Tuesday, 10 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Iqtidar Ki Musical Chair Aur Sisakti Zindagi

Iqtidar Ki Musical Chair Aur Sisakti Zindagi

اقتدار کی میوزیکل چیئر اور سسکتی ہوئی ریاست

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں "رجیم چینج" اب محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا زخم بن چکا ہے جو ہر چند سال بعد تازہ ہو جاتا ہے۔ قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے ہاں اقتدار کی تبدیلی کبھی بھی سہل یا سادہ نہیں رہی۔ حالیہ برسوں میں جس طرح "رجیم چینج" کے بیانیے نے گلی کوچوں سے لے کر ڈرائنگ رومز تک کو میدانِ جنگ بنایا، اس نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان تبدیلیوں سے ریاست کو کوئی فائدہ بھی پہنچتا ہے یا یہ محض اقتدار کی میوزیکل چیئر کا ایک اور راؤنڈ ہے؟

جمہوری معاشروں میں حکومت کی تبدیلی کو ایک تعمیری عمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اگر ایک حکومت ڈیلیور نہیں کر پا رہی، تو آئینی تبدیلی کے ذریعے نئی قیادت ملک کو بحران سے نکالے گی۔ نظریاتی طور پر، رجیم چینج کا فائدہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ جمود ٹوٹتا، نئی معاشی اصلاحات آتیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال ہوتا۔ لیکن پاکستان کے حالیہ تناظر میں، یہ فائدے محض سیاسی تقریروں تک محدود رہے۔ عملی طور پر، ہر تبدیلی نے ایک نئے ہیجان کو جنم دیا جس نے استحکام کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔

رجیم چینج کا سب سے بڑا نقصان ہماری معیشت نے بھگتا ہے۔ جب بھی اسلام آباد میں تخت بدلتا ہے، واشنگٹن سے لے کر بیجنگ تک ہمارے معاشی شراکت دار تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال شاہد ہے کہ کس طرح سیاسی عدم استحکام نے روپے کو کوڑیوں کے مول کر دیا اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔ جب پالیسیاں "انتقام" کی بنیاد پر بنائی جائیں اور پچھلی حکومت کے ہر منصوبے کو "کرپشن" قرار دے کر بند کر دیا جائے، تو ریاست ایک ایسے گرداب میں پھنس جاتی ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ صرف آئی ایم ایف کی دہلیز پر ختم ہوتا ہے۔

اس بار کی "رجیم چینج" نے پاکستانی سماج کو جتنا تقسیم کیا، اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں بیانیوں کی ایسی جنگ چھڑی کہ حقائق کہیں پیچھے رہ گئے۔ خاندان تقسیم ہو گئے، دوست دشمن بن گئے اور مکالمے کی جگہ گالی نے لے لی۔ جب اقتدار کی تبدیلی کو "حق اور باطل" کی جنگ بنا کر پیش کیا جائے، تو معاشرے میں برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر ہم ہمیشہ تکثیریت کی بات کرتے ہیں، لیکن حالیہ سیاسی پولرائزیشن نے اس تنوع کو نفرت میں بدل دیا ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

حالیہ برسوں کے سیاسی تجربات نے ہمارے ریاستی اداروں کو بھی عوامی تنقید کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے ووٹ کی وقعت ثانوی ہے اور فیصلے بند کمروں میں "رجیم چینج" کے فارمولوں کے تحت ہوتے ہیں، تو ریاست اور شہری کے درمیان عمرانی معاہدہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال پارلیمان کو کمزور اور غیر جمہوری سوچ کو توانا کرتی ہے۔

پاکستان کو آج کسی "رجیم" کی تبدیلی کی نہیں بلکہ "رویہ" بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک اقتدار کی منتقلی کا واحد راستہ "شفاف انتخابات" اور "عوامی مینڈیٹ" کو تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ رجیم چینجز ہمیں اسی طرح معاشی اور سماجی طور پر کھوکھلا کرتی رہیں گی۔ ہمیں ایک ایسے میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی ضرورت ہے جہاں چہرے بدلنے سے ملک کی سمت نہ بدلے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تجربات کی تجربہ گاہ بننے کے بجائے ایک نارمل ریاست بننے کی طرف قدم بڑھائیں۔

Check Also

Barhti Hui Tanhai Aur Muashra

By Nouman Ali Bhatti