Tuesday, 06 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Ghair Hazri Par Khudkushi

Ghair Hazri Par Khudkushi

غیر حاضری پر خود کشی

چند دن پہلے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں اویس نامی طالب علم نے چھت سے کود کر خود کشی کرلی۔ اس طالب علم کے بارے میں خبر موصول ہوئی ہے کہ دوران تعلیمی سال اس کی حاضری طے کئے گئے معیار سے کم تھی جس کی بنا پر اسے امتحان دینے سے روک دیا گیا تھا۔ سننے میں یہی آیا ہے کہ اس طالب علم نے اپنے استاد سے بڑی منت سماجت کی کہ اسے امتحان دینے کی اجازت دی جائے ورنہ اس کا قیمتی سال ضائع ہو جائے گا اور پھر جب اویس کو بتایا گیا کہ وہ امتحان دینے کا اہل نہیں ہے تو دل برداشتہ ہو کر طالب علم نے یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگادی اور موقع پر ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔

یہ ایک دلخراش واقعہ ہے جس نے ناصرف ہمارے تعلیمی نظام کو جھنجھوڑ ڈالا ہے بلکہ معاشرتی بے حسی کی بھی کھلی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ تو ایک واقعہ جس میں ایک طالب علم نے اپنی جان دے کی ان کمرشل تعلیمی اداروں کے اندر ہونے والے ہراسگی کے معاملات کو اجاگر کیا ہے ورنہ ایسے واقعات ان تعلیمی اداروں میں معمول کی بات ہیں اور طلبا اساتذہ اور انسٹیٹیوٹ کی ہراسگی کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں جبکہ بہت سارے طلبا ڈرگس کے نشے میں پھنس جاتے ہیں۔

چند دن پہلے مجھے لاہور کی بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں بھی کچھ ایسے ہی معاملہ کو دیکھنے کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام میں کئی طلباء کو اس بنا پر امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا کہ ان کی مختلف مضامین کے لیکچرز میں حاضری کم تھی اور ان طلبا کے بار بار درخواست کرنے کے باوجود ان کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا اور بظاہر یہ ایک اچھا ڈسپلنری فیصلہ تھا جس کو کسی بھی ذی شعور شخص کو سپورٹ ہی کرنا چاہئیے۔

دوسری طرف جب اس ہی شعبہ کے عملہ سے رابطہ کیا گیا کہ اگر ان بچوں کی حاضری چھ ماہ کے سیمسٹر میں مکمل نہیں تھی تو کیا ان کے پاس ایسا کوئی سسٹم موجود ہے کہ وہ طلبا کو ہر ماہ ان کی حاضری سے متعلق آپ ڈیٹ کرتا ہو تو عملہ کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی نظام ہمارے پاس موجود نہیں ہے بلکہ ہم سیمسٹر کے مکمل ہونے کے بعد ہر طالب علم کی حاضری کا آڈٹ کرتے ہیں اور نوٹس بورڈ پر چسپاں کر دیتے ہیں اور جن طلبا کی حاضری ستر فیصد سے کم ہوتی ہے تو انھیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور ان طلبا کو پھر اگلے سال میں جرمانے کے ساتھ امتحان دینے کو کہا جاتا ہے۔

جب عملہ سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں نہیں کیا جاتا ہے کہ ہر ماہ کی طلبا کی حاضری کا سٹیٹس طلبا کو فراہم کیا جائے تاکہ وہ آنے والے دنوں میں اپنی حاضری کے معیار کے مطابق لیکچر مکمل کر سکیں تو ہمیں بتایا گیا کہ سٹاف کی شدید کمی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ سیمسٹر کے آخر میں ہی آڈٹ کرکے طلباء کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

میرے لئے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ کسی بھی مضمون کا امتحان دینے کے لئے اگر حاضری اتنی ہی ضروری ہے تو پھر اس یونیورسٹی کی انتظامیہ کے لئے خود اس کی پیریاڈیکل مانیٹرنگ میں دلچسپی کیوں نہیں لیتی اور محض عملہ کی کمی کو بہانہ بناکر یونیورسٹی انتظامیہ کا اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا مضحکہ خیز ہے حالانکہ یہ کام تو خود ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن شاید عارضی اساتذہ کی دلچسپی نہ تو تعلیمی ادارے سے ہوتی ہے اور نہ ہی طلبا کے ساتھ بلکہ وہ تو اپنے لیکچر کی فیس اور یا پھر اپنے سی وی کو مضبوط کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں اس طرح وہ تعلیمی ادارے جنہیں نئی نسل کی تربیت کرنا ہے انھیں خود اپنی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے۔

مجھے بتایا گیا کہ مذکورہ کیس میں حاضری کے شارٹ ہونے کی نہ تو کبھی طلبا کو اور نہ ہی والدین کو آگاہ کیا گیا تھا اور پھر ایک آمرانہ طریقہ سے ان سب طلباء کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا جبکہ ان تعلیمی اداروں میں طلبا کی پوزیشن بھی بڑی رحمدلانہ ہی ہوتی ہے جو اتنی بھاری فیسیں دے کر بھی اپنے اساتذہ اور عملہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو زیادتی کی جارہی ہے اس کے کچھ ثبوت ہی فراہم کر دئیے جائیں کیونکہ جو لوگ ہفتہ وار یا ماہانہ حاضری کے آڈٹ کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں تو چھ ماہ بعد کے آڈٹ کی کیا کریڈیبلٹی ہوگی کہ وہ درست ہی ہوگا یا کسی کلرک کی ٹائپنگ کی غلطی اور خانہ پری سے کسی بچے کے مستقبل اور زندگی سے کھیلا نہیں گیا ہوگا۔

