Urdu Fiction Aur Firqa Wariat
اردوفکشن اور فرقہ واریت

تقسیم کے بعد تخلیق ہونے والے اردو فکشن کو جب بھی میں نے توجہ اور یکسوئی سے پڑھا، تو ایک خلا نے بار بار چونکایا، ایک ایسا خلا جو محض موضوعی نہیں، تاریخی اور اخلاقی بھی ہے۔ ہماری اجتماعی تاریخ کے کئی اہم اور فیصلہ کن واقعات فکشن کے منظرنامے سے گویا محو کر دیے گئے۔ وہ موجود تھے، مگر غیر موجود، ان کا اثر تھا، مگر ان کا ذکر "غائب"۔
تقسیم اور فسادات پر لکھے گئے افسانوں میں ہندو، مسلم، سکھ تناظر میں فرقہ واریت کو جس ہمہ جہتی اور انسانی پیچیدگی کے ساتھ دیکھا گیا، وہ اپنے عہد کی ایک بڑی ادبی دستاویز ہے۔ مگر پاکستان کے قیام کے بعد جب فرقہ واریت کی نوعیت بدل گئی جب اس کا رخ اندرونی مذہبی شناختوں کی طرف مڑ گیا تو اس نئے منظرنامے کی بازگشت ہمیں اردو فکشن میں شاذ ہی سنائی دیتی ہے۔
یہاں ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا مغربی پنجاب کے اردو افسانہ نگاروں میں کوئی ایسا ہے جس نے اپنے عہد کے پنجاب کو اس طرح برتا ہو جیسے بلونت سنگھ نے؟"پہلا پتھر"، "میں رو دونگی"، لمحے، کالے کوس، ویبلے اٹ، یہ محض افسانے نہیں، انسانی ذہن کی تہوں میں اترنے والی تحریریں ہیں۔
بلونت سنگھ کے افسانے "لمحے" میں فرقہ وارانہ فضا محض پس منظر نہیں، ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی نفسیاتی طاقت ہے جو انسان کے اندر اتر کر اس کی سوچ، اس کے لمس، اس کی نگاہ، یہاں تک کہ اس کی معصومیت کو بدل دیتی ہے۔ فساد اور تشدد سے بھرا ہوا زمانہ صرف گلیوں اور بازاروں کو خون آلود نہیں کرتا، وہ ذہنوں میں بارودی سرنگیں بچھا دیتا ہے۔ انسان پہلے نام پوچھتا ہے، پھر مذہب، پہلے مسکراتا ہے، پھر چونک جاتا ہے، پہلے قریب آتا ہے، پھر ہاتھ روک لیتا ہے۔
"لمحے" میں یہی تبدیلی ایک بے ضرر، تقریباً معمولی سے مکالمے میں ظاہر ہوتی ہے، مگر وہ معمولی نہیں رہتا۔ ایک نام، ایک شناخت، ایک لفظ اور اچانک ذہن کے اندر کوئی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہی انسان جو ابھی تک ایک اور انسان کو محض انسان سمجھ رہا تھا، اب اس کے لیے "دوسرا" بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی منطق سے نہیں، ایک اجتماعی خوف، ایک اجتماعی تعصب، ایک اجتماعی ہیجان سے پیدا ہوتی ہے۔
فرقہ وارانہ ماحول انسان کے اندر ایک مستقل چوکسی پیدا کر دیتا ہے جیسے ہر شخص کے ماتھے پر اس کی مذہبی شناخت لکھی ہو اور اسے پڑھ لینا بقا کی شرط ہو۔ فساد کا زمانہ انسان کو اخلاقی نہیں، قبائلی بنا دیتا ہے۔ وہ پہلے اپنے گروہ کو دیکھتا ہے، پھر حق کو۔ وہ پہلے نام کا وزن تولتا ہے، پھر انسانیت کا۔
پاکستان بننے کے بعد یہی ذہنی ساخت سب سے پہلے احمدیوں کے بارے میں اجتماعی سطح پر ابھری۔ ایک پوری برادری کو رفتہ رفتہ "دوسرا" بنایا گیا۔ ان کے نام، ان کے سلام، ان کی عبادت گاہیں، ان کی شناخت سب کو مشکوک قرار دیا گیا۔ جو ہمسایہ تھا، وہ "مسئلہ" بن گیا۔ جو ساتھی تھا، وہ "خطرہ" ٹھہرا۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، یہ اسی طرح آئی جیسے "لمحے" میں ہاتھ آہستہ سے رک جاتا ہے بغیر کسی شور کے، مگر اندر سے سب کچھ بدلتے ہوئے۔
