Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Abu Nasr
  3. Hafeez Ke Shair Mein Usi Burhiya Ka Zikr Hai

Hafeez Ke Shair Mein Usi Burhiya Ka Zikr Hai

حفیظؔ کے شعر میں اُسی بُڑھیا کا ذکر ہے

محفلِ اقبالؔ سجی ہوئی تھی۔ تقریب کے آغاز میں اُردو کے ایک گراں قدر و گزیٹڈ، استاد اُٹھے اور گرج گرج کر اقبالؔ کی نظم شکوہ، سنانے لگے۔ ابھی پہلا ہی مصرع پڑھا تھا کہ ہم نے سر پیٹ لیا۔ حالاں کہ موقع سرپیٹ دینے، کا تھا۔ مصرع انھوں نے اس طرح پڑھا:

کیوں زیاں کار بنوں "سُودے فراموش" رہوں

آج کل معنی جانے بغیر ہی پڑھنے اور بولنے کا رواج عام ہے۔ لسانی لطیفے اسی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ بہت عام ہوتی جارہی ہے یہ وبا کہ جہاں دو الفاظ جُڑے دیکھے جھٹ اُن میں سے پہلے کو زیر کردیا۔ دو ہی پر کیا منحصر؟ تین الفاظ ساتھ ہوں تو تینوں میں سے شروع کے دو الفاظ سوچے سمجھے بغیر ہی زیر کردیے جاتے ہیں۔ سرے تسلمیے خم، پر ہم پہلے ہی مفصل کالم لکھ چکے ہیں۔ چند برس پہلے کی بات ہے، ایک واعظِ شعلہ بیاں خود تو منبر پر جلوہ افروز تھے، مگر مقتدیوں کو جہادے فی سبیل اللہ، پر بھیجا چاہتے تھے۔ خانقاہ سے باہر نکل کر خود انھیں رسمِ شبّیری ادا کرتے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔

دوسری مسجد کے ایک مقتدی نے بھی یہی غلطی کی۔ ہمیں مطلع فرمایا کہ مولوی صاحب مسلکی اور فرقہ وارانہ جذبات اُبھار اُبھار کرفرزندانِ امت کو فسادے فی سبیل اللہ، پر اُکسا رہے تھے۔ حضرت صاحب خود تو مسجد سے نکل کر حجرے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ بازار میں پہنچیں تو پتا چلے کہ معاشرے میں کوئی سنّی سُپر اِسٹور ہے نہ کوئی شیعہ پرچون فروش۔ شہر میں بریلوی بازار ہے نہ دیوبندی مارکیٹ۔ کوئی وہابی کارخانہ ہے نہ اہلِ حدیث اسپتال۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب نولکّھا بازار کے برابر والی گلی میں ہم نے کبھی "بدعت توڑ آئرن ورکس" ضرور دیکھا تھا۔ پَرکارخانہ بند ہوگیا، بدعتیں بند نہ ہوئیں۔ کہیں لوہے کے لٹھ سے بدعتیں بند ہوا کرتی ہیں؟

البتہ ہم اپنی بقراطی بند کرکے پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کو ایک آسان سی پہچان بتائے دیتے ہیں۔ دو الفاظ میں سے جب پہلے لفظ کے آخری حرف پر زیر لگایا جاتا ہے تو یہ زیر کا، کی، کے، کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم ان دونوں الفاظ کے درمیان کا، کی یا کے، لگائیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ جائے گی۔ مثلاً دردِدل، میں درد کے آخری د، کے نیچے جو زیر لگایا گیا ہے، وہ کا، کے معنی ادا کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔ اگرہم زیر ہٹاکر اُس کی جگہ کا، استعمال کرنا چاہیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ کر دل کا درد، کہیں گے۔

