Saturday, 10 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Riaz
  4. Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran

Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran

اسلامی تاریخ میں خواتین حکمران

اسلامی تاریخ کو اکثر ایک ایسے بیانیے میں پیش کیا جاتا ہے جس میں اقتدار، سیاست اور حکمرانی صرف مردوں تک محدود سمجھی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مختلف ادوار میں، خاص طور پر بحران، جانشینی کے خلا یا سیاسی عدم استحکام کے مواقع پر، کئی مسلمان خواتین اقتدار میں آئیں۔ ان کی حکمرانی محض اتفاق نہیں بلکہ حالات، صلاحیت اور عوامی حمایت کا نتیجہ تھی۔

یہ روایت نہ صرف قرون وسطیٰ بلکہ زمانہ جدید میں بھی جاری رہی ہے۔ جیسا کہ برصغیر میں رضیہ سلطانہ 1236 تا 1240ء، اس روایت کی پہلی واضح مثال ہیں۔ انہیں اقتدار اس لیے ملا کہ سلطان التتمش کے بیٹے حکمرانی کی صلاحیت سے محروم تھے اور خود التتمش نے رضیہ کو ولی عہد نامزد کیا تھا۔ رضیہ نے عدل، اہلیت اور براہِ راست قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اہلیت کی بنیاد پر عہدیدار مقرر کیے، خود دربار اور فوج کی قیادت کی اور مرکزی حکومت کو مضبوط بنایا۔ تاہم ترک امرا کی سازشوں اور سماجی مزاحمت نے ان کی حکومت کو کمزور کر دیا۔ جمال الدین یاقوت کی تقرری جیسے بعض فیصلے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوئے اور بالآخر وہ 1240ء میں اقتدار سے محروم ہوگئیں۔

مصر میں 1250ء میں شجر الدر کا اقتدار ایک ہنگامی صورتِ حال کا نتیجہ تھا۔ صلیبی جنگ کے دوران سلطان الصالح ایوب کی وفات کے بعد انہوں نے ریاست کو انتشار سے بچایا، دشمن کو شکست دی اور لوئی نہم جیسے طاقتور بادشاہ کو قید کیا۔ فوج اور امرا کی حمایت سے شجر الدر باقاعدہ حکمران بنیں۔ مگر خلافتِ عباسیہ اور مذہبی حلقوں کی عدم قبولیت، نیز اقتدار کی اندرونی کشمکش، ان کے زوال کا سبب بنی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ عسکری کامیابی بھی سماجی و مذہبی جواز کے بغیر دیرپا نہیں ہو سکتی۔

اندلس کے زوال کے بعد مراکش میں سیدہ الحرہ 1515 تا 1542ء نے تطوان پر حکمرانی کی۔ انہیں اقتدار شوہر کی وفات کے بعد عوامی اور عسکری حمایت سے ملا۔ انہوں نے بحیرہ روم میں یورپی طاقتوں کو للکارا اور اندلسی مسلمانوں کو سہارا دیا۔ ان کا دور تقریباً ستائیس برس پر محیط رہا۔ تاہم زمینی سیاست میں کمزور گرفت اور خاندانی اختلافات کے باعث انہیں اقتدار برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔

سلجوقی دور میں ترکان خاتون نے باضابطہ سلطان نہ ہونے کے باوجود ملک شاہ کی وفات کے بعد عملی اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے دربار، فوج اور علما پر اثر و رسوخ قائم رکھا اور اپنے بیٹے کو تخت دلانے کی کوشش کی۔ مگر خاندانی سیاست میں حد سے زیادہ الجھ جانے اور وزیر نظام الملک سے اختلافات نے سلطنت کو نقصان پہنچایا اور اس کے زوال کا سبب بنے۔ اسی طرح عباسی دور میں زبیدہ خاتون نے براہِ راست حکومت نہیں کی، مگر فلاحی منصوبوں، بالخصوص دربِ زبیدہ کے ذریعے ریاست اور عوام دونوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی محدودیت یہی تھی کہ ان کا کردار سیاسی نہیں بلکہ رفاہی رہا۔

زمانہ جدید میں یہ روایت ایک نئے انداز میں جاری رہی۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم بنیں۔ فوجی آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی کے لیے انہیں اقتدار عوامی حمایت سے ملا۔ بے نظیر نے خارجہ محاذ، عوامی فلاح اور جمہوری عمل میں اہم کردار ادا کیا، مگر ان کے دونوں ادوار بدعنوانی کے الزامات، ادارہ جاتی ٹکراؤ اور سیاسی عدم استحکام کی نذر ہو گئے۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی سیاست بھی اس بات کی مثال ہے کہ جدید مسلم معاشروں میں خواتین اقتدار میں آ سکتی ہیں، مگر ذاتی اور جماعتی محاذ آرائی ریاستی نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ حسینہ واجد نے معاشی استحکام اور شدت پسندی کے خلاف اقدامات کیے، جبکہ خالدہ ضیاء نے جمہوری عمل کو آگے بڑھایا، مگر دونوں کے ادوار شدید سیاسی کشیدگی اور اداروں کی تقسیم کا شکار رہے۔

ترکی میں تانسو چلّر، جو 1990ء کی دہائی میں وزیرِاعظم رہیں، انہوں نے جدید سیکولر مسلم ریاست میں خاتون قیادت کی مثال قائم کی۔ انہیں معاشی ماہر ہونے کے باعث اقتدار ملا، مگر ان کا دور اقتصادی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کے باعث مکمل کامیابی نہ حاصل کر سکا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان خواتین حکمرانوں کی کامیابیاں اور ناکامیاں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ انہیں اقتدار یا تو بحران میں ملا یا عوامی جدوجہد کے نتیجے میں اور ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر سماجی قبولیت، ادارہ جاتی مزاحمت اور سیاسی عدم استحکام رہی۔

خواتین، صرف اپنی شخصیت کی نہیں بلکہ اپنے دور اور سیاسی نظام کی آزمائش کی بھی عکاس ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ خواتین حکمران ہر وقت کامل رہیں، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ خواتین کو جب بھی موقع ملا، انہوں نے قیادت کی صلاحیت کا عملی ثبوت دیا۔ اصل سوال عورت یا مرد کا نہیں، بلکہ نظام کی مضبوطی، برداشت اور سیاسی بلوغت کا ہے۔

قدیم مسلم سلطنتوں سے لے کر جدید مسلم ریاستوں تک، مثالیں واضح کرتی ہیں کہ جب بھی خواتین کو مواقع ملے، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ پاکستان کی خواتین ہر میدان میں اپنی مہارت اور عزم کا لوہا منوا رہی ہیں۔ چاہے وہ طب کے شعبے میں ہوں، وکالت یا عدلیہ میں، دفاع میں ہوں یا تعلیم و تربیت میں، انجینئرنگ ہو یا بزنس مینجمنٹ یا پھر سیاست کا میدان، جہاں بھی انہیں قیادت کا موقع ملا، انہوں نے ہر چیلنج کو فتح کیا۔ اپنے عزم، جذبے اور ہنر سے ہر رکاوٹ کو پار کیا۔

Check Also

Imam Card, Aaima Karam Ki Toqeer Ya Siasi Khairat Ki Zanjeer?

By Saleem Zaman