December Ki Sard Raaton Mein Di Gai Warning
دسمبر کی سرد راتوں میں دی گئی وارننگ

انسانی فطرت ہے کہ جب انسان کے پاس طاقت ہوتی ہے تو وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ وہ اِس کا صحیح استعمال کر رہا ہے یا غلط۔ جبکہ اس ہمت اور جرات کا مظاہرہ ہمیشہ تاریخ نے ہی کیا ہے کہ وہ ان طاقتوروں کو بھلے دیر سے ہی صحیح مگر ہمیشہ آئینہ دکھاتی رہی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ جب سے طاقتور ہوا ہے اُس نے اُس وقت سے لے کر آج تک ہر آزاد ریاست میں کسی نہ کسی طرح مداخلت کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج کل پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور بزرگ سیاستدان جناب فرحت اللہ بابر کی حال ہی میں پبلش ہونے والی کتاب جو کہ خاص طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بارے میں لکھی گئی ہے " She walked into the fire " کہ بہت چرچے ہیں۔ جناب فرحت اللہ بابر نے اس میں بہت سے انکشافات کیے ہیں۔ ان انکشافات کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ فرحت اللہ بابر وہ شخصیت ہیں جو کہ 1988 سے لے کر 2007 یعنی بے نظیر بھٹو کی شہادت تک 19 سال محترمہ کے ترجمان اور سپیچ رائٹر کی حیثیت سے محترمہ کے قریبی ترین ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
میاں محمد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں جب آصف علی زرداری جیل میں تھے تو محترمہ اپنے بچوں کو لے کر دبئی شفٹ ہوگئیں کیونکہ اُنہیں خطرہ تھا کہ کہیں ان کو بھی جیل میں نہ ڈال دیا جائے۔ کیونکہ انہی دنوں میں جسٹس قیوم سے محترمہ اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ لیے جانے کی تیاریاں ہو رہی تھی۔ لہذا آصف علی زرداری پہلے سے ہی جیل میں تھے اِس لیے محترمہ بے نظیر بھٹو کا خیال تھا کہ اگر ان کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا تو ان کے بچوں کی پرورش کون کرے گا اِس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ دبئی شفٹ ہوگئیں۔ اِس کے کچھ عرصے بعد ہی جن سے محترمہ کو خطرہ لاحق تھا اُن کو بھی جلا وطن کر دیا گیا یعنی میاں محمد نواز شریف کی دو تہائی سے بنی حکومت کو ختم کرکے اُن کے اپنے لائے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگا دیا۔ مارشل لا لگنے کے کچھ عرصے بعد ہی نائن الیون کا واقعہ ہوگیا جس نے اِس خطے کا سارا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا امریکہ بہادر نے پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے میں اپنی پالیسی واضح کرنے کا کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف درمیانی راستہ اپنانے کی آپ کو کوئی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 9/11 کے واقعے کے بعد پاکستان میں امریکی دلچسپی پہلے سے کئی زیادہ بڑھ گئی۔
لہذا امریکی انتظامیہ نے پاکستانی سٹیک ہولڈرز تک واضح پیغامات پہنچائے۔ جناب فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ جس کے بعد محترمہ نے مجھے امریکہ بھیجا جہاں پر میں نے ایک خفیا آدمی سے ملاقات کی۔ جس کا نام انہوں نے ظاہر تو نہیں کیا پُر اِسرار ہی رکھا لیکن اُسے مسٹر ٹی کے نام سے پکارتے رہے۔ اِس خفیہ آدمی کا یہ نام یعنی مسٹر ٹی محترمہ شہید نے دیا تھا۔ فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ جب مسٹر ٹی سے میری ملاقات ہوئی تو اُس نے مجھے واضح طور پر کہا پاکستان کے سیاست دان بہت کمزور ہو چکے ہیں اور اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور ہم پاکستان سے مذہبی انتہا پسندی کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے جنرل پرویز مشرف بہترین انتخاب ہیں لہذا بہتر ہوگا کہ محترمہ اِس کام میں ہمارا ساتھ دیں نہیں تو ان کے بغیر بھی ہم یہ کام تو سر انجام دے ہی لیں گے اور بہت واضح طور پر کہا کہ محترمہ 2007 تک پاکستان آنے کا بالکل بھی نہ سوچیں۔ جس کے بعد فرحت اللہ بابر حیران ہوئے اور بار بار پوچھتے رہے کہ 2007 آنے میں تو ابھی چھ سال ہیں کیونکہ یہ دسمبر 2001 کی بات تھی جس پر مسٹر ٹی نے کہا کہ جی بالکل چھ سال ان کو ملک سے باہر ہی رہنا ہوگا۔ مسٹر ٹی نے مزید کہا امریکہ کی پہلی ترجیح پاکستان میں جمہوریت کی بحالی نہیں بلکہ پہلی ترجیح شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ جس میں امریکہ کا اصل مقصد تو نائن الیون کے عناصر سے بدلہ لینا تھا۔ لہذا مسٹر ٹی نے کہا کہ کیونکہ پاکستانی سیاستدان اپنی ساکھ کھو چکے ہیں لہذا موجودہ نظام کے ذریعے ہی شدت پسندی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اس میں سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ جو دنیا بھر میں جمہوریت کا بڑا چیمپین بنتا ہے اُس کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی کسی بھی آزاد ریاست میں جمہوریت کا خواہاں نہیں رہا بلکہ ہمیشہ اپنے مفادات کو حاصل کرنا اس کی پہلی ترجیح رہی ہے اور کیونکہ جنرل پرویز مشرف کو بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکی آشیرباد حاصل ہونا ضروری تھی لہذا وہ بھی امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے گئے۔
