Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Abbas Dassu
  4. Fitna e Jahalat Aur Taasub

Fitna e Jahalat Aur Taasub

فتنۂ جہالت اور تعصب‎

معاشرہ اس وقت ایک عجیب فکری کشمکش سے گزر رہا ہے۔ بظاہر ہم جدید دور کے باشعور شہری ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں ہمارا اجتماعی شعور ابھی بھی جذباتی ہیجان، مسلکی تعصب اور فکری افراط و تفریط کی آندھیوں میں ڈگمگا رہا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو خود کو لبرل کہتا ہے اور جس کی روشن خیالی اکثر مذہب سے بیزاری تک جا پہنچتی ہے اور دوسری طرف وہ عناصر ہیں جو مذہب کے نام پر تعصب، تکفیر اور نفرت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ دونوں انتہائیں اپنی اپنی جگہ ایک ایسی کشمکش کو جنم دے رہی ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان معاشرتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا ہو رہا ہے۔

پاکستان میں جو مخصوص طرز کا لبرل بیانیہ سامنے آیا ہے، وہ اکثر دین کو سماجی پسماندگی کی جڑ قرار دیتا ہے۔ گویا اگر مذہبی شناخت کمزور ہو جائے تو معاشرہ خود بخود ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔ مگر یہ مفروضہ نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ سماجی طور پر قابلِ قبول۔ مسئلہ دین نہیں، مسئلہ دین کی غلط تعبیر اور غلط استعمال ہے۔ دین تو عدل، رحمت، حکمت اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ اگر انہی اصولوں کو بنیاد بنایا جائے تو معاشرہ اعتدال اور توازن کا حسین نمونہ بن سکتا ہے۔ لیکن جب دین کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے یا پھر اسے صرف شناختی ہتھیار بنا دیا جائے تو پھر اعتدال کی جگہ افراط و تفریط لے لیتی ہے۔

دوسری طرف مذہب پرست عناصر کا ایک گروہ ایسا ہے جو مسلکی وابستگی کو ایمان کا مترادف بنا دیتا ہے۔ ان کے نزدیک اختلافِ رائے گمراہی ہے اور مخالف مسلک کا فرد محض فکری حریف نہیں بلکہ گویا دین کا دشمن ہے۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو تکفیر کو معمولی بات سمجھتی ہے اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتی ہے۔ حالانکہ صدیوں سے فقہی اور فکری اختلاف اس امت کا حصہ رہا ہے، مگر اس اختلاف نے کبھی دلوں میں ایسی دراڑیں نہیں ڈالیں جیسی آج سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا ڈال رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے حالات میں کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ایک معمولی سوشل میڈیا پوسٹ کس طرح پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی دور دراز علاقے میں بیٹھا ایک کم علم یا جذباتی شخص کسی جعلی آئی ڈی سے ایک اشتعال انگیز پوسٹ کر دیتا ہے۔ وہ شاید یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کے چند جملے آگ کی چنگاری بن سکتے ہیں۔ مگر مسئلہ صرف اس فرد کا نہیں ہوتا، اصل کردار وہ لوگ ادا کرتے ہیں جو اس پوسٹ کا اسکرین شاٹ لے کر اسے مسلکی رنگ دے کر پھیلا دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بڑے تجزیہ کار اور رہنما سمجھتے ہیں، لمبی چوڑی تحریریں لکھتے ہیں، مخالف مسلک کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں اور یوں ایک محدود دائرے کی بات پورے معاشرے میں پھیلا دیتے ہیں۔

پھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ واٹس ایپ گروپس میں پیغامات گردش کرتے ہیں، جذبات بھڑکتے ہیں، ایف آئی آر درج ہوتی ہے، اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، احتجاج شروع ہوتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل کہا جاتا ہے اور یوں نفرت کا ایک دائرہ بنتا چلا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ چند الفاظ سے شروع ہوتا ہے مگر انجام اجتماعی اضطراب پر ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج لفظ بارود بن چکا ہے اور اسکرین شاٹ ماچس کی تیلی۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ اس نفرت کو سرمایہ بناتے ہیں۔ ان کے لیے تنازع ایک ذریعہ معاش ہے، اشتعال انگیزی شہرت کا زینہ ہے اور مسلکی تقسیم فالوورز بڑھانے کا نسخہ۔ وہ جانتے ہیں کہ سنجیدہ اور معتدل بات وائرل نہیں ہوتی، مگر تیز اور اشتعال انگیز جملہ لمحوں میں پھیل جاتا ہے۔ اس لیے وہ آگ بھڑکاتے ہیں تاکہ خود روشنی میں رہ سکیں۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی اور سماجی واردات ہے جسے پہچاننا ضروری ہے۔

اصل مسئلہ عوامی شعور کی کمزوری بھی ہے۔ جب تک لوگ ہر خبر کو تحقیق کے بغیر سچ مانتے رہیں گے، جب تک جذبات عقل پر غالب رہیں گے اور جب تک اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوگا، تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کم علم عوام جذبات کے سمندر میں جلدی بہہ جاتے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ جس پیغام کو آگے بڑھا رہے ہیں وہ کسی کے دل کو زخمی کر سکتا ہے یا کسی علاقے کا امن برباد کر سکتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نہ اندھی روشن خیالی مسائل کا حل ہے اور نہ اندھا تعصب۔ ایک طرف مذہب سے بیزاری معاشرے کو جڑوں سے کاٹ دیتی ہے اور دوسری طرف مذہب کے نام پر نفرت معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو سنبھال سکتا ہے۔ اختلاف کو علمی دائرے میں رکھا جائے، مسلکی وابستگی کو انسانیت پر فوقیت نہ دی جائے اور سوشل میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

اگر ہم نے اپنے رویوں کا محاسبہ نہ کیا تو یہ نفرت کی آگ مزید پھیلے گی۔ قومیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی انتشار سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ جب دلوں میں دراڑ پڑ جائے تو سرحدوں کی مضبوطی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان، اپنی تحریر اور اپنے طرزِ فکر پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کے سپاہی بننا چاہتے ہیں یا معاشرتی امن کے محافظ۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم علم کو جذبات پر، حکمت کو اشتعال پر اور اخوت کو تعصب پر ترجیح دیں۔ ورنہ ایک معمولی پوسٹ، ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ اور ایک اسکرین شاٹ ہمارے معاشرے کو اس نہج پر لے جا سکتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔ اعتدال، شعور اور باہمی احترام ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک پرامن اور مضبوط معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

About Nusrat Abbas Dassu

Nusrat Abbas Dassu is student of MSC in Zoology Department of Karachi University. He writes on various topics, such as science, literature, history, society, Islamic topics. He writes columns for the daily Salam, daily Ausaf and daily Lalkar.

Check Also

Wali Ullah (13)

By Rizwan Akram