اسی طرح نگاہِ شوق، کو شوق کی نگاہ اور حالاتِ سفر، کو سفرکے حالات، کہا جائے گا۔ پس جب ہم جہاد فی سبیل اللہ، یا فساد فی سبیل اللہ، بولیں گے تو جہاد اور فساد کے دال کو زیر نہیں لگائیں گے۔ اسی طرح سُود فراموش، میں بھی سود کے دال تلے زیر نہیں لگے گا۔ سُود فراموش، (نفع یا فائدہ بھلا دینے والا) ویسی ہی ایک صفت ہے، جیسی احسان فراموش۔ اپنے کسی ایسے (قریبی) رشتے دارکو جوآپ کا احسان بھلا بیٹھا ہو، آپ احسانے فراموش، نہیں کہتے پھرتے۔ تو پھر سُودے فراموش، کیوں کہیں؟ زیر لگانے کی عادت ہی پڑ گئی ہو تو اور بات ہے۔ مذکورہ اُستاد نے، ممکن ہے کہ زیاں کار، (نقصان کے کام کرنے والا) کے نون غُنّہ پر بھی عادتاً زیر لگانے کی کوشش کی ہو، مگر شاید کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔

ایک اسم کی دوسرے اسم سے نسبت، لگاؤ، ملکیت یا تعلق بیان کیا جائے تو قواعد کی زبان میں اسے اِضافت، کہتے ہیں۔ جیسے دریا کا پانی یا شراب کا پیالہ۔ فارسی میں آبِ دریا اور جامِ شراب۔ اِضافت کا مطلب نسبت، تعلق، جوڑ، ملکیت اور میل ہے۔ اصطلاحاً دو الفاظ کے درمیان نسبت یا تعلق ظاہر کرنے کی علامت ہی اِضافت، ہے۔ اردو میں کا، کی، کے، وغیرہ استعمال ہوتا ہے اور فارسی میں زیر، ہمزہ یا ئے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر دونوں الفاظ میں سے پہلا لفظ ہائے مختفی پر ختم ہو یعنی اُس ہ، پر جس کی آواز پوری نہیں نکلتی تو زیر یا کسرہ لگانے کے بجائے ہمزہ لگایا جاتا ہے۔ مثلاً سایۂ دیوار، ناقۂ لیلیٰ اور خانۂ خدا وغیرہ۔ ہائے ہَوّز کی آواز پوری نکلے تو زیر ہی لگایا جائے گا، جیسے راہِ حق، نگہِ شوق یاآہِ سرد۔

پہلا لفظی، پر ختم ہو تو ہمزہ نہیں کسرہ آئے گا۔ لہٰذا ماہیِ بے آب کو ماہی ٔ بے آب اور آزادیِ وطن کو آزادی ٔ وطن لکھنا غلط ہے۔ اگرپہلا لفظ الف پر ختم ہو توئے، لگایا جائے گا، مثلاً فضائے بدر، نوائے وقت اوردانائے راز وغیرہ۔ بعض لوگ ہمزہ کے بغیر ے، لگانے کے قائل ہیں، جن میں باباے اُردو، مولوی عبدالحق بھی شامل ہیں۔ نسبت یا تعلق دو افراد یا دوچیزوں میں بھی ہوسکتا ہے اورتین چیزوں میں بھی۔ تین سے زائد کو اضافت سے جوڑنا معیوب گردانا جاتا ہے۔ مثلاً سرِ وادیِ طورِ سینا، میں چار الفاظ جوڑ دیے گئے ہیں۔ یہ عیب ہے۔ اضافت سے جوڑ کر بنائے جانے والے مرکب الفاظ مرکبِ اضافی، کہے جاتے ہیں۔

زیر یا ہمزہ کی مدد سے جن دو الفاظ میں نسبت قائم کی جاتی ہے، ضروری سمجھا جاتا ہے کہ دونوں الفاظ فارسی کے ہوں۔ ہندی اور فارسی کا مرکب جائز نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً گُلِ لالہ کی جگہ پھولِ لالہ، استعمال کرنا معیوب ہوگا۔ اسی طرح عربی اور فارسی کا مرکب بنانا بھی عموماً درست نہیں گردانا جاتا۔ جیسے راہِ مستقیم، یا صراطِ راست۔ ان کی جگہ صراطِ مستقیم اور راہِ راست بولنا ہی درست ہوگا۔ تاہم اردو میں بہت سی مستثنیات ہیں، جو رائج ہوچکی ہیں اور انھیں قبول کرلیا گیا ہے۔ مثلاً ہندی اور فارسی کا امتزاج لبِ سڑک، اورموسمِ برسات، وغیرہ۔ اسی طرح عربی اور فارسی کے مرکبات بھی رائج ہیں، مثلاً شبِ قدر، اورروزِ قیامت، وغیرہ جن کی عربی ترکیب لیلۃ القدر اور یوم القیامہ ہے۔

