Do Bhai Aur Yemeni Mandi Ka Thaal
دو بھائی اور یمنی مندی کا تھال

دو روز قبل جب امارات اور سعودی تنازعے کی خبریں سامنے آئیں تو میرے لیے حیرانی کی بات نہیں تھی البتہ سعودی وزارت خارجہ کے امارات بابت لب و لہجے و تلخ پیغام سے ہمارے ہاں کئیوں کا ماتھا ٹھنکا کہ ارے اب یہ کیا ہو رہا ہے۔ امارات کو ہمارے ہاں سعودیہ کا چھوٹا سمجھا جاتا رہا ہے اور یہ کوئی ایسا غیر حقیقی بھی نہیں۔ تاہم تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مفادات کا ٹکراؤ ریاستوں کا دھارا بدل دیتا ہے۔
پچھلی تین دہائیوں سے مڈل ایسٹ سعودی ایرانی پراکسی وار کا میدان بنا رہا ہے۔ ایرانی ریجیم نے عرب دنیا میں شیعت پھیلانے کی کوشش کی یا سعودی ریجیم نے وہابیت، یہ بحث بے سود ہے البتہ ایک ننگا سچ سامنے ہے اور وہ یہ کہ مذہبی تضاد کا چوغہ اوڑھے یہ دو ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کی جنگ میں ایک دوسرے سے پراکسیز کے ذریعہ نبرد آزما رہیں جس کا خمیازہ شام تا پاکستان، عرب تا عجم بستے لاکھوں کلمہ گو مسلمانوں نے بھگتا۔ لشکروں کے لشکر ایک دوسرے کی گھات میں اُتارے گئے۔ ایران نواز زینبیون، فاطمیون، حزب و حوثی ہوں یا ان کا مقابلہ کرنے کو داعش و انصاران کے نام سے جنگجوؤں کے فرکشنز یا ٹولیاں۔ اس سارے منظر نامے میں اماراتی اونٹ سعودی خیمے میں ہی جگالی کرتا رہا۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جو کبھی یمن میں "مشترکہ مقصد" کے علمبردار تھے وہ آج ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتے ہیں۔ تاریخ شاید مسکرا رہی ہے یا پھر آہستہ آہستہ ایک پرانا سبق دہرا رہی ہے کہ وقتی مفادات پر قائم اتحاد زیادہ دیر نہیں چلتے۔ سنہ 2015 میں جب ریاض اور ابو ظہبی نے یمن میں فوجی مداخلت کی تو مشترکہ مفاداتی مشن واضح تھا۔ ایران نواز حوثیوں کو روکنا، یمن کی قانونی حکومت کو بحال کرنا اور خطے کو عدم استحکام سے بچانا۔ لیکن دس برس بعد سوال یہ ہے کہ یمن بچا یا مزید بکھر گیا؟ اور سب سے اہم سوال اتحادی آخر کیوں ایک دوسرے پر حملے کرنے لگے؟
اصل مسئلہ حوثی نہیں مسئلہ یمن کا نقشہ ہے۔ سعودی عرب ایک ایسا یمن چاہتا ہے جو متحد ہو، کمزور سہی مگر اس کی جنوبی سرحد پر ایک منظم ریاست تو ہو۔ امارات کی ترجیح مختلف ہے۔ اسے جنوبی یمن میں اثر و رسوخ چاہیے، بندرگاہیں چاہئیں، بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی و عسکری گرفت درکار ہے۔ اسی لیے ابو ظہبی نے جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کی اور چاہتا ہے کہ یمن دو ٹکروں میں تقسیم ہو جائے تاکہ جنوبی یمن جنگ میں بطور مال غنیمت اس کے ہاتھ لگ جائے۔ سعودی فضائیہ کا یمن میں اماراتی جنگی سامان کو نشانہ بنانا محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک کھُلا اعلان تھا "ہم اب ایک صف میں نہیں ہیں۔ " جواباً امارات کا اتحاد سے فوجی انخلا اور یمن میں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے آزادی ریفرنڈم کا اعلان اس بکھراؤ پر مہر ثبت کرتا ہے۔
یمن کے عوام؟ ان کا ذکر بالکل ویسا ہی ہے جیسا ہمارے ہاں مہنگائی کی تقریروں میں غریب کا ذکر ہوتا ہے۔ لازمی مگر غیر مؤثر۔ بم گرتے ہیں، بچے مرتے ہیں، مگر پریس ریلیز میں صرف "اسٹریٹجک مفادات" زندہ رہتے ہیں۔
اس تمام صورت حال میں سب سے زیادہ فائدے میں کون ہے؟ حوثی۔ وہی حوثی جنہیں ختم کرنے کے لیے یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔ آج وہ شمالی یمن میں ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں اور اپنے دشمنوں کو آپس میں الجھتا دیکھ رہے ہیں اور خاموشی سے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور امارات کا تصادم اس حقیقت کی عکاسی کر رہا ہے کہ خطے میں جنگیں نظریات سے نہیں مفادات سے لڑی جاتی ہیں اور جب مفادات بدل جائیں تو اتحادی بھی بدل جاتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ان تبدیلیوں کی قیمت ہمیشہ یمن جیسے ممالک ادا کرتے ہیں۔ جہاں ریاست ٹوٹتی ہے، معاشرہ بکھرتا ہے اور عوام صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں زندہ لاشیں بنے رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ بظاہر پاکستان سعودی مؤقف کی حمایت میں کھڑا ہے لیکن وہ امارات سے دوری مول لینا بھی افورڈ نہیں کر سکتا۔ پسِ پردہ ان دو بھائیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش میں بھی اُلجھا ہوا ہے کہ یمنی مندی بہت لذیذ سہی لیکن برکت اسی میں ہوگی اگر بھائی بھائی ایک ہی تھال میں مل بانٹ کر ساتھ ساتھ کھا لیں۔ پاکستان کے لیے اس کہانی میں ایک سبق بھی ہے کہ جو جنگ اپنے مقاصد کھو بیٹھے وہ آخرکار اپنے ہی معماروں کو نگل لیتی ہے۔