پھر 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں یہی ذہنی سانچہ شیعہ برادری کے بارے میں بروئے کار آیا۔ ایران سے نسبت، ایجنٹ ہونے کے الزامات، عقیدے کو مشکوک قرار دینا، شناخت کو جرم بنا دینا یہ سب اسی نفسیاتی عمل کے مظاہر تھے۔ ایک پورا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں نام سن کر چونک جانا، مسلک پوچھ کر فاصلے بڑھا لینا اور بالآخر شناخت کو سزا میں بدل دینا معمول بن گیا۔
فساد صرف لاشیں نہیں گراتا، وہ اعتماد کو مارتا ہے۔ وہ رشتوں کے بیچ دراڑیں ڈالتا ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ "تم کون ہو؟" بلکہ یہ ہو جاتا ہے کہ "تم ہمارے ہو یا نہیں؟"
بلونت سنگھ نے اس نفسیاتی تبدیلی کی ایک جھلک دکھائی تھی ایک لمحہ، جو بظاہر چھوٹا ہے مگر دراصل ایک پورے عہد کی ذہنی ساخت کو عیاں کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم کے بعد جب یہی ذہنی عمل ہمارے اپنے معاشرے کے اندر، ہماری اپنی گلیوں اور محلّوں میں، ہماری اپنی مسجدوں اور امام بارگاہوں کے بیچ جاری تھا، تو ہمارے فکشن نے اس پر کتنی نظر ڈالی؟
فرقہ واریت کا سب سے ہولناک پہلو یہی ہے کہ وہ پہلے ذہن میں جنم لیتی ہے، پھر لفظوں میں، پھر نعروں میں اور آخرکار گولی میں ڈھل جاتی ہے۔ "لمحے" ہمیں اس ابتدائی ذہنی ارتعاش کو دکھاتا ہے وہ لمحہ جب ہاتھ رک جاتا ہے۔ مگر ہماری تاریخ گواہ ہے کہ بعد کے عشروں میں وہ رکا ہوا ہاتھ کئی بار ٹریگر پر بھی جا ٹھہرا۔
بلونت سنگھ کا افسانے کی یہ درج ذیل سطریں اس کیفیت اور ذہنیت کی کمال کی عکاس ہیں:
["اچھا تو بتاؤ تمہارا نام کیا ہے؟"
"میرا لام؟"
"ہاں"۔
"سول تاناں"۔
"سلطانہ"۔ عورت نے کہا۔ مجھے پہلی مرتبہ اس بات کا علم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطانہ کی بغلوں کو گدگداتے ہوئے میرے ہاتھ رک گئے۔ میں نے قدرے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا، "کیا آپ مسلمان ہیں؟"
"جی"۔ یہ کہہ کر عورت نے میری طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔
"نہیں کچھ نہیں"۔ میں ہنس دیا، "مجھے ہوا کیونکہ بظاہر۔۔ " پھر قدرے بھدی سی خاموشی طاری ہوگئی۔ بات کچھ بھی نہیں تھی۔۔ ]
ہمارے ہاں شیعہ کو ایران سے نتھی کرنا، انہیں "ایرانی ایجنٹ" قرار دینا، ان کے عقیدے کو مجوسیت سے جوڑ کر مشکوک بنانا یہ سب محض سیاسی نعرے یا وقتی الزام نہیں تھے، یہ ایک منظم ذہنی رویّہ تھا جو رفتہ رفتہ سماجی سچائی میں بدل دیا گیا۔ شناخت کو دلیل کی جگہ بٹھا دیا گیا اور نسبت کو وفاداری کے پیمانے میں تبدیل کر دیا گیا۔
