Tum Haar Chuke Ho, Aik Ghair Janibdar Tajzia
تم ہار چکے ہو، ایک غیر جانبدار تجزیہ

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ذورین نظامانی کے کالم کو جس شدّت سے ایک مخصوص طبقہ پھیلا رہا ہے، وہ محض اتفاق نہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جو برسوں سے اشارہ ملنے پر مخصوص بیانیہ چلانے کا ہنر جانتا ہے اور جس کا مستقل فریضہ یہ رہا ہے کہ اپنے ایک مخصوص بومر نیتا کی ناکامیوں، بدانتظامیوں اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ کبھی ریاست پر، کبھی اداروں پر اور کبھی پوری قوم پر ڈال دے۔ یہ کوئی فکری مکالمہ نہیں، یہ ایک آزمودہ سیاسی چال ہے۔
کالم میں بڑے وثوق سے اعلان کیا گیا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے عمر رسیدہ ٹولے کے لیے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اعلان کرنے والے اور اسے ہوا دینے والے خود کس نسل کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ کیا واقعی یہ آواز جنریشن زی یا الفا کی ہے، یا پھر وہی پرانا بومر ذہن ہے جو نئی نسل کو محض ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اپنی شکست کا نوحہ لکھ رہا ہے؟
یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ ہمارا دین، ہمارا معاشرہ، ہماری اقدار ہمیں ہمارے بزرگوں (جنہیں انتہائی بدقسمتی سے بومر اور عمر رسیدہ ٹولہ کہا جا رہا ہے) کا اُف تک نہ کہنے کی حد تک احترام سکھاتا ہے اور ہمیں اس احترام پر فخر ہے اور اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہمارے قابل احترام بزرگ ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔
یہ بات تسلیم کہ نوجوان نسل اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتی اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ زبردستی بیچے گئے بیانیے قبول نہیں کرتی۔ لیکن یہ کہنا کہ حب الوطنی صرف اسکولوں اور کالجوں میں کی جانے والی تقریروں اور سیمیناروں کا مصنوعی پیداوار ہے، نہ صرف سطحی بلکہ بدنیتی پر مبنی سادہ کاری ہے۔ حب الوطنی نہ نعروں سے پیدا ہوتی ہے اور نہ تنقید سے مرتی ہے۔ یہ انصاف، مواقع، شفاف نظام اور عزتِ نفس کے احساس سے جنم لیتی ہے۔ مگر اس سچ کو بنیاد بنا کر پوری ریاست، پوری تاریخ اور پوری اجتماعی شناخت کو مشکوک بنانا اصلاح نہیں، انتشار ہے۔
نوجوان نسل باشعور ہے، مگر اتنی سادہ بھی نہیں کہ ہر جذباتی تحریر کو وحی سمجھ لے۔ وہ یہ فرق خوب جانتی ہے کہ کون واقعی اس کے مستقبل کی بات کر رہا ہے اور کون اس کے غصے کو استعمال کرکے اپنے ماضی کے حساب چکانا چاہتا ہے۔ میمز بنانا، سوال اٹھانا اور اختیار کو چیلنج کرنا ان کا حق ہے، مگر یہ حق کسی سیاسی یا نظریاتی ایجنڈے کے لیے استعمال ہو، تو پھر وہ بغاوت نہیں، استحصال بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ نسلوں کا نہیں، نیتوں کا ہے۔ اصل تصادم نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان نہیں، بلکہ ذمہ دار تنقید اور بدنیتی پر مبنی مایوسی کے بیچ ہے۔ اگر واقعی بہتری مطلوب ہے تو بات اصلاح کی ہوگی، نہ کہ یہ اعلان کرنے کی کہ "تم ہار چکے ہو"۔ قومیں ہارنے کا اعلان نہیں کرتیں، وہ اپنی غلطیوں کو درست کرتی ہیں۔
ہم عاجزی سے اتنا ہی کہتے ہیں کہ اس ملک کے نوجوانوں کو مایوسی، بزرگوں سے تصادم، بدتہذیبی نہیں، سچ، انصاف اور امید درکار ہے اور جو لوگ ان کے نام پر ملک سے نفرت کا بیج بو رہے ہیں، وہ خواہ کسی بھی زبان، پلیٹ فارم یا اخبار میں لکھیں، تاریخ میں اصلاح کار نہیں بلکہ فتنہ گر ہی کہلائیں گے۔ اگر شاعر کو یہ بات کرنا پڑتی تو یوں کرتا:
ہمیں وہ حوصلہ دے، اے خدائے دل نواز
کہ سچ کہیں، وطن سے وفا نبھاتے جائیں
