Qaidi Number 804 Ko Hasil Sahulatein Aur Diet Schedule
قیدی نمبر 804 کوحاصل سہولتیں اور ڈائیٹ شیڈول

پاکستانی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور اگر کہیں سسپنس، طنز اور حیرت ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو سمجھ لیجیے معاملہ یا تو پارلیمنٹ کا ہے، یا پھر جیل کا۔ اس بار منظر کا مرکز ہے قیدی نمبر 804 اور اسٹیج ہے اڈیالہ جیل، جہاں قید کے اندر سہولتوں کا ایسا منظرنامہ سامنے آیا کہ سننے والے کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئے کہ یہ اصلاح خانہ ہے یا ویلنیس ریزورٹ۔
یہ سب انکشافات اس وقت سامنے آئے جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ پیش ہوئی۔ رپورٹ آئی تو خبر بنی، خبر بنی تو بحث ہوئی اور بحث ہوئی تو قوم نے حسب روایت دو حصوں میں تقسیم ہو کر سوشل میڈیا کو میدانِ جنگ بنا دیا۔ مگر آئیے ذرا ٹھنڈے دماغ اور ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ اس پورے "جیل لائف اسٹائل پروگرام" کا جائزہ لیتے ہیں۔
قید کا کمپاؤنڈ یا پرائیویٹ فارم ہاؤس؟ رپورٹ کے مطابق سات سیل پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ، سامنے 57 فٹ لمبا اور 14 فٹ چوڑی راہداری، ساتھ لان، دھوپ، تازہ ہوا، مطالعے کی سہولت۔
اب سچ بتائیے، عام آدمی کو اپنے گھر کے سامنے اتنی لمبی راہداری اور الگ لان نصیب ہو تو وہ فیس بک پر اس کی تصویریں لگا لگا کر رشتہ داروں کو حسد میں مبتلا نہ کردے؟
یہاں تو قیدی نمبر 804 صاحب لان میں بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں، اخبار دیکھتے ہیں، دھوپ سینکتے ہیں۔ گویا جیل انتظامیہ نے سوچا ہو کہ قید بھی ہو، مگر وٹامن ڈی کی کمی نہ ہو۔ جیل کا جم، صحت مند قیدی، مضبوط نظام۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ورزش کے لیے سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کا سامان موجود ہے۔ یعنی اگر کوئی قیدی باہر نکل کر فٹنس ٹرینر بننا چاہے تو تجربہ پہلے ہی حاصل کر چکا ہوگا۔
عام شہری صبح پارک میں واک کے لیے جگہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور یہاں قید کے اندر باقاعدہ ورزش پلان موجود ہے۔ لگتا ہے جیل انتظامیہ نے صحت کارڈ کو سنجیدگی سے لے لیا ہے۔ اب آتے ہیں اصل موضوع پر، کھانے کا ڈائیٹ مینوئل، شاہکار چارٹ۔
اصل ہنگامہ تو کھانے کے چارٹ نے برپا کیا۔ وہ چارٹ جس نے پاکستانی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جیل میں داخلے کے لیے درخواست فارم کہاں سے ملتا ہے۔
ناشتہ دیکھیے:
کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا سیڈز، اوپر سے مسمی اور انار کا جوس۔
یہ ناشتہ نہیں، غذائیت کا سیمینار ہے۔
ادھر عام آدمی صبح چائے اور بسکٹ کے درمیان زندگی کے فیصلے کر رہا ہوتا ہے اور ادھر قید میں اینٹی آکسیڈنٹس کا مکمل پیکیج۔
دوپہر کا کھانا، دیسی ذائقے، جیل ایڈیشن
دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغی، مٹن، مکس دال، سلاد، اچار، آلو چپس، انڈہ فرائی۔
گویا اگر کوئی ڈائٹیشن اس مینو کو دیکھے تو فوراً کہے گا: "پروٹین بیلنس شاندار ہے"۔
یہ وہی ملک ہے جہاں مہنگائی کے باعث عام آدمی نے گوشت کو تہواروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور یہاں جیل میں غذائی توازن برقرار رکھا جا رہا ہے۔
شام کا سنیک، بادام، کشمش اور شیک
شام کو بادام، کشمش، ناریل پاؤڈر، دودھ، کھجور، کیلا، سیب کا شیک۔