1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں یہ رویّہ ایک وبا کی صورت اختیار کر گیا۔ مسجدوں کے منبروں سے لے کر گلی کوچوں کی گفتگو تک، اخباری کالموں سے لے کر نجی محفلوں تک شیعہ کی شناخت کو ایک "باہر" سے جوڑا جانے لگا۔ جیسے وہ اس سرزمین کے بیٹے نہ ہوں، جیسے ان کی قبریں اس مٹی میں نہ ہوں، جیسے ان کے بزرگوں کا لہو اس تاریخ میں شامل نہ ہو۔ یہاں تک کہ انہیں پاکستان چھوڑ کر ایران چلے جانے کے مشورے اور بعض اوقات مطالبے بھی سنائی دینے لگے۔ گویا وطن کوئی مشترک گھر نہیں بلکہ مسلکی ملکیت ہو۔
یہ وہ لمحہ تھا جب نام سن کر فاصلے بڑھائے جانے لگے، جب تعارف کے بعد خاموشی اترنے لگی، جب دوستی کے بیچ ایک غیر مرئی لکیر کھنچنے لگی۔ مگر اس ذہنی اور نفسیاتی تبدیلی کو اس خاموش زہر کو کسی نے اس شدت اور سچائی کے ساتھ فکشن میں نہیں برتا جس طرح بلونت سنگھ نے "لمحے" میں ایک معمولی سی دریافت کے ذریعے پورے عہد کی نفسیات کو عیاں کر دیا تھا۔
"لمحے" میں ایک نام سن کر ہاتھ رک جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دہائیوں تک نام سن کر دل رکنے لگے، دروازے بند ہونے لگے اور بعض اوقات گولیاں چلنے لگیں مگر اس سب کے بیچ وہ تخلیقی جرأت کم ہی نظر آئی جو اس داخلی ٹوٹ پھوٹ، اس اجتماعی وہم، اس اخلاقی زوال کو افسانے کے آئینے میں دکھا سکتی۔
تاریخ میں بہت کچھ ہوا، نعروں میں بہت کچھ کہا گیا، مگر ادب جو سماج کا باطن ہوتا ہے زیادہ تر خاموش رہا اور یہ خاموشی خود ایک سوال ہے، شاید سب سے کڑا سوال۔
کالے کوس
[تین عورتیں۔۔ ایک بوڑھی، ایک جوان اور ایک نوخیز، بالترتیب اس کی ماں، بیوی اور بہن تھیں۔ بوڑھی پانچوں نمازیں پڑھ پڑھ کر سارے ہندوؤں خصوصاً سکھوں کے نیست و نابود ہو جانے کی دعائیں مانگا کرتی تھی سوائے پھلور سنگھ کے۔۔ پھلور سنگھ عرف پھلورا اس کے بیٹے کا دوست تھا۔
سب لوگ پھلورے کےساتھ ساتھ تیز تیز قدم اٹھا کر چلنے لگے۔ بمشکل ایک فرلانگ دور پہنچ کر پھلورا رک گیا۔ پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے بولا، "لو اب یہاں سے پاکستان کے کھیت شروع ہو جاتے ہیں۔ تم سیدھے چلے جاؤ۔ کہیں پولیس یا فوج کی چوکی تک پہنچ جاؤگے یا کسی گاؤں میں جا پہنچو گے۔۔ اب تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔۔ "
الوداع کہنے کے لیے گاماں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا اپنے دوست کی جانب بڑھا۔۔ اس کے پاؤں من من کے ہو رہے تھے۔۔ وہ جانتا تھا کہ پھلورا دو کھیت پرے کیوں رک گیا ہے۔ جب دونوں قریب قریب کھڑے ہوئے تو قد و قامت اور ڈیل ڈول میں دونوں برابر تھے۔ پھلورے کے پرخشونت چہرے پر بھدی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔۔ جیسے وہ کہہ رہا ہو، "گامے! تم سرزمین پاکستان سے مجھے ملنے کے لیے واپس آئے ہو"۔
گاماں نے اپنے بلند قد کو اور بھی بلند کیا اور ایک مرتبہ پھر اپنے سامنے کھڑے ہوئے کڑیل کسان سے آنکھیں ملائیں۔ اس کی گھنی مونچھیں متحرک ہوئیں۔ اس نے پھلورے کا چوڑا چکلا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پھر۔۔ جیسے اثبات میں سر ہلاتے اس نے بھرپور مردانہ آواز میں جواب دیا۔
"آہو پھلوریا!"]
