Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Imran Ismail
  4. Servers Ka Maalik, Mustaqbil Ka Maalik

Servers Ka Maalik, Mustaqbil Ka Maalik

سرورز کا مالک، مستقبل کا مالک

آنے والی دہائی میں بھارت صرف کوڈ لکھنے والا ملک نہیں رہے گا بلکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے پورے کھیل کو اپنے اندر سمیٹنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں نئی دہلی میں ہونے والی ایک بڑی AI کانفرنس دراصل ایک ٹیکنالوجی ایونٹ کم اور طاقت کے مظاہرے کا منظر زیادہ تھی۔ عالمی ٹیک قیادت کی موجودگی نے واضح کر دیا کہ بھارت اب محض سروس فراہم کرنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ AI کے عالمی نظام کا مرکزی ستون بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں بھارت نے آئی ٹی سروسز کے میدان میں ایک مضبوط بنیاد قائم کی۔ آج بھارت کی آئی ٹی برآمدات سالانہ دو سو ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور پچاس لاکھ سے زیادہ افراد براہِ راست ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایک طویل عرصے تک بھارت کو دنیا کا "بیک آفس" کہا جاتا رہا، جہاں عالمی کمپنیوں کا سافٹ ویئر تیار ہوتا اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جاتیں۔ مگر اب بھارت اپنی حکمت عملی کو اگلے مرحلے میں لے جا رہا ہے، سروس سے سسٹم کی ملکیت کی طرف۔

بھارت کی نئی حکمت عملی کا اصل مرکز ڈیٹا سینٹرز ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کی اصل طاقت پیدا ہوتی ہے۔ بڑی بڑی کارپوریشنز نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے ہیں تاکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا سکیں۔ مثال کے طور پر Reliance Industries نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سو ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جبکہ Adani Group بھی پاور ڈرِوِن ڈیٹا سینٹرز کے وسیع منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

یہ صرف سرور رومز نہیں بلکہ "کمپیوٹ فیکٹریاں" ہیں جہاں ڈیٹا کو پروسیس کیا جاتا ہے، AI ماڈلز کو تربیت دی جاتی ہے اور مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب کوئی ڈیٹا سینٹر منصوبہ گیگا واٹ سطح تک پہنچتا ہے تو وہ صرف ٹیکنالوجی کی تنصیب نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل صنعتی انقلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے منصوبے ہزاروں براہِ راست ملازمتیں پیدا کرتے ہیں جبکہ درجنوں ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

ان ملازمتوں میں کلاؤڈ انجینئرز، سائبر سیکیورٹی ماہرین، نیٹ ورک آرکیٹیکٹس، AI محققین اور کولنگ سسٹم کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کے گرد مکمل صنعتی ایکوسسٹم تشکیل پاتا ہے، جس میں توانائی کی پیداوار، فائبر آپٹک نیٹ ورکس، سافٹ ویئر پلیٹ فارمز اور اسٹارٹ آپ انکیوبیشن سینٹرز شامل ہوتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو سرمایہ کاری کا بہاؤ ہے۔ عالمی اسٹارٹ آپ کمپنیاں ہمیشہ ایسے ممالک میں کام کرنا پسند کرتی ہیں جہاں کمپیوٹنگ پاور سستی اور آسانی سے دستیاب ہو۔ اگر بھارت اس شعبے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف AI کی ترقی کا مرکز بنے گا بلکہ اس سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا بڑا حصہ بھی اپنے اندر سمیٹ لے گا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق OpenAI اور بھارتی کمپنیوں کے درمیان بڑے ڈیٹا سینٹر تعاون پر بات چیت اس تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ آج کی AI دوڑ میں طاقت صرف الگورتھمز میں نہیں بلکہ کمپیوٹ اور سرمایہ میں پوشیدہ ہے۔ جدید AI ماڈلز کو چلانے کے لیے بے پناہ توانائی، جدید چپس اور بڑے پیمانے کے سرور نیٹ ورک درکار ہوتے ہیں۔ جس ملک کے پاس یہ انفراسٹرکچر ہوگا، وہی ڈیجیٹل دنیا کی سمت متعین کرے گا۔

اس تناظر میں پاکستان کی صورتحال مختلف مگر امید افزا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات تقریباً چار ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں اور سالانہ شرحِ نمو بیس فیصد کے قریب ہے۔ لاکھوں پاکستانی فری لانسرز عالمی مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں اور ہر سال سینکڑوں ملین ڈالر ملک میں بھیج رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔

مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک زیادہ تر سروس ایکسپورٹ پر انحصار کر رہا ہے۔ پاکستانی انجینئر اور ڈویلپرز عالمی کمپنیوں کے سرورز پر کام کرتے ہیں، اپنے ملک کے سرورز پر نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جو مستقبل میں پاکستان کی ترقی کی رفتار کو محدود کر سکتا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ AI اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے دو ہزار میگاواٹ بجلی مختص کی جائے گی۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے اور حقیقی انفراسٹرکچر میں تبدیل ہو جاتا ہے تو پاکستان خطے میں ایک اہم ڈیجیٹل طاقت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اعلان صرف کاغذی پالیسی بن کر رہ گیا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹیکنالوجی کا فرق مزید بڑھ جائے گا۔

تاریخ ہمیں واضح سبق دیتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد Japan نے صنعتی ترقی کو اپنی ترجیح بنایا اور چند دہائیوں میں عالمی برانڈز کی قیادت کرنے لگا۔ اسی طرح South Korea نے ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی اور آج وہ عالمی الیکٹرانکس اور ڈیجیٹل صنعت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان دونوں ممالک کی کامیابی کی بنیاد ایک ہی تھی، انہوں نے صرف محنت فراہم نہیں کی بلکہ نظام کی ملکیت حاصل کی۔

آج مصنوعی ذہانت کی دوڑ بھی اسی اصول پر چل رہی ہے۔ جو ممالک صرف سافٹ ویئر بنائیں گے وہ محدود فائدہ حاصل کریں گے، جبکہ جو ممالک ڈیٹا سینٹرز، توانائی، چپس اور کمپیوٹ انفراسٹرکچر کے مالک ہوں گے وہ عالمی معیشت کی سمت طے کریں گے۔

اس نئی دنیا میں ایک نیا تصور بھی جنم لے رہا ہے جسے ماہرین "ڈیجیٹل نوآبادیات" کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں وہ ممالک جو ڈیٹا اور کمپیوٹ کے مالک ہوں گے، وہی دوسرے ممالک کی معیشت، معلومات اور ٹیکنالوجی پر اثرانداز ہوں گے۔ یوں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے، اب زمین اور تیل کے ذخائر سے زیادہ اہمیت ڈیٹا اور سرورز کو حاصل ہو رہی ہے۔

بھارت اس حقیقت کو سمجھ چکا ہے اور وہ پوری طاقت کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف ٹیکنالوجی میں حصہ لینا نہیں بلکہ اس کے قواعد خود بنانا ہے۔

آج کے دور میں اصل طاقت نہ صرف ذہین دماغوں میں ہوگی بلکہ ان مشینوں میں ہوگی جو ان ذہانتوں کو چلائیں گی۔ مستقبل اسی کا ہوگا جو سرورز کا مالک ہوگا، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں سرور کا مالک ہونا دراصل مستقبل کا مالک ہونا ہے۔

Check Also

Urdu Fiction Aur Firqa Wariat

By Muhammad Aamir Hussaini