یعنی شام کی چائے کی جگہ مکمل انرجی بوسٹر۔
عام گھروں میں شام کو اگر بسکٹ کے ساتھ چائے مل جائے تو بچے خوش ہو جاتے ہیں اور یہاں شیک کی ورائٹی چل رہی ہے۔
قیدی نمبر 804 رات کو مکمل کھانا نہیں کھاتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوروں پر اکتفا کرتے ہیں۔ لچھ کھانےں پینے کی چیزیں ذاتی خرچ پر لینے کی اجازت ہے۔ سیل کے اندر انہیں چھری، کانٹے اور برتن رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
قدرتی روشنی اور تازہ ہوا
صبح سے شام تک قدرتی روشنی، تازہ ہوا، محفوظ ماحول۔
بہتر کلاس، جیل کا وی آئی پی سیکشن؟ رپورٹ کے مطابق بہتر کلاس فراہم کی گئی ہے۔ یہ وہ اصطلاح ہے جس نے لوگوں کو سب سے زیادہ چونکایا۔ کیونکہ عام آدمی کو کلاس تب ملتی ہے جب وہ ہوائی جہاز میں بزنس یا فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدے، یہاں قید میں کلاس آپ گریڈ ہو رہی ہے۔
سیاست کا دلچسپ پہلو، وقت کا پہیہ ہے۔
اب ذرا اس کہانی کا سب سے دلچسپ اور طنزیہ پہلو دیکھیں۔
قیدی نمبر 804 یہ وہی شخصیت ہے جس کے دورِ حکومت میں اپنے سیاسی مخالفین پر زندگی تنگ کر دی گئی، گرفتاریاں، مقدمات، دباؤ، جیل میں سےاے سی، ٹی وی اتروانا اور دوسری سہولتیں ختم کرکے انہیں چھوٹےسے سیل میں قید رکھنا اور آج وہی سیاسی مخالفین اب اقتدارمیں ہیں اور انہوں نے 804 کو وہ تمام سہولتیں مہیا کی ہوئی ہیں جو اس نے ان پر تنگ کر دی تھیں
سیاست واقعی عجیب کھیل ہے۔ کل جو طاقتور تھا، آج قید میں ہے۔ کل جو مظلوم تھا، آج انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور کل کیا ہوگا، یہ صرف وقت جانتا ہے۔ جیل یا سبق گاہ؟ اگر اس پورے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر قیدی کو انسانی حقوق کے مطابق سہولتیں دے۔ خوراک، صحت، روشنی، ہوا، یہ بنیادی حقوق ہیں۔ اگر کسی قیدی کو یہ سب مل رہا ہے تو اصولاً اس میں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
اصل سوال شاید یہ ہے کہ کیا یہ سہولتیں سب کو ملتی ہیں؟
اگر ہاں، تو بہترین۔
اگر نہیں، تو پھر بحث ضروری ہے۔
عوام کا ردعمل، مزاح، طنز اور میمز۔ پاکستانی عوام نے اس معاملے کو بھی اپنی روایتی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ لیا۔ کسی نے کہا: "یہ جیل نہیں، ہیلتھ کلب ہے"۔
کسی نے لکھا: "ایسی ڈائٹ ملے تو میں بھی قید کاٹ لوں" اور کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا: "زندگی میں پہلی بار سمجھ آیا کہ اصلاحِ نفس کیسے ہوتی ہے"۔
سبق کیا ہے؟
اس پوری صورتحال سے چند دلچسپ سبق نکلتے ہیں: اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ سیاست میں کردار بدلتے رہتے ہیں۔ ریاستی نظام کبھی سخت، کبھی نرم ہوتا ہے۔ عوام ہمیشہ تبصرہ ضرور کرتے ہیں۔
آخری بات، طنز بھی، حقیقت بھی ہلکے پھلکے مزاح سے ہٹ کر ایک سنجیدہ حقیقت بھی ہے۔ طاقت، اختیار اور حالات، سب بدلتے رہتے ہیں۔ جو آج حکم دیتا ہے، کل جواب دیتا ہے۔ جو آج سوال اٹھاتا ہے، کل جواب دہ ہوتا ہے۔
یہی سیاست کا چکر ہے اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے: اقتدار کرسی نہیں، ایک عارضی امتحان ہے۔
آخر میں بس اتنا کہہ سکتے ہیں۔ قید کا یہ شاہانہ چارٹ صرف کھانے کا شیڈول نہیں۔ یہ سیاست، طاقت اور وقت کے بدلتے رنگوں کی مکمل کہانی ہے اور پاکستانی سیاست میں کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اصل ڈرامہ تو ہمیشہ اگلے منظر میں ہوتا ہے۔