بعد میں بلونت سنگھ نے اس افسانے کے مرکزی خیال کو پھیلاکر "کالے کوس" کے عنوان سے "ناول" لکھا۔
فرقہ واریت کے موضوع پر اس حسیت کے ساتھ افسانے، کہانیاں، ناول مابعد تقسیم یہاں پیدا ہونے والی صورت حال پر نظر نہیں آتے۔ جبکہ ہندوستان میں چاہے وہ اردو کہانی تھی یا ہندی کہانی تھی اس میں ہمیں اس موضوع پر تواتر سے لکھا جانا ملتا ہے۔ معصوم رضا راہی کا ناول "آدھا گاؤں" شیعہ – سنّی " کے درمیان پیدا ہونے والی نفرت کو بیان کرتا نظر آتا ہے یہ اودھ کے ایک گاؤں کی کہانی ہے۔
دوسرا اس پورے فکشن میں ہمیں ڈھونڈے سے بھی 1949ء میں مشرقی بنگال میں فوجی آپریشن کے زریعے دلت آبادی کی اکثریت کے علاقوں میں دلت کی زبردستی بے دخلی، ان کا قتل عام، عورتوں سے ریپ جیسے واقعات سے متاثر ہونے کا سراغ تک نہیں ملتا۔
اسی زمانے میں پنجاب میں احمدیوں کے خلاف معاشرتی، سماجی سطح پر مذھبی منافرت بڑھنے اور انھیں کمتر بنائے جانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور یہ سلسلہ 1950ء میں اینٹی قادیانی اجتماعی تشدد، بلوے، جلاو گھیراؤ کی شکل میں نکلتا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں بدترین ہنگامہ آرائی، تشدد، قتل و غارت گری رونما ہوئی۔ پورا سماج احمدی کمیونٹی سے نفرت سے بھرا ہوا تھا۔ یہ معاملہ سماجی اعتبار سے یہودی، سیاہ فام، فلسطینی جیسی برادریوں سے کہیں کم نہیں تھا۔ نفرت انگیزی کی یہ مہم بہت شدید تھی لیکن اس دور کے فکشن نگاروں کے ہاں یہ کسی ایک کہانی کا موضوع نہیں بن سکا۔
ہمارے ہاں جو ادبی تنقید تھی وہاں بھی کسی نے اس کی فکشن میں غیر موجودگی کا نشان دہی تک نہ کی۔
اردو فکشن میں یہی معاملہ ہم بلوچستان کے بارے میں دیکھتے ہیں۔ ہماری ریاست نے مارچ 1948ء میں قلات میں ایک فوجی کاروائی کی اور اس کاروائی کے دوران قلات شہر کا جس طرح سے محاصرہ ہوا، مقامی آبادی کو جس طرح سے محصور بنایا گیا اور قبضے کے کی کاروائی کے دوران اور پھر اگلے آنے والے ماہ و سال میں وہاں کے باشندوں سے جو سلوک کیا گیا وہ ایک تو ہماری اجتماعی یاد داشت کا حصہ نہیں بنا دوسرا ہمارے فکشن لکھنے والوں کے ہاں اس صورت حال سے متاثر ہوکر اس پر افسانہ، کہانی لکھنے کا کوئی رجحان نظر نہیں آتا۔ بعد میں بھی کسی اردو کہانی نگار نے اس حوالے کوئی کہانی لکھنے کی کوشش نہیں کی۔
کراچی میں پارسی کمیونٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کس طرح آہستہ آہستہ نہیں بلکہ تقریباً یک دم اس شہر کی سماجی اور تہذیبی ساخت سے بے دخل کر دیے گئے یہ خود ایک المناک داستان ہے۔ وہ جو کبھی اس شہر کی تجارت، تعلیم، طب، شہری آداب اور ثقافتی وقار کی علامت تھے، دیکھتے ہی دیکھتے حاشیے پر چلے گئے۔ ان کے بنائے ہوئے اسکول، اسپتال، رفاہی ادارے باقی رہے، مگر خود وہ لوگ غائب ہوتے گئے۔ یہ اجتماعی بے دخلی، یہ خاموش رخصتیاردو فکشن کے لیے ایک زرخیز مگر دردناک موضوع ہو سکتی تھی، مگر وہ بھی غیر مرئی رہا۔