میری جب اسی شعبہ کے بچوں سے بات چیت ہوئی تو مزید یہ معلوم ہوا کہ کچھ مخصوص اساتذہ کے ہی لیکچرز شارٹ تھے اور ان اساتذہ کے بارے میں طلبا کا کہنا ہے کہ وہ صاحب اکثر کلاس میں وقت پر نہیں آتے تھے اور یہاں تک کہ ڈیڑھ گھنٹے کے لیکچر میں ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد ہی کلاس میں پہنچا کرتے تھے۔ جب تک طلبا کنٹین یا لائبریری میں چلے جاتے تھے اور اس طرح درجن سے زیادہ طلبا کو اس مضمون کی حاضری مکمل نہ ہونے پر امتحان سے باہر کیا گیا تھا اور مزید یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ایک ایسا اہم شعبہ جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے پروگرام پڑھائے جارہے ہیں محض تین مستقل اساتذہ موجود ہیں جبکہ باقی پکڑ دھکڑ کر پارٹ ٹائم ویزیٹنگ اساتذہ سے گزارہ کیا جاتا ہے اور ویزیٹنگ اساتذہ بھی وہ جن کے ہفتہ میں ایک یا دو لیکچر ہوتے ہیں۔

یہ لوگ یا تو کسی ادارے میں نوکری کرتے ہیں اور یا پھر اپنا کاروبار کرتے ہیں اور ہفتہ میں ایک یا دو بار یونیورسٹی کلاس لینے آتے ہیں اور چونکہ ان کا بڑا اسٹیک ان کی مستقل جاب ہوتی ہے یا پھر ان کے کاروبار ہوتے ہیں اس لئے یہ حضرات اکثر اپنے لیکچر میں سنجیدہ نہیں ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم یونیورسٹی میں پڑھا کرتے تھے تو ہمارے اسی طرح کے ایک ویزیٹنگ ٹیچر ہوا کرتے تھے جو سرکاری نیوز ایجنسی میں بھاری تنخواہ پر نوکری کرتے تھے اور ان کے ہفتہ میں تین دن لیکچر ہوا کرتا تھا اور وہ کبھی بھی ہفتہ کے تین لیکچر نہیں لے سکے تھے اور جب کبھی یونیورسٹی آتے بھی تھے تو بھی دیر سے ہی پہنچا کرتے تھے اور حاضری لے کر واپس چلے جاتے تھے لیکن چونکہ وہ بڑے اثرورسوخ والے آدمی تھے اس لئے کوئی طالب علم تو کیا یونیورسٹی کا عملہ بھی ان سے شکایت کرتے ہوئے ڈرتا تھا اور اس طرح پورا سال مکمل ہوگیا اور ہم لوگ نوٹس اکٹھے کرکے کبھی پہروں لائبریری میں بیٹھ کر اس مضمون کی تیاری کرنے پر مجبور تھے۔

اب ایک ایسا پروگرام جس میں چھ سے سات مضامین پڑھانے کے لئے کوئی ایک بھی مستقل استاد موجود نہ ہو تو اس شعبہ کا ڈسپلن کی بات کرنا بھی مذاق ہی سمجھا جائے گا اور عین ممکن ہے کہ اس شعبہ میں اگر کبھی تعلیم کے معیار کی بات ہوگی تو تب بھی یہ لوگ بہانہ پیش کررہے ہوں گے کہ ان کے پاس چونکہ اساتذہ کی کمی ہے اس لئے تعلیم کا معیار قائم رکھنا ان۔ کے لئے مشکل عمل ہے۔ میں اپنی اس تحریر میں یہ کہنا چاہتا ہوں والدین ان تعلیمی اداروں کو بھاری رقم اس لئے نہیں دیتے ہیں کہ وہاں پر بچوں کی تعلیم کے نام پر مذاق کیا جائے اور پھر ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی سوجھ بوجھ اتنی بھی نہ ہو کہ وہ بچوں کو ڈسپلن سکھانے کی بجائے ڈسپلن کے نام پر طلبا کی زندگیوں اور مستقبل سے کھیلیں۔

پہلے ہی تعلیم اور سوشل علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں پیسے لے کر نوجوانوں کا وقت ضائع کرتی ہیں اور تعلیم کے نام پر نوٹس رٹہ کر امتحان پاس کراتی ہیں اور اوپر سے اگر یہ یونیورسٹیاں اپنی بدانتظامیوں کے ساتھ نوجوانوں کا استحصال بھی کرنے لگ جائیں تو پھر نوجوانوں میں فرسٹریشن اور منفی رحجانات ہی پیدا ہوں گے اور اس سے تو بہت ہے کہ ایسی بد انتظامی کے تعلیمی اداروں کو ہی بند کردیا جائے تاکہ کسی اویس کو حاضری کی وجہ سے خودکشی نہ کرنی پڑے۔

Check Also

Akabir Ke Chiragh Bujhte Ja Rahe Hain

By Abid Mehmood Azaam