محترمہ کی کہانی کوئی ایسی کہانی نہیں جسے جان کر حیرت میں مبتلا ہوا جائے بلکہ پاکستان کے اکثر سیاست دانوں کی کہانی اس سے ملتی جلتی ہی ہے یعنی آپ اندازہ کریں کہ امریکی انتظامیہ کا ایک نمائندہ محترمہ کے نمائندے کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ الیکشن تو 2002 میں ہو جائیں گے مگر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو ان الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی یعنی اسمبلیاں موجود ہوں گی لیکن جمہوریت پسند جمہوریت ڈھونڈتے پھریں گے اور محترمہ کو یہ بھی پیغام دیا کہ اگر محترمہ 2007 سے پہلے پاکستان جانے کی کوشش کرتی ہیں یا ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتی تو ان کی پارٹی کو توڑ دیا جائے گا جس کو بعد میں کسی حد تک توڑ بھی دیا گیا۔ لہذا محترمہ بے نظیر بھٹو کا 2007 تک جلا وطن رہنا اور 2007 میں واپسی محض پرویز مشرف سے مذاکرات کے بعد ممکن نہیں ہوئی تھی بلکہ محترمہ کو دسمبر 2001 میں ہی بتا دیا گیا تھا کہ آپ کی پاکستان میں واپسی 2007 میں ہی ممکن ہو سکے گی۔ پھر 2007 میں جب وہ واپس آئیں تو 27 دسمبر 2007 کو اُسی لیاقت باغ راولپنڈی میں انہیں شہید کر دیا گیا جس میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تھا۔
امریکہ کا بد نما چہرہ جو آج دنیا دیکھ رہی ہے یہ شروع سے ہی ایسا ہے۔ یعنی آپ اندازہ کریں کہ یہ کہاں کی جمہوریت پسندی ہے کہ ایک آزاد ریاست (وینز ویلا) میں گُھس کر اُس کے منتخب صدر کو اغوا کر لینا اور الزامات وہی پرانے اور بناوٹی جس طرح پاکستان میں ایک زیر عتاب سیاسی جماعت کے رہنماؤں پر بناوٹی الزامات لگا کر اور مختلف قسم کے مقدمات بنا کر گرفتار کیا جاتا ہے۔ یہ کہاں کی انصاف پسندی ہے بلکہ یہ تو سراسر بدمعاشی ہے جو امریکہ سرعام کرتا پھر رہا ہے اور اس سے پہلے بھی کتنی مثالیں موجود ہیں جہاں وہ سرِعام مداخلت کرتا نظر آتا رہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں اِس نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہی ہے کہ یہاں موجود سٹیک ہولڈرز میں سے کوئی نہ کوئی ایک سٹیک ہولڈر کسی نہ کسی طرح پاکستانی مقتدر حلقوں سے لے کر بین الاقوامی مقتدر حلقوں تک اپنی راہ کو ہموار کرنے میں لگا رہتا ہے اور دوسروں کو گرانے کے چکر میں رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے مقتدر حلقوں کے پاس اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار آ جاتا ہے۔ پاکستان میں موجود ہر چائے کے ڈھابے پر بات کرتے افراد جو بھلے تعلیم کے زیور سے زیارہ آراستہ نہ ہوں لیکن وہ اتنے شعور کے حامل ضرور ہو گئے ہیں کہ وہ آپ کو یہ بات کرتے ضرور نظر آئیں گے کہ پاکستان میں ہر نئی بننے والی حکومت میں مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کا بھی کہیں نہ کہیں کردار ضرور موجود ہوتا ہے جبکہ یہی بات جناب فرحت اللہ بابر کے انکشافات سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
کسی بھی ریاست میں کسی بھی بیرونی طاقت کا مقابلہ کرنے یا اس کو ریزسٹ کرنے کی ہمت اس وقت پیدا ہوتی ہے یا پھر آپ کہہ لیں کہ اس وقت وہ اس قابل بنتی ہے یا تو وہ بہت ہی زیادہ طاقتور ہو کہ کوئی بھی اس میں مداخلت کرنے کا سوچے بھی نہ یا پھر جب اس ریاست میں اندرونی طور پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہو اور اس کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہوں جو کہ ایک خیالی بات ہی معلوم ہوتی ہے۔ نہیں تو پھر یہ تو دستور طاقت ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے کمزور کو اپنے مطابق ہی چلانا چاہتی ہے۔ پھر چاہے وہ امریکہ بہادر ہو یا کوئی اور طاقتوار وہ ہمیشہ اپنے سے کمزور ہر ریاست کو اپنے مطابق چلانے کا خواہش مند ہی رہے گا پھر چاہے اس کے لیے اسے اخلاقی طور پر جتنا بھی گرنا پڑے۔

