Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Hashmi
  4. Ye Aankhen Khoon Royen Gi

Ye Aankhen Khoon Royen Gi

یہ آنکھیں خون روئیں گی

کچھ جملے محض کہے نہیں جاتے، وہ انسان پر گزرتے ہیں۔ یہ مصرع بھی ایسا ہی ہے، اس میں درد کی وہ شدت چھپی ہے جو شور نہیں مچاتی، بس اندر ہی اندر سب کچھ چیر ڈالتی ہے۔ جب جگر چھلنی ہوتا ہے تو آنکھیں آنسو نہیں گراتیں، وہ خون روتی ہیں، کیونکہ بعض صدمے آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے روح کو لہولہان کر چکے ہوتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مسکراہٹ کو طاقت اور خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگ ہنستے ہوئے ٹوٹتے ہیں، جیتے جی مرتے ہیں اور پھر بھی"سب ٹھیک ہے"کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

کسی کو کیا خبر کہ اس ظاہری ٹھیک ہونے کے پیچھے کتنی راتیں ہیں جو سسکیوں میں کٹیں، کتنی دعائیں ہیں جو آسمان تک پہنچنے سے پہلے ہی بوجھ بن گئیں۔ یہ آنکھیں جو خون روئیں گی، کسی ایک شخص کی نہیں ہوتیں۔ یہ ان ماؤں کی آنکھیں ہیں جن کے خواب کفن میں لپٹے اور ان نوجوانوں کی پلکیں ہیں جن کے حوصلے سوالوں کی گرد میں گم ہو گئے۔ بے بسوں کے خواب جو غربت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، دکھ جب اجتماعی ہو جائے تو آنسو ذاتی نہیں رہتے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

معاشرتی زندگی میں انسان کو جن آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے، اُن میں ایک اہم آزمائش بے فیض لوگوں کے ساتھ نباہ بھی ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے مطلب، مفاد کی خاطر تعلق میں تو شامل رہتے ہیں، مگر اس تعلق کی روح سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی بظاہر معمول کا حصہ لگتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ یہ رشتہ محض بوجھ بن چکا ہے۔ بے فیض لوگ نہ صرف دوسروں کے وقت اور توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ اکثر تعلقات کو یک طرفہ سڑک بنا دیتے ہیں۔ جہاں ان کی ضرورت ہو، وہاں وہ پوری توجہ اور توقع کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، مگر جب دوسرے فریق کو سہارا درکار ہو تو وہ یا تو بے خبری اختیار کر لیتے ہیں یا مجبوریوں کا سہارا لے لیتے ہیں۔ ایسے رویے آہستہ آہستہ اعتماد کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب یہ افراد قریبی رشتوں میں شامل ہوں۔ معاشرتی دباؤ، خاندانی روایات اور تعلقات کی نزاکت انسان کو فوری فیصلے سے روکے رکھتی ہے، تاہم دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر تعلق کو اس کی اصل حیثیت میں دیکھا جائے۔ ہر رشتہ مکمل توجہ اور قربت کا متقاضی نہیں ہوتا، بعض رشتے محض حدود میں رہ کر ہی قائم رکھے جا سکتے ہیں۔ ماہرینِ سماجیات کے مطابق ایسے حالات میں توقعات کو حقیقت پسندانہ سطح پر لانا نہایت ضروری ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر شخص اس کے معیارِ خلوص پر پورا نہیں اتر سکتا تو ذہنی دباؤ میں واضح کمی آ جاتی ہے۔ خلوص برقرار رکھنا اچھی بات ہے، مگر اسے بلا امتیاز تقسیم کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اخلاقیات کسی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں اور جب یہی کمزور پڑ جائیں تو مفاد پرست ٹولہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نفع و نقصان کے حساب سے حق و باطل کا تعین کرتے ہیں، جن کے نزدیک سچ وہی ہوتا ہے جو ان کے مفاد میں ہو۔ یہ ایک ذہنیت ہے جو آہستہ آہستہ گھروں، اداروں اور تعلقات میں سرایت کر جاتی ہے۔ جہاں اصول قربان ہوں اور فائدہ معیار بن جائے، وہاں کردار مر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اعتماد ناپید، خلوص کم اور خودغرضی عام ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ بے لوث خدمت ہی انسان کو دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔

دوسروں کی مدد کرنا نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ یہ انسانی نفسیات کے مطابق خود آپ کو بھی دلی سکون اور خوشی فراہم کرتا ہے۔ جب ہم مفاد سے بالاتر ہو کر کسی کا ہاتھ تھامتے ہیں، تو وہی عمل معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس مفاد پرست ٹولہ بظاہر بڑے اخلاقی دعوے کرتا ہے، مگر عمل میں آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ امانت میں خیانت کو چالاکی، جھوٹ کو حکمت اور حق تلفی کو مجبوری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ نئی نسل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کامیابی کا راستہ شارٹ کٹ سے ہو کر گزرتا ہے، چاہے اس میں کسی کا حق مارا جائے۔

اصلاح کا آغاز ہمیشہ خود سے ہوتا ہے۔ اگر ہر فرد یہ طے کر لے کہ وہ نقصان برداشت کر لے گا مگر اصول نہیں چھوڑے گا، تو مفاد پرست ٹولہ خود بخود تنہا ہو جائے گا۔ سچ یہ ہے کہ باکردار انسان وقتی طور پر کمزور دکھائی دے سکتا ہے، مگر انجام کار وہی مضبوط ہوتا ہے۔ عزت دولت سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔ جب معاشرہ مفاد کو نہیں بلکہ اخلاق کو معیار بنا لے گا تو مفاد پرست ٹولے کی دکان خود ہی بند ہو جائے گی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی میں ملنے والے تمام لوگ ہمارے لیے آسانی کا سبب نہیں بنتے، کچھ لوگ ہمیں برداشت، صبر اور خودداری کا سبق سکھانے آتے ہیں۔ ایسے افراد سے الجھنے یا شکوے شکایت میں وقت ضائع کرنے کے بجائے خاموش فاصلہ اختیار کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

آخرکار، بے فیض لوگوں سے نباہ کا مطلب یہ نہیں کہ تعلق ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ خود کو غیر ضروری ذہنی اور جذباتی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ شائستگی، توازن اور خود احتسابی کے ساتھ اختیار کیا گیا فاصلہ ہی ایسے تعلقات میں سب سے بہتر حل ثابت ہو، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم خون روتی آنکھوں کو بھی دیکھنے سے کتراتے ہیں۔ ہمیں کہانی پسند ہے، کرب نہیں۔ ہم الفاظ پڑھ لیتے ہیں، احساس نہیں۔ شاید اسی لیے جگر چھلنی ہونے کی آوازیں کم سنائی دیتی ہیں، کیونکہ سننے والے کان ہی کہاں بچے ہیں۔ اگر ہم نے ایک دوسرے کے دکھ کو سنجیدگی سے نہ سنا، تو کل یہ مصرع جگر ہو جائے گا چھلنی، یہ آنکھیں خون روئیں گی صرف شعر نہیں رہے گا، ہماری اجتماعی پہچان بن جائے گا۔

Check Also

Ramzan Transmission Aur Riyasti Zimmedari

By Noorul Ain Muhammad