اقتصادی ماہرین کے افراطِ زر میں کمی کے دعوے اور زمینی حقائق

اخباروں کے لئے 20سے زیادہ برسوں تک رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے کبھی نوٹس نہیں لئے۔ محض یادداشت کی بنیاد پر لوگوں کے بیان کردہ خیالات ہوبہو لکھ دیتا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں اور طاقتور افسران کی بے پناہ اکثریت میری صحافت سے ہمیشہ ناراض رہی۔ آج تک مگر یہ الزام کبھی نہ لگاکہ خبر لکھتے ہوئے کسی کو غلط "کوٹ" کیا ہے۔ خارجہ امور کی رپورٹنگ میں سفارت کاروں کے نہایت سوچ بچار کے بعد چنے الفاظ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں بھی کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں کر ناپڑا۔
رپورٹنگ سے کالم نگاری کی جانب آیا۔ ٹی وی پر بھاشن فروشی کے دھندے میں ملوث ہوا تو "خبر" کی جستجو سے بتدریج محروم ہونا شروع ہوگیا۔ جستجو کمزور ہوئی تو مشاہدے کی عادت بھی جاتی رہی۔ ساتھ ہی بڑھاپے کا نزول اور ان سب نے مل کر یادداشت کو کمزور تر کرنا شروع کردیا۔ منگل کے دن سے ایک عددہے 2760۔ میں نے اسے مختلف چٹوں پر تین سے زیادہ بار لکھا۔ ان چٹوں کو ڈھونڈنے میں بروقت مگر ناکام رہا۔ آج صبح دیوانوں کی طرح اپنی لکھنے والی میز کی لالچی سپاہیوں کی طرح تلاشی لی تو وہ بالآخر دریافت ہوگئیں۔
مزید بڑھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ 2760کا عدد کسی نے مجھے جادوٹونے والے عمل کے لئے فراہم نہیں کیا تھا۔ فی الحال میرا ذہن اس حد تک مائوف نہیں ہوا کہ ضعیف الاعتقادی کی طرف مائل ہوجائوں۔ چند برس قبل عقلی طورپر ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ سیاروں اورستاروں کی چال سے مستقبل کا حال بتانے والا علم بہت قدیم ہے۔ تاریخ کے کئی جابر بادشاہ ستارہ شناسوں سے اہم فیصلے لینے سے قبل رجوع کیا کرتے تھے۔ فرض کیا ستارہ شناس ٹیوے ہی لگارہے ہوتے تو جابر بادشاہ انہیں لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنادیتے۔ صدیوں سے ستاروں اور سیاروں کی چال سے لوگوں اور قوموں کا مستقبل بتانے والے لہٰذا کسی ٹھوس بنیاد پر ہی نہایت اعتماد سے پیش گوئی کرتے ہوں گے۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے یوٹیوب کی بدولت ستاروں اور سیاروں کی چال سے اپنا اور قوم کا مستقبل جاننے کی کوشش کی۔
ذاتی حوالے سے اس لئے ناکام رہا کہ میری تاریخ پیدائش درست نہیں ہے۔ ماں اور باپ میں بھی اس امر پر اتفاق نہیں ہوا کہ میں سردی کے موسم میں پیدا ہوا تھا یا میری پیدائش کے دن سورج عین نصف النہار پر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے بچپن کے دنوں میں "کمیٹی" یعنی میونسپل کمیٹی ہوا کرتی تھی۔ وہاں جاکر بچوں کی پیدائش کا اندراج کروایا جاتا۔ اندراج کے بعد ایک پرچی ملتی تھی جسے "جمن پرچی(جنم پرچی)" کہا جاتا تھا۔ یہ کام عموماََ محلے کی دائیاں سرانجام دیتیں۔ میری پیدائش سے قبل مگر میری ماں کی ریڑھ کی ہڈی کو شدید مسائل لاحق ہوگئے تھے۔ میوہسپتال لاہور میں میاں امیر دین نام کے ایک مشہور سرجن تھے۔ ان کے زیر علاج رہیں۔ ہسپتال میں داخل کرلینے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا کہ زچہ کی زندگی کے تحفظ کے لئے بچہ قربان کردیا جائے۔ میری ماں کو لیکن یقین تھا کہ ان کے ہاں بہت دعائوں اور مزاروں کے پھیرے لگانے کے بعد "منڈا(بیٹا)" پیدا ہورہا ہے۔ بچہ بچانے کو ڈٹ گئیں۔
