Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Basharat Ali Chaudhry
  4. Maa Bhi Mera Hissa Hai

Maa Bhi Mera Hissa Hai

ماں بھی میرا حصہ ہے

بچہ ماں سے ہے۔۔ وہی اس کی اصل ہے۔۔ وہی اس کی بنیاد یے۔۔ اس کی "بنا" اس کے وجود سے ہے۔۔ مطلب وہ اس کے جسم کا حصہ ہے۔۔ وہ اس کے رحم میں نمو پاتا ہے۔۔ ماں کے جسم سے خوراک، آکسیجن، خون اور توانائی "کشید" کرتا ہے۔۔ اس سارے عمل میں ماں کی تکالیف میں آزمائش ہوتی ہے۔۔ یہیں سے اس کا حق سب حقوق سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔۔ یہیں سے رب کے ہاں اس کے درجات کی بلندی شروع ہو جاتی ہے۔۔ اسی عمل نے اس کے مقام کو بلند کر دیا ہے۔۔ اس کے قدموں تلے جنت کی "پیش گوئی" کر دی گئی ہے۔۔

پھر بھی تکالیف کا سلسلہ رکتا نہیں۔۔ پیدائش کے بعد بھی خوراک کی فراہمی۔۔ راتوں کے رتجگے۔۔ شدت موسم۔۔ قربانیوں کی لازول داستانیں۔۔ تربیت کے ڈھیر سارے مدارج۔۔ تنگدسی کے "وہم"۔۔ اندیشے و وسوسوں میں امید و رجاء کی کیفیات۔۔ بچوں کی طرف سے کبھی تلخی کلام۔۔ کبھی مطالبے و خواہشات۔۔ کبھی صعوبیتں سفر و خضر۔۔ کبھی بیماری و تھکاوٹ۔۔ سب کچھ برداشت کرکے وہ کبھی احسان نہیں جتاتی۔۔ وہ بے لوث ہی رہتی ہے۔۔ وہ کچھ بدلے میں مانگتی نہیں ہے۔۔ وہ ہمشیہ رب کی بارگاہ میں بچوں کے لئے "دست سوال' دراز رکھتی ہے۔۔ وہ "منگتی" بن کر بچوں کے آرام و سکون کی التجائیں کرتی رہتی ہے۔۔

وہ اس فانی دنیا میں "رحمانی صفات " کی حامل ہوتی ہے۔۔ وہ رحم، شفقت، ں ے نیازی، خدمت، ایثار اور وفاء کی "دیوی" بن کر بس نوازنے کا سوچتی ہے۔۔ یہ سب ایسے ہی نہیں ہے یہ رب کی طرف سے اس کے لئے "ودیعت" کردہ شانیں ہیں۔۔ یہ اس کی تخلیق میں شامل عناصر ہیں۔۔ یہ رب کی "جلوہ نمائیوں" کا ایک اظہار ہے۔۔ جب یہ عناصر ایک مخلوق میں رکھے گئےتو بندہ" عش عش" کر اٹھتا ہے تو اس "خالق" کی اپنی شفقت۔۔ اپنے کرم۔۔ اپنے فضل۔۔ اپنی عطاوں۔۔ اپنی سخاوں۔۔ اپنی بےنیازی اور اپنے "جود وسخا "کا کیا عالم ہوگا؟

میری ماں اس "عالم ناسوت" کو چھوڑ کر "عالم برزخ" سے گزر کر رب کی طرف لوٹ گئی ہیں۔۔ وہ شفقت و محبت کا "مجسمہ" تھیں۔۔ وہ عفو و درگرز پر عمل دارامد رہی۔۔ وہ نوازنے کے فن کو جانتی تھیں۔۔ وہ بانٹنے کی عادی رہیں۔۔ چاہے وہ اشیاء ہوں یا پیار و محبت۔۔ روداری ہو یا حسن سلوک۔ کلام ہو یا مسکراہٹیں۔۔ تکلیف و غم نے انہیں اندر سے کتنا توڑ دیا؟ یہ شاید ہی کوئی صحیح انداز میں بھانپ پاتا۔۔ وہ وفا و ایثار کرنا جانتی تھیں۔۔ وہ شرم و حیاء کی خوگر رہیں۔۔ وہ نظریں جھکائے غیر کے کلام کو سن تو لیتی تھیں لیکن قلیل ہی کلام کرتی تھیں۔۔ وہ لباس و انداز میں بڑی شستہ تھیں۔۔

