Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Islamabad Airport Par Sakardu Ka Nojawan Jora

Islamabad Airport Par Sakardu Ka Nojawan Jora

اسلام آباد ائرپورٹ پر سکردو کا نوجوان جوڑا

بسوں کے اڈے ہوں، ریلوے اسٹیشینز ہوں یا ائرپورٹس ہر جگہ کی اپنی الگ اور دلچسپ زندگی ہوتی ہے۔ ہر بندہ آپ کو حرکت میں نظر آتا ہے۔ اگر کہیں خاموش بیٹھا انتظار بھی کررہا ہے تو اس کی کرسی پر بیٹھے ٹانگیں اور آنکھیں حرکت کررہی ہوتی ہیں۔

برسوں پہلے بس اسٹاپ پر انتظار تک کا تجربہ تھا جو پھر ریلوے اسٹیشن تو اب کبھی کبھار ائرپورٹ کا ہوجاتا ہے۔ میں ریلوے اسٹیشن اور ائرپورٹ پر بک شاپ کی ضرور وزٹ کرتا ہوں چاہے قومی ہو یا عالمی کیونکہ میرے خیال میں وہاں سب سے بہترین بکس ملتی ہیں۔ بک شاپ اونر کو علم ہے کہ اسٹیشن یا ائرپورٹ خصوصا پر موجود مسافر کو جہاز لاونج میں جانے کی جلدی ہے چاہے وہاں وہ ایک گھنٹا ہی انتظار کیوں نہ کرے وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے کہ فلائٹ مس نہیں ہوگی۔ لہذا اس کے پاس چاہے دو گھنٹے فلائٹ روانہ ہونے میں پڑے ہوں وہ پھر بھی گیٹ پر پہنچ کر انتظار کرے گا یا کہیں قریب کیفے پر بیٹھے گا۔

اس کے پاس زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس منٹ بک شاپ کے لیے ہیں اگر وہ بک لور ہے۔ اس کم وقت میں بک لورز بہت کم کتاب خرید پاتے ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب ہمیشہ وقت لگا کر خریدنی ہوتی ہے۔ وہ پہلے کتاب کا سرورق، عنوان، بیک کور پڑھے گا۔ کچھ دلچسپی لگے گی تو تعارف یا عنوانات پڑھے گا اور پھر خریدنے کا فیصلہ کرے گا۔ عام دنوں میں وہ بک شاپ پر تیس منٹ سے ایک گھنٹہ گزارے گا لیکن ائرپورٹ پر اس کے پاس وہی پانچ دس منٹ۔ پھر وہاں جگہ کا مسئلہ ہوتا ہے کہ زیادہ بکس نہیں رکھی جاسکتیں۔ لہذا آپ نے چن کر ایسے ایسے شاندار ٹائٹل رکھنے ہیں جو مسافر کو بمشکل ایک منٹ میں فیصلہ کرنے پر مجبور کرے۔ مجھے ہمیشہ وہاں سے اچھی بکس مل جاتی ہیں۔

تمہید زرا لمبی ہوگئی۔ دراصل اسلام آباد ائرپورٹ پر ڈومیسٹک فلائٹ کے لیے بلڈنگ میں داخلے سے پہلے عملہ ٹکٹ چیک کرتا ہے پھر اندر جانے دیتا ہے۔ میرے پیچھے لائن میں ایک نوجوان جوڑا کھڑا تھا جو نیا نیا شادی شدہ لگ تھا۔ ان کے پاس بیگ اتنا بڑا تھا جیسے عالمی سفر پر جارہے ہوں۔

اس نوجوان نے میرے آگے آنے کی دو تین بار کوشش کی تو میں نے کہا آپ آگے آجائیں۔ مجھے لگا اس نوجوان کو جلدی ہے۔ اسے کچھ احساس ہوا بولا نہیں نہیں آپ آگے کھڑے ہیں۔ اصول اصول ہوتا ہے۔

میں مسکرا پڑا کہ چلیں کسی نوجوان کے منہ سے اصول کا نام بھی سنا حالانکہ مجھے اس لفظ سے چڑ ہے کہ اصول ہم اپنی سہولت کے لیے بناتے ہیں جہاں کسی کا کام نہ کرنا ہو یا انکار۔ اپنے لیے ہم سہولت مانگتے ہیں دوسرے کو اصول کی گولی کھلاتے ہیں۔