یہ تحریر جس لہجے، شدت اور تلخی کے ساتھ سامنے آئی ہے، وہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت، ایک اجتماعی اضطراب اور ایک نسل کے احساسِ محرومی کا اظہار ہے۔ اسے محض غصے کا شعلہ کہہ کر رد کر دینا بھی آسان ہے اور اسے مکمل سچ مان کر قومی یاسیت میں ڈوب جانا بھی۔ غیر جانبدار تجزیہ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نہ تو جذبات کے بہاؤ میں بہہ جائیں اور نہ ہی حقائق سے آنکھیں چرا لیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ تحریر پاکستان کے بارے میں ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس میں اٹھائے گئے نکات کہاں تک زمینی حقائق سے جڑے ہیں اور کہاں یہ ایک منظم بیانیے، احساسِ کمتری پیدا کرنے والی نفسیاتی جنگ یا خود ہماری کمزوریوں کا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا عکس ہیں۔ پاکستان ایک شاندار، باصلاحیت اور غیر معمولی قوم کا ملک ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل شدید تضادات میں جی رہی ہے، ایک طرف امکانات کی دنیا ہے، دوسری طرف انتظامی رکاوٹیں، بداعتمادی اور غیر یقینی مستقبل۔
سب سے پہلے حب الوطنی کے تصور کو لیجیے جسے اس مضمون میں تقریروں، سیمیناروں اور ریاستی بیانیے سے جوڑ کر مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حب الوطنی نہ تو محض نعروں سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی صرف سہولتوں سے۔ یہ ایک پیچیدہ جذبہ ہے جو انصاف، شمولیت، عزت، شناخت اور امید کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد واقعی یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر مواقع محدود، انصاف سست اور ترقی چند شہروں یا طبقات تک محدود ہو تو حب الوطنی کا عملی مظہر کیا ہو؟ یہ سوال دشمن کا نہیں، اپنے ہی گھر کا سوال ہے۔ تاہم یہاں یہ تاثر دینا کہ نوجوان نسل مکمل طور پر ریاست، معاشرے اور ملک سے لاتعلق ہو چکی ہے، ایک یک رخی تصویر ہے۔ اسی پاکستان میں ہمیں وہ نوجوان بھی نظر آتے ہیں جو ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، تعلیم، سماجی خدمت، اسٹارٹ اپس اور عالمی مقابلوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ حب الوطنی ختم ہوگئی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ حب الوطنی کی تعریف بدل رہی ہے۔
جنریشن زی اور الفا کے حوالے سے جو باتیں کی گئی ہیں، ان میں وزن بھی ہے اور مبالغہ بھی۔ یہ سچ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے طاقت کے توازن کو بدل دیا ہے۔ اب خیالات پر مکمل کنٹرول ممکن نہیں رہا، سنسرشپ کے روایتی ہتھکنڈے کمزور پڑ چکے ہیں اور نوجوان نسل سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکس، انٹرنیٹ پابندیاں، فری لانسنگ پر غیر واضح ضابطے اور معاشی دباؤ نوجوانوں میں اضطراب پیدا کرتے ہیں۔ مگر یہ کہنا کہ اقتدار میں بیٹھا ہر شخص بوڑھا، ناسمجھ اور محض کنٹرول کا بھوکا ہے، خود ایک تعمیم ہے جو حقیقت کا احاطہ نہیں کرتی۔ ریاست اور نظام ایک ہی رنگ کے نہیں ہوتے، ان میں کشمکش بھی ہوتی ہے، اصلاح کی کوششیں بھی اور بعض اوقات واقعی بدنیتی بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کشمکش کو اصلاح کی طرف موڑ رہے ہیں یا مکمل انکار کی طرف؟
ملک چھوڑنے کے رجحان کو اگر دیکھا جائے تو یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، یہ ایک عالمی رجحان ہے۔ بہتر مواقع کی تلاش انسانی فطرت ہے۔ لیکن یہاں خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہجرت صرف معاشی فیصلہ نہ رہے بلکہ ذہنی لاتعلقی بن جائے۔ کیا واقعی نوجوان یہ سمجھ چکا ہے کہ اس ملک میں کچھ بدل نہیں سکتا؟ یا یہ تاثر سوشل میڈیا کے شور، مخصوص بیانیوں اور مسلسل منفی خبروں کے باعث گہرا ہو رہا ہے؟ یہاں دشمن بیانیہ بھی موجود ہے، جو پاکستان کو ایک ناکام، گھٹن زدہ اور مستقبل سے محروم ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، تاکہ نوجوان ذہن مایوسی کو حقیقت سمجھ لے۔ مگر یہ بیانیہ تبھی مؤثر ہوتا ہے جب اندرونی کمزوریاں اسے خوراک فراہم کریں۔ سچ یہ ہے کہ دشمن صرف وہی وار کرتا ہے جہاں زخم پہلے سے موجود ہو۔