بلوچستان میں ذکری فرقے کی تعذیب، تھر میں دلت برادری کو منظم طور پر کمتر بنائے جانے کا عمل، ستر کی دہائی کے اواخر میں سندھی-مہاجر نسلی فسادات، 1955ء سے لے کر آج 2026ء تک بلوچ قبائل کے خلاف بار بار ہونے والے فوجی آپریشن، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، ہزارہ شیعہ آبادی کی ٹارگٹ نسل کشی، ڈیرہ اسماعیل خان، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی میں پشتون شیعہ قتل عام یہ سب محض خبری واقعات نہیں تھے، یہ انسانی المیے تھے۔ نوے کی دہائی سے لے کر 2001ء تا 2020ء کراچی، پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ، امام بارگاہوں پر حملے، ڈاکٹرز، وکلا، اساتذہ کا چن چن کر قتل یہ سب ہمارے عہد کی سیاہ سرخیاں ہیں۔
مسیحی، ہندو، احمدی برادریوں کو مین اسٹریم زندگی سے کاٹ کر رکھنا محض ایک سماجی رویّہ نہیں، ایک تدریجی اخراج کا عمل ہے ایسا اخراج جس میں پہلے دروازے آہستہ سے بند ہوتے ہیں، پھر راستے تنگ کیے جاتے ہیں اور آخرکار وجود ہی مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر امتیازی قوانین، سماجی سطح پر نفرت انگیز خطابات، روزمرہ کی گفتگو میں تحقیر آمیز استعارے یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جس میں اقلیت ہونا جرم کی سرحد سے متصل ہو جاتا ہے۔
ان کی عبادت گاہوں پر حملے صرف عمارتوں پر حملے نہیں ہوتے، وہ یادداشت، شناخت اور روحانی وابستگی پر حملے ہوتے ہیں۔ جب کسی چرچ، مندر یا عبادت گاہ کو آگ لگتی ہے تو شعلے صرف اینٹوں کو نہیں جلاتے، وہ اس یقین کو بھی جھلسا دیتے ہیں کہ یہ ملک سب کا ہے۔ توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت ہجومی تشدد جہاں الزام دلیل سے پہلے اور فیصلہ انصاف سے پہلے آ جاتا ہے وہ اس اجتماعی بے چینی کی علامت ہے جس میں ہجوم عدالت بن بیٹھتا ہے اور چیخ گواہی۔
یہ سب کسی ایک شہر، کسی ایک عہد، یا کسی ایک طبقے کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی ساخت میں پڑی ہوئی اُن دراڑوں کا نوحہ ہے جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئیں۔ یہ اس آئینے کی شکستگی ہے جس میں ہمیں اپنی مشترکہ شناخت نظر آنی چاہیے تھی۔
یہ سوال صرف یہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم سب کے ساتھ کیا ہوتا رہا، جب ہم دیکھتے رہے، سنتے رہے اور خاموش رہے۔ کیونکہ معاشرے کی دراڑیں کبھی ایک طرف نہیں پڑتیں، وہ آخرکار پورے گھر کو کمزور کر دیتی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ اردو فکشن نے ان دراڑوں کو کتنی بار دیکھا؟ کتنی بار ان پر قلم اٹھایا؟ کتنی بار کسی افسانے یا ناول نے ان چہروں کو مرکز میں لا کر کھڑا کیا جو تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیے گئے؟
