہرین اور چار سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ پچیس سو افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ کئی پولیس سٹیشنز نذر آتش ہوئے ہیں۔ یزد میں گورنر ہاؤس کو آگ لگائی گئی ہے۔ اصفہان میں سرکاری ٹی وی کی عمارت کو مظاہرین نے جلا دیا ہے۔ تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے کہا کہ مظاہروں کے دوران دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق تہران میں 26 بینک، دو اسپتال، 25 مساجد، پولیس کی عمارتیں اور 48 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نشانہ بنائی گئیں۔ ایران نے بین الاقوامی فلائٹس کو کینسل کر دیا ہے۔

ایرانی ریجیم میں یقیناً خامیاں ہیں مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا امریکا واقعی ایرانی عوام کے لیے فکر مند ہے؟ ہرگز نہیں۔ ایران میں آگ لگی ہے مگر اس آگ کے شعلے صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ تاریخ کہتی ہے کہ جب امریکا "مدد" کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے تابوت آتے ہیں، پھر معاہدے اور آخر میں معذرت کہ "صورتحال ہمارے اندازوں سے مختلف نکلی"۔ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ایران تاحال ریجیم تبدیلی کے لیے تیار نہیں کیونکہ آن گراؤنڈ کوئی متبادل قیادت موجود نہیں۔ فوری طور پر ایران میں تبدیلی نظر نہیں آتی مگر ہاں، ریجیم کے ہاتھوں سے ریت سرک رہی ہے۔ قدموں تلے زمین کھسک رہی ہے۔ مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ایک غلط بیان، ایک غلط قدم یا فورسز کا عوام سے براہ راست ٹکراؤ منظر یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے۔ تاحال پاسداران انقلاب سے کام لیا جا رہا ہے۔ فوج براہ راست مظاہرین کے سامنے نہیں آ رہی۔

اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر قابو پا لیتی ہے تو بھی ریجیم کو اپنے اندر بدلاؤ لانا ہوں گے۔ عوام کو سکھ کا سانس دینا ہوگا۔ سماج کو کھڑکیاں دینا ہوں گی۔ عوامی روزمرہ میں ریاستی مداخلت بذریعہ پاسداران انقلاب کو محدود کرنا ہوگا۔ معیشت بحالی پر توجہ دینا ہوگی۔ کافی کچھ بدلنا ہوگا۔ تاکہ مستقبل قریب میں کوئی نئی غصیلی لہر مزید شدت کے ساتھ نہ اُبھر پائے۔

Check Also

Rang, Takhleeq Aur Mojudgi e Khuda

By Shair Khan