مجھے خبر نہیں کہ ان کا فیصلہ درست تھا یا غلط۔ میں البتہ پیدا ہوگیا۔ میرے پیدا ہونے کی وجہ سے میری ماں کامل چھ ماہ تک بستر سے لگی رہیں۔ غالباََ میری پیدائش کے حوالے سے جو "ہنگامی حالات" رہے انہوں نے "جمن پرچی" بنانے کا موقع ہی نہیں دیا ہوگا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو گھر اور محلے کے ایک سکول میں چند ماہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد رنگ محل مشن ہائی سکول میں داخلے کی باری آگئی۔ یہ طے کرنے کے لئے کہ بچہ کس جماعت میں بیٹھے گا ہمارے سکول والے ایک امتحان لیا کرتے تھے۔ اس سے روگردانی ناممکن تھی۔ کرسچن مشن کے تحت چلائے سکول میں میرٹ سے گریز کی گنجائش بھی موجود نہیں تھی۔ بہرحال امتحان ہوا تو مجھے تیسری جماعت میں بٹھانے کا فیصلہ ہوا۔
میں اپنی عمر کے حوالے سے اس کلاس میں بیٹھنے کے قابل نہیں تھا۔ صورت اور جثے سے بھی اس کلاس میں گھس آیا "بچہ" محسوس ہوتا۔ جو امتحان دیا تھا اس کا نتیجہ مگر تیسری جماعت میں بٹھانے کو بضد تھا۔ غالباََ اس کلاس میں بٹھانے کے قابل بنانے کے بعد میری تاریخ پیدائش بھی "طے" کردی گئی۔ اب وہ میری سرکاری تاریخ پیدائش ہے اگرچہ مجھے اس پر اعتبار نہیں۔ اس کے حوالے سے میرا جو "سٹار" بنتا ہے اس کی خوبیاں اور خامیاں بھی مستند گردانی کتابوں میں غور سے پڑھ کر مزید یقین ہوگیا کہ میری سرکاری تاریخ پیدائش درست نہیں ہے۔ سیاروں اور ستاروں کی چال لہٰذا میری قسمت کاحال بیان نہیں کرسکتی۔ وطنِ عزیز کا مستقبل جاننے کے لئے ستارہ شناسوں کو سنا تو ان کی تمام تر پیش گوئیاں مجھے مطمئن نہیں کرپائیں۔ حقیقی دنیا میں جلد ہی واپس لوٹ آیا۔
حسب عادت آپ کو خیالات کی رو میں بہہ کر گمراہ کردیا ہے۔ جو بات ابھی تک قابل غور ہوسکتی ہے وہ ایک عدد کا ذکر ہے۔ جی ہاں 2760۔ یہ درحقیقت دوہزار سات سو ساٹھ روپے ہیں جو بیس کلو آٹے کا تھیلا خریدتے ہوئے ہمارے گھریلو ملازم نے ادا کئے تھے۔ میرے گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمت کا مجھے آج تک علم نہیں ہوا۔ یہ شعبہ بیگم صاحبہ نے سنبھال رکھا ہے۔ چند ماہ قبل مگر میں نے اسے سمجھایا کہ میں کالم شالم لکھتا ہوں۔ رپورٹنگ سے کالم نگاری کے شعبے میں گھس آنے کے بعد ضروری ہے کہ کبھی کبھار زیادہ سے زیادہ شیئرز اور لائیکس لینے کیلئے مہنگائی کے بارے میں ماتم کنائی کا ڈرامہ رچائوں۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ میں کم از کم روزمرہّ استعمال کی کسی ایک شے کی قیمت پر نگاہ رکھوں۔ آٹا اس ضمن میں کلیدی شمار ہوسکتا ہے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ میں اس کی قیمت پر نگاہ رکھوں گا۔
آج سے چار ماہ قبل گھریلو ملازم نے 20کلوآٹے کا تھیلا خریدا تو مجھ سے 1500روپے لئے۔ گزشتہ ہفتے مگر اس نے دو ہزار سات سو ساٹھ روپے خرچ کئے۔ یاد رہے کہ اس رقم میں حکومت کا وصول کردہ ٹیکس بھی شامل ہے۔ بنیادی پیغام مگر یہ ملا کہ صرف چار مہینوں میں 20کلوآٹے کی قیمت میں ایک ہزار دو سو ساٹھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مذکورہ اضافے کے باوجود میں جناتی انگریزی میں معاشی امور پر لکھنے والوں کے مضامین پڑھتا ہوں تو وہ افراطِ زر میں کمی کی داستان سناتے ہیں۔ ٹی وی ٹکروں پرپاکستان سٹاک ایکس چینج میں ریکارڈ توڑ اضافے کی خبریں بھی دیکھ رہا ہوں۔ انہیں دیکھتے ہوئے خیال فقط یہ آتا ہے کہ گزشتہ چار مہینوں میں ہمارے گھریلو ملازم کی تنخواہ میں ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں ہوا۔ اس کے چار بچے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہمارے ہاں سے ہی اپنے بچوں کی روٹی بھی تیار کرکے گھرلے جایا کرے۔ کم آمدنی والے تمام لوگ مگر اس جیسے نہیں۔ یہ سوچ کر پریشان ہورہا ہوں کہ عام دیہاڑی داراپنی آمدنی میں ایک روپے اضافے کے بغیر 20 کلو آٹے کی قیمت میں ایک ہزار دو سوساٹھ روپے کا اضافہ کیسے برداشت کررہے ہوں گے۔