مجھ سے پوچھنے لگا میرے پاس اس بیگ میں دو کلو وزن زیادہ ہے۔ بائیس کلو کی بجائے چوبیس کلو ہے۔ جہاز والے جانے دیں گے؟

میں نے بیگ کی طرف دیکھا واقعی بڑا تھا۔

میں نے کہا شاید جانے دیں۔ ایک دو کلو سے فرق نہیں پڑتا۔

کہنے لگا ہینڈ کیری میں صرف سات کلو ہے۔

وہ سب کچھ تول کر نکلا تھا۔

پھر تھوڑی دیر بعد پوچھا روک تو نہیں لیں گے؟

میں نے پھر کہا میرا خیال ہے جانے دیں گے۔

خیر اتنی دیر میں ہم گیٹ کے قریب تھے۔ وہ پھر پوچھنے لگا کہ دو کلو سے مسئلہ تو نہیں ہوگا۔

میں نے کہا برخوردار ایک "اصول" آپ کو بتائوں۔ جب بھی ٹریولنگ کیا کریں کچھ پیسے وزن کے لیے رکھ لیا کریں میرے بیگ کا وزن زیادہ ہو تو میں پانچ دس ہزار دے دیتا ہوں۔ کوئی بحث نہیں۔ سفر میں ٹیشن نہیں لینی چائیے۔ جہاں آپ نے دو ٹکٹس پر ہزاروں خرچ کیے ہیں وہاں دو کلو وزن کے چار پانچ ہزار لگ جائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ صرف پانچ ہزار کے لیے کتنی دیر سے ٹیشن میں ہیں۔ ایزی رہیں۔ کاونٹر والا نہیں لے گا۔

نوجوان کہنے لگا ہم سکردو جارہے ہیں۔

میں نے کہا عموماََ پی آئی اے ائرلائن والے پرائیوٹ ائرلائن کی طرح سختی نہیں کرتے۔

بولا اگر انہوں نے مانگ لیے تو؟

مجھے اب مزہ آنا لگ گیا تھا۔ مرد اگر کنجوس ہو تو عورت کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔ میں نے رحم بھری نظروں سے اس کی بیوی کی طرف دیکھا جو خاوند سے بے نیاز کھڑی تھی۔

کنجوسی یا کفایت شکاری صرف عورت کو اچھی لگتی ہے۔

میں نے کہا تو پھر آپ دو چار ہزار دے دینا۔

کیا کریں ائرلائن کا بھی آپ کی طرح اصول ہے۔

میں نے اس کے چہرے پر پھیلتی مایوسی دیکھی تو دل کیا اس کے ساتھ کاونٹر پر جا کر وزن کرا کے دو کلو کے پیسے دے دوں۔

پھر خیال آیا اس نوجوان کو شاید کبھی اس کی ماں نے سمجھایا ہو بیٹا کبھی کسی اجنبی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی، کسی سے پیسے نہیں لینے۔ کسی سے کوئی چیز نہیں لینی۔ کوئی بیگ کچھ نہیں لینا۔

ورنہ بڑا دل کیا کہ اس کے وزن کی ادائیگی میں کر آئوں۔ مجھے یہ سوچ کر ٹینشن ہوگئی کہ اس نوجوان جوڑے نے سکردو تک کا سفر کرنا ہے، وہاں چند دن رہنا ہے بلکہ پوری زندگی گزارنی ہے اور زندگی کے اس طویل بھاری بھر کم سفر میں اس نوجوان پر صرف دو کلو وزن کی ٹینشن ابھی سے سر پر سوار ہوچکی تھی۔

مزے کی بات ہے جاتے جاتے وہ نوجوان مفت میں مجھے ٹینشن ڈال گیا تھا۔

اب میں کافی دیر سے جہاز میں بیٹھا سوچ رہا ہوں اس کے دو کلو وزن کا کیا بنا ہوگا۔ کاونٹر والے نے مفت جانے دیا ہوگا یا پیسے لیے ہوں گے۔ بعض لوگ چلتی پھرتی ٹینشن ہوتے ہیں۔ خود بھی ٹینس اور دوسروں کو بھی ٹیشن۔۔ اب خود کو ملامت کررہا ہوں بہتر تھا کہ میں اس کے دو کلو وزن کی ادائیگی کر ہی آتا تاکہ میرا سفر تو سکون سے گزرتا۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Mojuda Irani Surat e Haal

By Syed Mehdi Bukhari