Asal Iqtidar Ikhtiyar Nahi, Inkisar Hai
اصل اقتدار اختیار نہیں، انکسار ہے

ایک بزرگ درویش کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ہر صبح اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھ کر ایک ہی دعا دہراتے تھے: "اے رب، مجھے اتنا دے کہ میں تیرا شکر ادا کر سکوں اور اتنی عقل دے کہ میں یہ سمجھ سکوں کہ سب کچھ تیرا دیا ہوا ہے"۔ ایک دن ایک امیر آدمی نے طنزاً کہا، "بابا! آپ کے پاس ہے ہی کیا جس پر شکر کریں؟" درویش مسکرائے اور بولے، "مجھے یہ شعور تو ہے کہ میرا کچھ بھی نہیں، سب اسی کا ہے۔ یہی سب سے بڑی دولت ہے"۔ امیر آدمی خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار جانا کہ شکر دولت سے نہیں، نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ نسبت ہے جو انسان کو خاک سے افلاک تک لے جاتی ہے اور یہی وہ راز ہے جو ہمیں حضرت سلیمانؑ کی اس دعا میں جھلکتا نظر آتا ہے جس میں وہ عرض کرتے ہیں: "اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے فضل کا شکر گزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا ہے اور ایسے اچھے کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے، تو مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل کر لے"۔
یہ دعا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، ایک مکمل فکری اور اخلاقی نظام کی بنیاد ہے۔ جس شخصیت نے یہ دعا مانگی، وہ محض ایک پیغمبر نہ تھے بلکہ ایک عظیم فرمانروا بھی تھے۔ حضرت سلیمان کو وہ سلطنت عطا ہوئی جس کا تصور بھی عام ذہن کے لیے مشکل ہے، ہوا ان کے تابع، جنات ان کے ماتحت، پرندے ان کے مخاطب اور زمین کے خزانے ان کی دسترس میں تھے۔ مگر اس بے مثال اقتدار کے باوجود ان کی زبان پر سب سے پہلا لفظ "شکر" ہے، "اقتدار" نہیں۔ وہ اپنے رب سے مزید سلطنت نہیں مانگتے، بلکہ شکر کی توفیق مانگتے ہیں۔ گویا اصل سلطنت دل کی ہے اور اصل اقتدار اپنے نفس پر ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے حکمرانوں، اہلِ قلم اور اہلِ دانش سب کے لیے آئینہ ہے۔ طاقت انسان کو مغرور بنا سکتی ہے، مگر شکر اسے متواضع بناتا ہے۔ طاقت فاصلے پیدا کرتی ہے، شکر رشتے جوڑتا ہے۔ طاقت وقتی ہے، شکر دائمی ہے۔
اس دعا میں ایک اور لطیف اشارہ پوشیدہ ہے: "جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا۔ " یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی کامیابی انفرادی نہیں ہوتی، وہ نسلوں کی دعاؤں اور محنتوں کا تسلسل ہوتی ہے۔ حضرت داؤدٌ کی میراث صرف ایک سلطنت نہ تھی بلکہ ایمان، حکمت اور عدل کا سرمایہ بھی تھا، جو بیٹے کو منتقل ہوا۔ آج کا انسان، جو اپنی کامیابی کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے، وہ اس رشتے کو بھول جاتا ہے جو اسے اپنے ماضی سے جوڑتا ہے۔ ماں باپ کی دعائیں، ان کی قربانیاں، ان کی بے نام جدوجہد، یہ سب ہمارے حال کا حصہ ہیں۔ شکر صرف اس بات کا نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ہمیں کس سلسلے سے جوڑا گیا۔ شکر دراصل اعتراف ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں، میں ایک دعا کا تسلسل ہوں، ایک امانت کا وارث ہوں۔
