Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Samaji Insaf Ka Din

Samaji Insaf Ka Din

سماجی انصاف کا عالمی دن

معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک منظم، تاریخی اور مشترکہ زندگی کا نام ہے جو صدیوں کی رفاقت سے پروان چڑھتا ہے۔ اس کی بنیاد، بقا اور ترقی کا سب سے مضبوط ستون عدل و انصاف ہے۔ لغوی اعتبار سے "عدل" کا مطلب ہے توازن قائم کرنا، برابر کرنا اور ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنا۔ انصاف وہ عملی عمل ہے جس میں کسی فرد، طبقے یا گروہ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہواور ہر شخص کو اس کا حق بلا امتیاز اور بلا خوف ملے۔ انصاف کی ضد ظلم ہے، جو خواہ فرد کی سطح پر ہو یا ریاست کی، اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ انصاف کی مختلف جہتیں ہیں، سماجی، قانونی، سیاسی، معاشی اور مذہبی۔ لیکن ان سب کی بنیاد سماجی انصاف پر ٹکی ہوتی ہے۔ اگر معاشرے کی بنیادی سطح پر انصاف کمزور پڑ جائے تو باقی تمام نظام کھوکھلے اور بے جان ہو جاتے ہیں۔

سماجی انصاف سے مراد یہ ہے کہ معاشرے کے تمام افراد، رنگ، نسل، مذہب، مسلک، زبان، جنس، طبقہ یا سماجی حیثیت سے بالاتر ہو کر، یکساں حقوق کے مستحق ہوں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسی اصول کو اُجاگر کرنے کے لیے 26 نومبر 2007ء میں اعلان کیا کہ ہر سال 20 فروری کو عالمی سماجی انصاف کا دن خصوصی طور پر منایا جائے۔ اس دن کا بنیادی مقصد غربت کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، تعلیم اور صحت کی مساوی رسائی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی تک ہر شخص کی برابری کی رسائی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ یہ نعرہ کتنا خوبصورت ہے کہ "قانون کی نظر میں سب برابر ہیں" مگر عملی دنیا میں یہ دعویٰ اکثر کمزور اور کھوکھلا نظر آتا ہے۔ اگر واقعی سب برابر ہوتے تو کمزور طبقات کو انصاف کے حصول کے لیے دربدر بھٹکنا نہ پڑتا۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بیشتر معاشروں میں طاقتور کے لیے ایک انصاف ہے اور کمزور کے لیے دوسرا، بلکہ اکثر کمزور کے لیے انصاف سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ مکمل انصاف کا دور بہت کم ملا ہے۔ ہاں، ناانصافی کے خلاف جدوجہد ہر دور میں جاری رہی۔ اسلامی تاریخ میں ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کا دور واحد ایسی مثال ہے جہاں عدل و انصاف محض نظریہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت تھا۔ اس کے بعد جدید دور میں بعض مغربی ممالک میں محدود پیمانے پر انصاف کی جھلکیاں نظر آئیں، مگر وہ بھی مکمل اور بے عیب نہیں۔ آج کی دنیا ایک عجیب امتزاج ہے، غلامانہ ذہنیت، جاگیردارانہ نظام، سرمایہ داری، سوشلزم، مارکسزم اور جنگل کے قانون کا۔ اس ملاپ میں "انصاف سب کے لیے" ایک خواب ہی معلوم ہوتا ہے۔ طاقت کا بول بالا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ عالمی دن اکثر کمزور طبقات کو وقتی تسلی دینے کا ذریعہ بن جاتے ہیں، کیونکہ زمینی حقائق بدلتے نہیں۔ پاکستان میں عدل و انصاف کا بحران سب سے سنگین مسائل میں سے ایک ہے۔

زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں انصاف کی کمی نظر آتی ہے۔ کمزور عدالتی نظام نے ہی فرقہ واریت، دہشت گردی، کرپشن، غربت، بے روزگاری اور توانائی کے بحران کو جنم دیا۔ اگر احتساب کا نظام درست اور انصاف کی فراہمی یقینی ہو تو ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ سول عدالتوں میں مقدمات برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں، جبکہ بعض معاملات میں فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تھانوں کا کلچر سب جانتے ہیں، غریب بغیر سفارش کے داخل بھی نہیں ہو سکتا۔ ایس ایچ او بادشاہ بن بیٹھا ہے اور مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سماجی انصاف کی عدم موجودگی نے پاکستانی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ عدالتیں اور دیگر ادارے اکثر انصاف کو ایک "جنس" بنا چکے ہیں جو صرف خریدنے والوں کو میسر ہے۔ کرپشن، سفارش، رشوت، میرٹ کی پامالی اور آخرت کے خوف کا فقدان۔ یہ سب انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قانون شکن کو عزت دی جاتی ہے۔ جتنا بڑا مجرم، اتنا ہی "طاقتور" اور "معزز" سمجھا جاتا ہے۔ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے حصول میں بھی ناانصافی کا راج ہے، حالانکہ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو برابر مواقع فراہم کرے۔ اسلام سماجی انصاف کا سب سے مکمل اور متوازن تصور پیش کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہی ماں باپ (حضرت آدم و حوا) سے پیدا کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانیت کے لیے وہ آفاقی منشور دیا جس کی مثال کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کوئی عربی عجمی پر، کوئی گورا کالے پر، کوئی کالا گورے پر فضیلت نہیں رکھتا سوائے تقویٰ کے۔ "قرآن کریم بار بار عدل کا حکم دیتا ہے، چاہے فیصلہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ پچھلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ کمزور کو سزا دیتی تھیں اور طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔ یہ انصاف کی انتہا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ریاست دو ستونوں پر قائم ہوتی ہے، عہدوں کا میرٹ پر دینا اور فیصلوں کا انصاف پر کرنا۔ ان کے بغیر نہ دین قائم رہ سکتا ہے اور نہ دنیا۔ بدقسمتی سے آج یہ اصول کتابوں، تقریروں اور نعروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ عملی زندگی میں ان کا اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے وہ سنہری دور تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ آج سماجی انصاف ایک خواب لگتا ہے۔

مگر کیا یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے؟ جی ہاں، اگر ہم محض دن منانے اور نعرے لگانے سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف آئیں۔ انصاف نعروں سے نہیں، کردار، احتساب اور عملی اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔ ہر فرد، ادارہ اور ریاست کو اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ اگر ہم تقویٰ کو فضیلت کا معیار بنائیں، میرٹ کو برقرار رکھیں اور کمزور کے ساتھ طاقتور جیسا سلوک کریں تو یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ انصاف سب کے لیے ممکن ہے۔ بشرطیکہ ہم اسے خواب نہ سمجھ کر حقیقت بنانے کی جدوجہد کریں۔ یہ جدوجہد آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔

Check Also

Poore Hostal Ko Jurmana

By Ashfaq Inayat Kahlon