حیرت اس بات پر نہیں کہ فکشن نے خاموشی اختیار کی ادب کبھی کبھی خوف، مصلحت یا جمالیاتی ترجیحات کے دباؤ میں موضوعات کو ٹال بھی دیتا ہے۔ اصل حیرت، بلکہ المیہ، یہ ہے کہ اردو تنقید بھی اس خاموشی پر خاموش رہی۔ اس تہی دامنی کو، اس موضوعی خلا کو، اس اجتماعی انکار کو کسی بڑے تنقیدی سوال کی صورت میں سامنے نہیں لایا گیا۔ کسی نے یہ نہ پوچھا کہ ہمارے افسانوں اور ناولوں کے بیچ وہ لوگ کیوں غائب ہیں جو ہماری سڑکوں، عدالتوں، قبرستانوں اور خبروں میں موجود تھے۔
پچاس کی دہائی سے لے کر آج تک اردو تنقید کے بڑے ناموں کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب سا سکوت دکھائی دیتا ہے۔ ساخت، ہیئت، اسلوب، بیانیہ، مابعد جدیدیت، علامت اور تجرید ان سب پر مفصل بحثیں ملتی ہیں، مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا گیا کہ فکشن اپنے عہد کی سفاک حقیقتوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے؟ وہ کس کے دکھ کو مرکز میں لا رہا ہے اور کس کے دکھ کو حاشیے پر چھوڑ رہا ہے؟
گویا یہ مان لیا گیا کہ فکشن کا بنیادی کام محض جمالیاتی تجربہ تخلیق کرنا ہے، نہ کہ اپنے زمانے کی اخلاقی گواہی دینا۔ حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں، ضمیر کی شہادت بھی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں مظلوم، محکوم اور بے آواز طبقات مسلسل تاریخ کے حاشیے پر دھکیلے جا رہے ہوں تو فکشن کا اخلاقی دائرہ خود بخود وسیع ہو جاتا ہے۔ وہ صرف کردار نہیں تراشتا، وہ ضمیر بھی تراشتا ہے۔
مگر ہمارے ہاں تنقید نے اس اخلاقی دائرے کو شاید کبھی مرکزی مسئلہ نہیں سمجھا۔ اس نے یہ نہیں پوچھا کہ کون سی چیخیں متن سے باہر رہ گئیں، کون سے لہو کے دھبے صفحے تک نہ پہنچ سکے اور کون سے نام تھے جنہیں ادب نے اپنی لغت میں شامل کرنے سے گریز کیا۔
یوں فکشن کی خاموشی دوہری ہوگئی ایک تخلیقی، دوسری تنقیدی اور جب تخلیق اور تنقید دونوں کسی سوال سے نظریں چرا لیں تو وہ سوال تاریخ کے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ خاموشی خود ایک مقدمہ بن جاتی ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ادبی روایت میں بہت سی جمالیاتی بحثیں ہیں، اسلوبیاتی موشگافیاں ہیں، بیانیے اور ساختیات کے مباحث ہیں مگر ان سب کے بیچ وہ انسانی چیخ کہیں دب کر رہ گئی جو ہمارے شہروں، قصبوں اور سرحدی علاقوں میں گونجتی رہی۔
یہ خاموشی محض ادبی نہیں، تہذیبی ہے اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اس خاموشی کو بھی موضوع بنایا جائے کیونکہ بعض اوقات جو کچھ لکھا نہیں جاتا، وہی سب سے زیادہ معنی خیز ہوتا ہے۔
لنچنگ یعنی ہجوم کے ہاتھوں انصاف کا قتل۔
بلوائی تشدد جہاں فرد کی عقل، ہجوم کے جنون میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