لیکن اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اقوامِ متحدہ (UN DESA) کے تازہ ترین 2024 کے تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں مستقل طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 42 لاکھ ہے، نہ کہ ایک کروڑ۔ البتہ یہ تاثر کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے پیدا ہوا کیونکہ پاکستانی سرکاری اعداد و شمار میں عارضی ملازمت، خلیجی ممالک میں محدود مدت قیام اور واپس آنے والے افراد بھی شامل کر لیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک جانے والوں کی رفتار ضرور بڑھی ہے، مگر عالمی سطح پر قابلِ اعتماد ڈیٹا کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں نہیں ہوتا جہاں بڑے پیمانے پر مستقل آبادی ملک چھوڑ چکی ہو۔
میڈیا، میمز اور مزاح کے حوالے سے کی گئی باتیں بھی مکمل طور پر غلط نہیں۔ نوجوان نسل واقعی سنجیدہ خطابات سے زیادہ طنز، مزاح اور مختصر پیغامات میں حقیقت تلاش کرتی ہے۔ یہ ان کا مزاج ہے، جرم نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سنجیدہ قومی مکالمہ مکمل طور پر تماشے میں بدل جائے اور ہر ادارہ، ہر قدر اور ہر کوشش کو محض مذاق بنا دیا جائے۔ آزادیِ اظہار اور ذمہ داری کے درمیان توازن ضروری ہے۔ اگر سب کچھ ہی مضحکہ خیز ہے تو پھر تعمیر کہاں سے آئے گی؟ اور اگر ہر سوال غداری قرار پائے تو پھر اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟ یہی وہ نازک لکیر ہے جسے سمجھنا ہماری اجتماعی دانش کا امتحان ہے۔
آخر میں سب سے اہم سوال، کیا پاکستان واقعی اس سب سے محروم ہو چکا ہے یا یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے؟ جواب شاید دونوں کے درمیان کہیں ہے۔ پاکستان مسائل کا شکار ضرور ہے، لیکن یہ مسائل اس کے خاتمے کا پروانہ نہیں۔ یہ ملک وسائل، صلاحیت، نوجوان آبادی اور نظریاتی بنیادوں سے مالا مال ہے۔ ہاں، ناانصافی، بدانتظامی اور اشرافیائی طرزِ حکمرانی نے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، مگر قومیں ایک ہی سانس میں نہ بنتی ہیں نہ بگڑتی ہیں۔ دشمن یہ چاہتا ہے کہ ہم خود کو ہارا ہوا مان لیں، اپنی تاریخ، شناخت اور مستقبل پر شک کرنے لگیں۔ لیکن پاکستانی قوم کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ مایوسی کے بیانیے کو مستقل ٹھکرا دیتی ہے۔ انشاءاللہ یہی قوم سوال بھی کرے گی، اصلاح بھی مانگے گی اور ملک کو چھوڑنے کے بجائے اسے بہتر بنانے کی جدوجہد بھی کرے گی۔ یہی اصل حب الوطنی ہے، نہ اندھی تائید اور نہ اندھا انکار، بلکہ شعور، امید اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا۔
اور چلیے، اب اختتام قصہ اس غزل کو گنگنایا جائے، کہ اس میں احتجاج کی آنچ بھی ہے اور دعا کی ٹھنڈک بھی:
یہ کون ہار کا اعلان در و بام کرتا ہے
جو اپنے ضمیر سے پہلے ہی ہار جاتا ہے
وہ نسل کے نام پہ نفرت کی فصل بوتا ہے
اور اپنے ہاتھ سے مستقبل اجاڑ جاتا ہے
نہ نعرہ قوم کو زندہ، نہ زہر کچھ حل دے
وطن وہی ہے جو کردار سے سنورتا ہے
جو نوجوان کے غصّے کو بیچ آئے بازار
وہ اپنے کل کا جنازہ خود اٹھا جاتا ہے
ہم اختلاف میں بھی تہذیب کا سفر رکھتے
یہی تو جرم ہے جس پر وہ چیخ جاتا ہے
یہ آگ لفظوں کی نہیں، سچ کی حدت ہے
جو جھوٹ کے محلوں کو راکھ کر جاتا ہے
نہ ہم مریدِ صدا ہیں، نہ خواب کے سوداگر
ہم اہلِ سوال ہیں، یہی ہمیں بچاتا ہے
جو قوم کو ہی کم تر سمجھ کے جیتے ہیں
زمانہ ایک دن ان کو بھی بھول جاتا ہے