پھر وہ عرض کرتے ہیں کہ مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں۔ یہاں ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے: ہر اچھا کام ضروری نہیں کہ مقبول بھی ہو۔ دنیا کی نگاہ میں بڑا کام کچھ اور ہو سکتا ہے، مگر رب کی نگاہ میں بڑا کام کچھ اور۔ انسان اکثر اپنے کارناموں کی فہرست بناتا ہے، مگر کبھی یہ نہیں سوچتا کہ ان میں سے کون سا عمل واقعی پسندیدہ بھی ہے۔ یہ دعا ہمیں نیت کی اصلاح سکھاتی ہے۔ عمل کی ظاہری چمک نہیں، اس کی باطنی سچائی اصل قدر ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر اقتدار رکھتا ہے، گھر کا سربراہ، ادارے کا منتظم، کلاس کا استاد، یا قلم کا مزدور۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی طاقت ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس طاقت کو کس نیت سے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہمارا مقصد نمود ہے یا رضا؟ کیا ہماری تحریر شہرت کے لیے ہے یا خدمت کے لیے؟ کیا ہماری گفتگو انا کی تسکین ہے یا خیر کی ترسیل؟ اس دعا کا مرکزی سبق یہی ہے کہ زندگی کو پسندِ الٰہی کے زاویے سے دیکھا جائے، نہ کہ پسندِ خلق کے پیمانے سے۔
دعا کا آخری حصہ سب سے زیادہ دل کو چھوتا ہے: "اپنی رحمت سے، تو مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل کر لے۔ " غور کیجیے، ایک عظیم بادشاہ، ایک صاحبِ معجزات پیغمبر، یہ نہیں کہتا کہ مجھے الگ مقام دے، بلکہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔ یہ اجتماعیت کا شعور ہے، انکسار کا کمال ہے۔ اصل کامیابی انفرادی عظمت نہیں بلکہ صالحین کی صف میں جگہ پانا ہے۔ آج کا دور ہمیں انفرادیت کا سبق دیتا ہے، نمایاں ہو جاؤ، سب سے آگے نکل جاؤ، سب کو پیچھے چھوڑ دو۔ مگر یہ دعا ہمیں اجتماعیت کا سبق دیتی ہے، اچھوں کی جماعت میں شامل ہو جاؤ، نیکی کے قافلے کا حصہ بن جاؤ۔ یہ وہ زاویۂ نظر ہے جو انسان کو مقابلے کی دوڑ سے نکال کر خدمت کے سفر پر ڈال دیتا ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو حقیقی سکون ملتا ہے، کیونکہ وہ خود کو مرکز نہیں سمجھتا بلکہ ایک بڑے مقصد کا حصہ جانتا ہے۔
یہ دعا ہمیں ایک مکمل زندگی کا نقشہ دیتی ہے: شعورِ نعمت، اعترافِ نسبت، اصلاحِ نیت اور طلبِ رحمت۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں صرف یہ چار اصول اپنا لیں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ہمارے گھروں میں شکر کا ماحول ہو، ہماری تحریروں میں تواضع کی خوشبو ہو، ہمارے فیصلوں میں انصاف کی جھلک ہو اور ہمارے دلوں میں یہ آرزو ہو کہ ہم نیک لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں، تو یہی ہماری سلطنت ہے، یہی ہماری کامیابی۔ شکر دراصل ایک روحانی سیاست ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے اور جو دلوں کو فتح کر لے، اسے دنیا کی سلطنت کی ضرورت نہیں رہتی۔ حضرت سلیمانؑ کی دعا ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اصل اقتدار اختیار میں نہیں، انکسار میں ہے، اصل کامیابی دولت میں نہیں، نسبت میں ہے اور اصل نجات اپنی بڑائی میں نہیں، نیک بندوں کی صف میں شامل ہونے میں ہے۔
شکر ایک کیفیت نہیں، ایک مسلسل شعوری عمل ہے۔ یہ انسان کو اس کے رب، اس کے ماضی اور اس کے مقصد سے جوڑتا ہے۔ جو شخص شکر سیکھ لیتا ہے، وہ محرومی میں بھی امیر اور اقتدار میں بھی منکسر رہتا ہے۔
لب پہ ہو شکر تو قسمت بھی سنور جاتی ہے
دل میں ہو نور تو دنیا بھی نکھر جاتی ہے
تاج و تخت آئے تو انکسار بھی ساتھ آئے
ورنہ ہر جیت کی خوشبو بھی بکھر جاتی ہے
نیک بندوں میں جگہ مانگ لے اے دل ہر دم
یہی نسبت ہے جو انسان کو امر کر جاتی ہے