اب وہ رب کے حضور پیش ہوگئی ہیں تو میرا کلیجہ کیوں منہ کو آیا ہے؟ میرا وجود کیوں زخمی ہے؟ میری آنکھوں سے برسات کی جھری کیوں لگی ہے؟ میرے اعصاب کیوں مضمحل ہیں؟ میری سسکیاں کیوں نہیں تھمتی؟ میری نیندیں کہاں چلی گئ؟ میرے ضبط کے بندھن کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ مجھے"ڈھارس" کیوں نہیں مل رہی؟ یہ رونا۔۔ یہ گریہ و زاری کرنا۔۔ میرے اختیار سے کیوں نکل گیا؟ دوران گفتگو میرے الفاظ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ میری زبان کیوں لڑکھڑانا شروع ہو جاتی ہے؟ میرے حوصلے کیوں پست ہو جاتے ہیں؟ میرے ارادے کیوں تکمیل نہیں پاتے؟ مجھے شب بیداری کی عادت کہاں سے ہوگئی؟ میری رب کے حضور التجائیں کیوں "رقت آمیز " ہونے لگیں؟ مجھے کیوں بھوک لگنے کا احساس نہیں ہوتا؟ میرا دھیان کیوں بھٹک جاتا ہے؟ میں ماں کے وجود کا حصہ ہوں۔۔ یہ سچ ہے لیکن جو میرے ساتھ بیت رہا ہے لگتا ہے "وہ ماں بھی میرا حصہ ہے"۔۔ اس کی "غیر موجودگی" کچھ تو اثر ڈالے گی۔۔ وجود کا وجود سے الگ ہونا کچھ "کرب" تو لائے گا۔۔ کچھ اذیتیں تو دے گا۔۔ کچھ غمناکی تو بانٹے گا۔۔

یہ رواج ہے یا ریت۔۔ یا شاید یہی حقیقت دنیا ہے۔۔ اسی لئے تو کہا"

"اِزُهَدُ فِی الدُّنُیَا كَاَنَّكَ غَرِیُبٌ" کہ دنیا میں یوں رہ جیسے کہ اجنبی ہو۔۔

اجنبی کو تو" دوام" نہیں۔۔ "ناسوت "کو تو فنا ہونا ہی ہے۔۔ "مثال دنیا" تو "مردار" کی سی ہے۔۔ یہ حقیقت اور بھی پختہ ہوئی۔۔ جب دوام و قرار کسی کو میسر نہیں۔۔ انبیاء و رسل علیھم السلام چلے گئے۔۔ رب کے پیارے اور محسن چلے گئے۔۔ تو عارضی قیام گاہ سے مستقل قیام کی طرف "رخت سفر"باندھنا ہی اصل ہے۔۔ فناء سے بقاء کا سفر لازمی امر ہے۔۔ محدود سے لامحدود کی طرف جانا روز اول سے جاری کردہ اصول و ضابطہ ہے۔۔

"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفُسًا إِلَّا وُسُعَهَا" (البقرة: 286) کا قرانی حکم کہ رب صلاحیت و ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔ اب بھی میری سماعتوں سے ٹکڑاتا ہے۔

"ارُجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرُضِيَّةً" (الفجر: 28)۔ رضا الہی کے حصول کے لئے اس رب کی طرف ہی جانا ہے۔۔

یہ کلام۔۔ یہ فرمان۔۔ یہ ایک امید بھرا پیغام ہے۔۔ جسے ہم سب نے سمجھنا ہے۔۔ سمجھ گئے تو رب کی طرف سے قرار بھی ملے گا۔۔ صبر جمیل بھی میسر آئیگا۔۔ اس کی ذات پر پختہ یقین کی دولت بھی میسر آئیگی۔۔ "توجہات ابدی 'بھی دامن گیر ہوں گی۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ ماں جی کو درجات کی بلندی ملے۔۔ شفقت و شفاعت مصطفی ﷺ ان کے حصے میں آئے۔۔ اہل بیت اطہار علیھم السلام کی غلامی ان کے مقدر میں آئے۔۔ سب وفات پانے والی ماؤں کو معافی ملے۔۔ جو حیات ہیں ان کو بچوں کی تربیت کے مواقع ملیں اور بچوں کو اپنے والدین کی خدمت کی توفیق ملے(آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)۔۔ یہ سعادت بھی ہے اور کامیابی کا راز بھی "کوئی سمجھے تو"۔۔

Check Also

Chiragh Talay Andhera Aur Aik Talkh Haqiqat

By Shair Khan