اور توہینِ مذہب کا ہتھیار جو الزام کی صورت میں اٹھتا ہے اور فیصلہ بن کر گرتا ہے۔
مسیحی، ہندو، سکھ، دلت، احمدی اور شیعہ سمیت مذہبی اقلیتیں جس عذاب سے دہائیوں سے گزرتی رہی ہیں، گھروں کا جلایا جانا، عبادت گاہوں پر حملے، الزام کی بنیاد پر ہجوم کا ٹوٹ پڑنا، عدالت سے پہلے سڑک کا فیصلہ صادر ہونا یہ سب ہمارے عہد کی سنگین ترین حقیقتیں ہیں۔ مگر اردو فکشن میں ان کی بازگشت خال خال سنائی دیتی ہے۔ جیسے یہ سب کسی اور زمین پر ہو رہا ہو، جیسے یہ سب ہماری اجتماعی کہانی کا حصہ نہ ہو۔
یہ محض واقعات نہیں تھے، یہ انسانی وقار کی پامالی تھی۔ ایک ایسے معاشرے کی تصویر تھی جہاں شناخت جرم میں بدل سکتی ہے اور افواہ سزائے موت میں۔ مگر ہمارے افسانوں اور ناولوں میں اس اذیت کا مکمل بیانیہ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادب نے ان موضوعات کے گرد ایک محتاط دائرہ کھینچ لیاکہیں اس دائرے سے باہر نکلنا خود خطرہ نہ بن جائے۔
اگر احمدی اور شیعہ برادریوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو کسی ناول نے بے باکی سے موضوع بنایا تو وہ عباس زیدی کا انگریزی میں لکھا گیا ناول "کفار مکّہ" ہے، ایک ایسا متن جو شناخت، خوف اور تعصب کی تہوں کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح سید کاشف رضا کے ناول "چار درویش اور ایک کچھوا" میں ایک احمدی کردار کی موجودگی اس خاموشی میں ایک اہم درز پیدا کرتی ہے ایک یاد دہانی کہ یہ لوگ محض اعداد و شمار نہیں، جیتے جاگتے انسان ہیں۔
اردو ناول میں صفدر نوید زیدی وہ نام ہیں جنہوں نے "بھاگ بھری" میں شیعہ ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کو اپنے فکشن کا حصہ بنایا۔ اسی طرح "گوادر کے سرخ کیکڑے" میں بلوچستان کے سیاسی و سماجی المیے کو ناول کا موضوع بنایا۔ یہ اعزاز اب تک زیادہ تر انہی کے حصے میں آیا ہے کہ انہوں نے ان حساس اور خطرناک سمجھے جانے والے موضوعات کو براہِ راست چھیڑا۔
لیکن اگر خاص طور پر "شیعہ ٹارگٹ کلنگ" کو ایک انسانی المیے کے طور پر دیکھا جائےیعنی اسے محض خبر یا عددی سانحہ نہیں بلکہ ٹوٹتے ہوئے گھروں، یتیم ہوتے بچوں، لرزتے ہوئے باپوں اور سوگوار ماؤں کی کہانی کے طور پر برتا جائے، تو اردو افسانے میں اس کا حوالہ صرف ایک جگہ نمایاں طور پر ملتا ہے: مسعود اشعر کا وہ افسانہ، جو ڈاکٹر علی حیدر اور ان کے گیارہ سالہ بیٹے کی ٹارگٹ کلنگ کے پس منظر میں لکھا گیا۔
یہ صورتِ حال خود ایک سوال ہے۔
کیا ہمارے عہد کے سب سے دردناک واقعات صرف خبروں کے لیے تھے؟
کیا ان میں اتنی ادبی حرارت نہ تھی کہ وہ کہانی بن سکتے؟
یا پھر ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا کہ کچھ زخم ایسے ہیں جنہیں لفظوں میں نہیں لایا جائے گا کیونکہ لفظ بھی کبھی کبھی گواہی بن جاتے ہیں اور گواہی دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