فقط ایک سُودے فراموش ہی نہیں اور بھی کئی مرکب الفاظ غلط طور پر اضافت لگاکر غلط بولے جارہے ہیں۔ مثلاً سرے ورق، (درست: سَرُ- ورق)، پسے نوشت (درست: پَس- نوشت)، پسے منظر(درست: پَس- منظر)، پیشے امام (درست: پیش- امام)، پیشے منظر (درست: پیش- منظر) اور گرامیے قدر (درست: گرامی-قدر) وغیرہ۔

اوپر جو مثالیں دی گئی ہیں ان کا شمار بھی اِضافت میں ہوتا ہے، مگر انھیں اِضافتِ مقلوب، کہتے ہیں (دیکھیے یہاں اضافت کے ت، پر بھی زیر یعنی اضافت ہے) مقلوب، کا مطلب ہے: بالعکس، برعکس، بدلا ہوا، اُلٹا کیا ہوا یا اوندھا کیا ہوا۔ در اصل ان مثالوں میں الفاظ کی ترتیب اُلٹ دی گئی ہے۔ پس منظر اصل میں منظرِ پس، تھا یعنی پیچھے کا منظر جسے انگریزی میں Backgroundکہتے ہیں۔ اسی طرح پس نوشت بھی نوشتۂ پس، تھا یعنی سب کچھ لکھنے کے پیچھے لکھی جانے والی بات۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں نے ایک لفظ پیرزن، پڑھا ہوگا (پِیر-زن) یہ لفظ بھی زنِ پیر، یعنی بوڑھی عورت تھا۔ حفیظ ؔ جالندھری کی ایک نظم کا ایک شعر ہے:

اگر کوہ کن کو جوئے شیر دینا
تو پھر پیر زن کو بھی تدبیر دینا

قصۂ شیریں فرہاد میں مذکور ہے کہ جب فرہاد پہاڑ کاٹ کر نہر کھودنے لگا تو اس کو کامیاب ہوتے دیکھ کر بادشاہ کو تشویش ہوئی۔ آخر ایک بڑھیا نے ترکیب بتائی کہ فرہاد کو جاکر اطلاع دی جائے کہ جس کے لیے تم اتنا کشٹ اٹھا رہے ہو وہ تو چل بسی۔ یہ سنتے ہی فرہاد نے بسولے سے اپنا سر پھوڑ کر خود بھی جان دے دی۔ حفیظؔ کے مندرجہ بالا شعر کے دوسرے مصرعے میں اُسی بڑھیا کا ذکر ہے۔ مگر فرہاد کی اس خودکُشی پر چچا غالبؔ نے بڑی لعن طعن کی۔ چچا کے خیال میں فرہاد کو تو خبر سن کر فوت ہوجانا چاہیے تھا۔ پَر وہ تو رسم و رواج، پابندیوں اور اسبابِ بیرونی کے نشے کا نشئی نکلا۔ مرنے کے لیے بسولا مار کر سر پھوڑنے کی رسم ادا کرنی پڑی۔ عشق سچا ہوتا تو سنتے ہی مرجاتا۔ چچا نے کہا:

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کَن اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

دوسرے مصرعے کے سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود، میں دو اضافتیں استعمال ہوئی ہیں۔ مراد ہے: رسوم و قیود کے نشے میں ٹُن۔

پروفیسر ڈاکٹر غازی علم الدین مرحوم کا ایک بیش قیمت مضمون "اضافتِ مقلوب اور ہماری نافہمی" اس موضوع پر نہایت جامع تحریر ہے۔ جن لوگوں کو مزید مطالعے سے دلچسپی ہو، وہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔

Check Also

Jang Aur Nasal Kashi Sasta Khel Nahi Raha

By Wusat Ullah Khan